شجر الدر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شجر الدر
(عربی میں: شجر الدر‎ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Dinar sheger ed durr.jpg 

معلومات شخصیت
وفات 28 اپریل 1257  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات ضرب بدن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن قاہرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Mameluke Flag.svg سلطنت مملوک[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
شوہر الملک الصالح نجم الدین ایوب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،  وملکہ[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات

الملكۃ عصمۃ الدين أم خليل شجر الدر کا شمار تاریخ اسلام کی نہایت اہم ترین خواتین میں ہوتا ہے۔ تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر جب ایوبی سلطنت تقریباً ختم ہو چکی تھی اور مسیحی بیت المقدس پر قبضے کے لیے مسلسل آگے بڑھ رہے تھے سلطانہ شجرالدر نے اپنی ذہانت سے ان کا راستہ اس وقت تک روکا جب تک کہ مملوکوں نے حقیقی کمان نہ سنبھال لی۔

پس منظر[ترمیم]

شجر الدر ایک باندی تھیں جنہیں الصالح ایوب نے الکرک سے 1239ء میں اس وقت خریدا تھا جب وہ سلطان نہیں بنے تھے۔ جب وہ سلطان مصر و شام بن گئے تو شجر الدر بھی ان کے ساتھ مصر آ گئیں۔ یہاں انہوں نے سلطان کے بیٹے خلیل کو جنم دیا۔ خلیل آگے چل کر الملک المنصور کے نام سے مشہور ہوئے۔ شجر الدر کا تعلق ترک نسل سے تھا اور وہ ایک خوبصورت اور ذہین خاتون تھیں۔ اپریل 1249ء میں سلطان الصالح شام میں شدید بیمار ہو گئے۔ وہ مصر واپس آئے اور دمياط‎ کے قریب اشمم التنھ میں قیام کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب فرانس کا بادشاہ لوئیس نہم نے مسلمانوں کے خلاف ساتویں صلیبی جنگ شروع کی ہوئی تھی۔ اس نے مصر پر حملہ کر دیا۔ جون 1249ء میں اس نے دمیاط فتح کر لیا۔ 22نومبر 1249ء کو سلطان الصالح دس سال تک حکومت کے بعد انتقال کر گئے۔ اس کڑے وقت میں شجر الدر نے فوری طور پر سپہ سالار امیر فخرالدین یوسف بن شیخ اور محلات کے نگران طواشی جمال الدین محسن کو اطلاع کی۔ لیکن ملکی حالات کے پیش نظر اس خبر کو عام نہیں کیا گیا۔ سلطان کی میت خفیہ طور پر الرود کے قلعے میں پہنچا دی گئی۔

بیماری کے باوجود سلطان نے کسی کو اپنا جانشین نہیں بنایا تھا۔ اس لیے فوراً سلطان کے بیٹے المعطم توران شاہ کو حسن کیفہ سے بلایا گیا۔ مرنے سے پہلے سلطان نے ہزاروں خالی کاغذات پر دستخط کیے تھے۔ وفات کے بعد انہی کاغذات پر شجر الدر نے احکامات جاری کیے اور لوگوں کو یہ پتہ نہ چل سکا کہ سلطان وفات پا گئے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://www.oxfordreference.com/view/10.1093/acref/9780195382075.001.0001/acref-9780195382075 — مصنف: ایمائنول کواکو اور ہینری لوئس گیٹس — عنوان : Dictionary on African Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریسISBN 978-0-19-538207-5