شرح تدبیرات الہیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شیخ اکبر کی کتاب تدبیرات الہیہ پر متعدد شروحات لکھی گئیں اس میں ایک شرح شیخ عبد الغنی النابلسی کے شاگرد رشید شیخ البیتامی نے کی ہے جس کا عنوان ہے :"الفتوحات الربانیة فی شرح التدبیرات الالہیہ"

شارح کا مقدمہ[ترمیم]

اس شرح کے بارے میں شیخ البیتامی لکھتے ہیں: جان لے کہ میں نے قطب العارفین نخبہ العلماء والمحققین الشیخ محی الدین ابن العربی الطائی الاندلسی قدس اللہ سرہ کی اس لطیف کتاب اور شریف متن پر جو تعلیقات ثبت کی ہیں وہ اپنے احباب کے ساتھ مشورہ کر لینے اور اپنے شیخ عارف باللہ المحقق المدقق مولانا الشیخ عبد الغنی ابن الشیخ اسماعیل النابلسی قدس اللہ سرہ کے سامنے اس متن کو پڑھ لینے کے بعد ہیں۔ یہ تمام عمل صالحیہ دمشق میں شیخ کے گھر میں ایک عظیم محفل میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔ ہم نے تدبیرات الہیہ کتاب کے بہت سے نسخے اکٹھے کیے حالانکہ نسخوں میں فرق نمایاں تھا لیکن شیخ کی توجہ اور برکت سے ہم درست متن ترتیب دینے میں کامیاب ہوئے اور پھر میں نے اس درست متن پر یہ شرح لکھی۔ یہ شرح زیادہ تر شیخ عبد الغنی النابلسی کی لکھوائی ہوئی ہے اسی لیے جو تسلیم و اخلاص سے اسے سمجھنے کی کوشش کرے گا یہ اس کی کفایت کرے گی اور جو اس سے اپنے دل کے روگ کا علاج کرنے کی کوشش کرے گا یہ اسے شفا بخشے گی۔

کلید فہم[ترمیم]

صاحب عقل حضرات میں سے جو اپنی عقل اور رائے سے اس میں غور کرنا چاہے گا تو اس پر معانی کھلنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ عقل تو عالم اجسام میں مربوط اور مقید ہے جبکہ ان معانی کا تعلق عالم ارواح اور معانی سے ہے۔ یہ معانی عارفین اور اصطلاحات قوم سے واقف لوگوں کے نزدیک واضح اور درست ہیں اور کتاب و سنت سے سند یافتہ ہیں۔ یہ بھی جان لے کہ مجھے یہ سعادت اور یہ شرح لکھنے کی توفیق اپنے انہی شیخ کی برکت سے ہوئی، ان کا ادب کرنے اور ان سے تربیت پانے کی وجہ سے، جیسا کہ کہا گیا ہے: اگر مربی نہ ہوتا تو میں اپنے رب کو نہ پہچانتا اور جس کا کوئی شیخ نہیں اس کا شیخ شیطان ہے۔

تدبیرات الہیہ کا تعارف[ترمیم]

یہ بھی جان لے کہ یہ عظیم کتاب شیخ اکبر محی الدین ابن العربی  کی کتابوں میں ایک نمایاں کتاب ہے جو حقائق سلوک، آداب شرعیہ، مجاہدہ، باطنی تدبیر و سیاست اور ظاہری رابطوں پر مشتمل ہے۔ یہ گمراہ کے لیے نشانی اور سالک کے لیے مرشد کی حیثیت رکھتی ہے، اسی طرح یہ حاضرت معرفت میں داخلے کا دروازہ ہے۔ اور اس کے مصنف شیخ اکبر محی الدین ابن العربی  تو علوم کا سمندر اور مفہوم کا با غ ہیں ،آپ کے اسرار حیران کن اور معارف ظاہر ہیں۔ غافلین اور منکرین میں سے جو بھی آپ کے علوم کا انکار کرتا ہے تو اس کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہے وہ غلامی نفس میں محبوس ہے، نہ وہ آپ کے حال سے واقف ہے اور نہ ہی آپ کے علم اور قول سے واقف ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایک جماعت نے شیخ اکبر کے بارے میں کلام کر کے دنیا اور آخرت کی گمراہی خرید لی ہے۔ اللہ تعالی ہمیں ان جاہلوں اور گمراہوں کے شر سے بچائے۔

تاریخ اکمال[ترمیم]

یہ شرح محض اللہ تعالی کی مدد اور حسن توفیق سے مکمل ہوئی اور میں نے اس کو لکھتے وقت کسی کتاب کا سہارا نہیں لیا، بلکہ یہ تو رب الوہاب کا فیض ہے؛ اسی لیے اللہ تعالی نے مجھ سے درست بات لکھوائی۔ اور درود ہوں ہمارے آقا محمد  خاتم النبین، آپؐ کی آل اور تمام اصحاب پر۔ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے جس کی نعمت سے تمام صالح اعمال اپنی تکمیل کو پہنچتے ہیں اور وہ رب العالمین ہے۔ اللہ کی توفیق اور امداد سے کتاب کی شرح جمعہ یکم رجب المبارک سن 1048 ھ کو پایہ تکمیل تک پہنچی۔ اللہ سے دعا ہے کہ جو اسے تھام لے یہ اس کے لیے رہنمائی کا سبب بنے، سفر طریقت میں اس کے لیے روشن چراغ، روحانی مراتب کے حصول کے لیے غیر متزلزل سیڑھی اور حقائق توحید پر ثابت قدمی کے لیے مرشد اور دلیل ہو۔ ولا حول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم وھو حسبنا ونعم الوکیل نعم المولی ونعم النصیر۔

بیرونی روابط[ترمیم]

ناشر : ابن العربی فاونڈیشن پاکستان

حوالہ جات[ترمیم]