شرح عقائد نسفیہ(کتاب)
| شرح عقائد نسفیہ(کتاب) | |
|---|---|
| (عربی میں: شَرْحُ الْعَقَائِدِ النَّسَفِيَّة) | |
| مصنف | سعد الدین تفتازانی |
| اصل زبان | عربی |
| موضوع | اسلامی عقیدہ |
| او سی ایل سی | 875095558، 1371025 |
| درستی - ترمیم | |
شرح عقائد نسفیہ امام سعد الدین تفتازانی کی لکھی ہوئی توحید اور اسلامی عقائد پر مشتمل ایک کتاب عقائد نسفیہ کی شرح ہے۔ یہ ماتریدی عقائد میں سب سے اہم نصوص میں سے ایک سمجھی جاتی ہے اور یہ اس کا ایک خلاصہ ہے۔ [1] [2]
کتاب کا مواد
[ترمیم]یہ کتاب درج ذیل مباحث و عقائد پر مشتمل ہے:
- اشیاء کی حقیقتوں کے بارے میں عقیدہ
- علم کے اسباب
- کائنات کا حادث ہونا
- کائنات کی تقسیم: اجسام و اعراض
- اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق ہے
- اللہ واحد ہے
- اللہ قدیم ہے
- اللہ تعالیٰ کی صفات: حیات، قدرت، علم، سمع، بصر، مشیئت
- اللہ کی قدرت اور علم سے کچھ باہر نہیں
- اللہ کی صفات ازلی اور قائم بالذات ہیں
- قرآن اللہ کا غیر مخلوق کلام ہے
- "تکوین" اور "کلام" اللہ کی صفات ہیں
- رؤیتِ باری تعالیٰ
- افعالِ بندہ اور اللہ کی تخلیق
- بندے کے افعال میں اختیار
- اللہ بندے کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا
- موت کا وقت مقرر ہے
- حرام بھی رزق میں شامل ہے
- ہدایت و ضلالت اللہ کے اختیار میں
- اللہ پر "اصلح" لازم نہیں
- قبر کا عذاب و ثواب
- میزان (ترازو)
- اعمال نامہ
- سوال، حوض، صراط
- جنت و دوزخ
- کبیرہ گناہ
- ایمان و اسلام
- رسالت
- نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے دلائل
- انبیا کی تعداد
- فرشتے اور آسمانی کتابیں
- واقعہ معراج
- اولیاء کی کرامات
- خلفائے راشدین اور خلافت
- امام کی شرائط
- نیک و بد کے پیچھے نماز
- صحابہ کا ادب
- عشرہ مبشرہ
- مسحِ خفین
- نبیذِ تمر
- ولایت و نبوت
- امر و نہی ساقط نہیں ہوتا
- قرآن و سنت پر ظاہر کا اعتماد
- اللہ کی رحمت سے مایوسی
- اہلِ قبلہ کی تکفیر نہیں
- غیب کی خبریں ماننا کفر
- معدوم کوئی چیز نہیں
- مُردوں کے لیے دعا و صدقہ
- اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے
- قیامت کی نشانیاں
- اجتہاد میں خطا و صواب
- رسلِ بشر، رسلِ ملائکہ اور عوام کی افضلیت[3]
تصنیف کا سبب
[ترمیم]امام سعد الدین تفتازانی نے امام نجم الدین عمر النسفی کی عقائد کی کتاب کی شرح لکھنے کا سبب خود بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے اس کتاب کی شرح اس غرض سے لکھی کہ اس کے مجمل مقامات کو تفصیل سے بیان کروں، مشکل امور کو واضح کروں، پوشیدہ نکات کو سامنے لاؤں اور اس کے مضمر معانی کو ظاہر کروں؛ ساتھ ہی ساتھ میں نے کوشش کی کہ عبارت میں نکھار ہو، مفہوم میں وضاحت ہو، مسائل کی تحقیق کے ساتھ بیان ہو، دلائل کی باریکیوں کو نکھارا جائے، مقاصد کو مقدمات کے بعد واضح کیا جائے اور فوائد کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے، اس کے باوجود اختصار کو ملحوظ رکھا، طوالت اور اکتاہٹ سے اجتناب کیا، نیز نہ ضرورت سے زیادہ طوالت اختیار کی اور نہ خلل انداز اختصار کیا…[4]
شروحات
[ترمیم]* حاشیہ بر شرح العقائد النسفیة، عز الدین محمد بن أبی عبد العز بن جماعة (متوفی 819ھ)۔
- حاشیہ بر شرح النسفیة، أحمد البردعی (متوفی بعد 850ھ)۔
- حاشیہ بر شرح النسفیة، خضر شاه المنتشاوی (متوفی 853ھ)۔
- حاشیہ بر شرح العقائد النسفیة للسعد التفتازانی، شمس الدین أحمد بن موسی الخیالی الرومی الحنفی (متوفی 870ھ) اور اس حاشیہ کے کئی ذیلی حواشی:
- القول الوفی فی شرح عقائد النسفی (حاشیہ بر حاشیہ الخیالی)، محمد بن قاسم الغزی (متوفی 918ھ)۔
- حاشیہ بر حاشیہ الخیالی، إسماعیل القرمانی المعروف بقره كمال (متوفی 920ھ)۔
- حاشیہ بر الخیالی، لطف الله بن إلياس الرومی (متوفی بعد 930ھ)۔
- حاشیہ بر حاشیہ الخیالی، أحمد بن محمد بن خضر المعروف بقول أحمد (متوفی 785ھ یا 950ھ)۔
- حاشیہ بر حاشیہ الخیالی، رمضان بن محمد الحنفی المعروف ببهشتي (متوفی 979ھ)۔
- حاشیہ بر حاشیہ الخیالی، كمال الدین یوسف بن محمود الصوفی الشاہوی الشافعی الكردی (متوفی تقریباً 1000ھ)۔
- بحر الأفكار (حاشیہ بر حاشیہ الخیالی)، حسن بن حسین بن محمد۔
- حاشیہ بر حاشیہ الخیالی، الملا أحمد بن جنید۔
- حاشیہ بر الخیالی، حکیم عجم۔
- حاشیہ بر حاشیہ الخیالی، حسین الخلخالی (متوفی 1014ھ)۔
- حاشیہ بر حاشیہ الخیالی، المولى یوسف بن محمد خان المعروف بالقرة باغی (متوفی 1030ھ)۔
- زبدة الأفكار (حاشیہ بر حاشیہ الخیالی على شرح التفتازانی)، عبد الحكيم بن محمد السيالكوتی (متوفی 1067ھ) اور اس پر درج ذیل حواشی:
- حاشیہ بر حاشیہ السيالكوتی، محمد أمين بن محمد الأسكداری المعروف بقصيري زاده (متوفی 1151ھ)۔
حوالہ جات
[ترمیم]بیرونی روابط
[ترمیم]