شرلاک (ٹی وی سیریز)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شرلاک (Sherlock)
لندن کے افق کا ایک منظر، جس پر سیاہ حروف میں ’’شرلاک‘‘ لکھا ہوا ہے
لندن کے افق کا ایک منظر، جس پر سیاہ حروف میں ’’شرلاک‘‘ لکھا ہوا ہے
نوعیت جرائم ڈراما
تخلیق کار
بنیاد شرلاک ہولمز 
از آرتھر کونن ڈویل
تحریر
نمایاں اداکار
موسیقار
نشر
  • مملکت متحدہ
  • ریاست ہائے متحدہ
زبان انگریزی
تعداد سیریز 4
اقساط 13 (اقساط کی فہرست)
تیاری
عملی پیشکش
فلم ساز
مدیر
عکس نگاری
کیمرا ترتیب واحد کیمرا
دورانیہ 85–90 منٹ
پروڈکشن ادارہ
نشریات
چینل
تصویری قسم 576i50
1080i50 ( HDTV )
صوتی قسم آوازِ مجسم
25 جولائی 2010 (2010-07-25) – تا حال
بیرونی روابط
ویب سائٹ
پی بی ایس دفتری ویب سائٹ

شرلاک ایک جرائم ڈراما ٹیلی ویژن سیریز ہے جو سر آرتھر کونن ڈویل کے معروف فرضی سراغ رساں کردار، شرلاک ہولمز کی کہانیوں پر مبنی ہے۔ اسٹیون موفیٹ اور مارک گیٹیس کے تخلیق کردہ اس ڈرامے میں، بینڈکٹ کمبربیچ نے شرلاک ہولمز اور مارٹن فریمین نے ڈاکٹر جان واٹسن کا کردار نبھایا ہے۔ 2010ء-2017ء کے دوران، چار سیریز کے تحت اس سلسلے کی تیرہ اقساط نشر ہوچکی ہیں۔ ہر سیریز تین حصوں یا اقساط پر مشتمل تھی، جبکہ ایک خصوصی قسط یکم جنوری 2016ء کو نشر کی گئی۔[2]

شرلاک ہولمز کی اصل کہانیاں وکٹوریائی عہد کے زمانے کا قصہ بیان کرتی ہیں، جبکہ اس ڈرامے میں شرلاک کو دورِ حاضر میں دکھایا گیا ہے۔ یہ برطانوی ادارے، بی بی سی، امریکی اسٹیشن ڈبلیو جی بی ایچ-ٹی وی، اور ہارٹس ووڈ فلمز کی مشترکہ پروڈکشن ہے جبکہ موفیٹ، گیٹیس، سو ورچیو اور ربیکا ایٹون ایگزیکٹیو پروڈیوسر ہیں۔[3][4] ڈرامے کی مرکزی عکس بندی کارڈف، ویلز میں ہوئی، جبکہ ہولمز اور واٹسن کی رہائش گاہ، 221-بی بیکر اسٹریٹ کے لیے لندن کی شمالی گوور اسٹریٹ پر فلمائے گئے ہیں۔

اس ٹی وی سلسلے نے ناقدین کو بہت متاثر کیا اور اس کی تحریر، اداکاری، اور ہدایت کاری کے معیار کو بے حد سراہا گیا۔ ’’شرلاک‘‘ کو کئی اعزازات کے لیے نامزد کیا گیا، جن میں برٹش اکیڈمی ٹیلی ویژن ایوارڈ، ایمی ایوارڈ، اور گولڈن گلوب ایوارڈ شامل ہیں۔ 66ویں پرائم ٹائم ایمی ایوارڈز کے موقع پر، یہ ٹی وی سلسلہ 3 زمروں کے تحت اعزازات اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا، جن میں مختصر سیریز، مووی یا ڈرامے کے لیے عمدہ تحریر (موفیٹ)، مختصر سیریز یا فلم میں عمدہ مرکزی اداکار (کمبربیچ)، اور مختصر سیریز یا فلم میں عمدہ معاون اداکار (فریمین) کے اعزازات شامل تھے۔ 2011ء میں اس ٹی وی سلسلے کو پی باڈی اعزاز سے نوازا گیا۔[5] اس کی تیسری سیریز 2001ء سے برطانیہ کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی سیریز بن گئی۔ ’’شرلاک‘‘ 200 سے زائد خطوں میں فروخت ہوا۔[6]

ڈرامے کی تمام سیریز ڈی وی ڈی اور بلیو-رے پر پیش کی جاچکی ہے، جن میں کونن ڈویل کی اصل کہانیاں اور ڈیوڈ آرنلڈ اور مائیکل پرائس کے ترتیب دیے گئے اصل گیت شامل ہیں۔ جنوری 2014ء میں، ڈرامے کی باضابطہ موبائل ایپ، ’’شرلاک: دی نیٹورک‘‘ جاری کی گئی۔[7]

مقدمہ[ترمیم]

شرلاک ہولمز (بینڈکٹ کمبربیچ) ’’مشاورتی سراغ رساں‘‘ ہے جو دورِ حاضر کے جدید لندن میں متعدد معمے حل کرتا ہے۔ ہولمز کو اپنے فلیٹ کے ساتھی اور دوست، ڈاکٹر جان واٹسن (مارٹن فریمین) کی معاونت حاصل ہے جو رائل آرمی میڈیکل کورپس کے ساتھ افغانستان میں فوجی خدمات سر انجام دے کر لوٹا ہے۔ اگرچہ ابتدا میں، میٹروپولیٹن پولیس سروس کا انسپکٹر لیسٹراڈ (روپرٹ گریوز) اور دیگر ہولمز ہی پر شک کرتے ہیں، تاہم اس کی غیر معمولی ذہانت اور مشاہدے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے وہ اس کی قدر کرنے لگتے ہیں۔ واٹسن اپنے بلاگ پر ہولمز کے قصے شائع کرتا ہے، جس سے ہولمز معروف ہوجاتا ہے۔ چنانچہ برطانوی حکومت اور عام لوگ اس سے مدد کی درخواست کرتے ہیں۔

یوں تو سیریز میں متعدد جرائم اور مجرمان دکھائے گئے ہیں، تاہم ہولمز کا جانی دشمن، جم موریارٹی (اینڈریو اسکاٹ) کئی بار اس کے مقابل آتا ہے۔ سینٹ بارتھولومیوز ہسپتال کی ماہر امراضیات، مولی ہوپر (لوئیس بریلے) کئی مقدمات میں ہولمز کی معاونت کرتی ہے۔ دیگر نمایاں کرداروں میں ہولمز اور واٹسن کی مالک مکان مسز ہڈسن (یونا اسٹبز)، اور ہولمز کا بڑا بھائی مائیکروفٹ (مارک گیٹیس) شامل ہیں۔

پروڈکشن[ترمیم]

تصور اور ابتدائی مراحل[ترمیم]

اس سیریز کا خیال اسٹیون موفیٹ اور مارک گیٹیس کو سوجھا، جو شرلاک ہولمز کے مداح اور وکٹوریائی ادب کو ٹیلی ویژن پر پیش کرنے کا تجربہ رکھتے تھے۔[8][9] موفیٹ اس سے قبل، ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ کا انوکھا معاملہ 2007ء کے ٹی وی سلسلے، جیکل کے لیے ڈھال چکے تھے، جبکہ گیٹیس نے ڈاکٹر ہو کی ایک قسط ’دی انکوائیٹ ڈیڈ‘ (The Unquiet Dead) لکھی تھی۔ موفیٹ اور گیٹیس، دونوں ہی ’’ڈاکٹر ہو‘‘ کے لکھاریوں میں شامل تھے، اور اس کی پروڈکشن کے لیے بذریعہ ٹرین کارڈف کا مستقل سفر کرتے تھے۔[10] اسی دوران دونوں نے ہولمز کو ٹی وی پر پیش کرنے سے متعلق تبادلۂ خیال کیا۔

مونٹی کارلو میں ایک ایوارڈ تقریب کے موقع پر، پروڈیوسر سو ورچیو نے، جو موفیٹ کی اہلیہ ہیں، موفیٹ اور گیٹیس کو ترغیب دی کہ اس سے پہلے کوئی دوسری ٹیم اس خیال پر کام شروع کرے، انھیں چاہیے کہ وہ اس منصوبے کو آگے بڑھائیں۔[11] چنانچہ دونوں نے اسٹیفن تھومپسن کو ستمبر 2008ء میں اس سیریز کی کہانی لکھنے کی دعوت دی۔[12]

گیٹیس حال ہی میں کونن ڈویل کی ٹی وی پر پیش کردہ کہانیوں سے مطمئن نہیں تھے اور ان کے مطابق وہ بہت سست اور ڈویل کے زمانے کی عکاس تھیں۔ بینڈکٹ کمبربیچ کا شرلاک جرائم کے معمے حال کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بشمول پیغام رسانی، انٹرنیٹ، اور جی پی ایس کا استعمال کرتا ہے۔[8] شرلاک کی دو اقساط کی ہدایات دینے والے، پال مک گوئیگن کے مطابق، ایسا کونن ڈویل کے کردار کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کیونکہ کتابوں میں وہ (شرلاک) ہر ممکن یا دستیاب آلے کا استعمال کرتا تھا اور تجربہ گاہ میں ہر وقت تجربات کرتا رہتا تھا۔ لہٰذا یہ اس کا جدید ورژن ہے۔ اگر وہ اس زمانے میں ہوتا تو سراغ رسانی کے لیے دورِ حاضر کا ہر دستیاب ٹول استعمال کرتا۔[13]

شرلاک کا یہ جدید ورژن کہانی کے بعض روایتی عناصر بھی قائم رکھتا ہے، جیسے کہ بیکر اسٹریٹ کا پتا اور ہولمز کا مخالف کردار، موریارٹی۔ ڈاکٹر واٹسن (مارٹن فریمین) کا کردار افغانستان میں فوجی خدمات انجام دینے کے بعد لوٹا ہے[14]، جبکہ کہانی کا اصل واٹسن دوسری انگریز افغان جنگ (1878ء-1880ء) سے واپس آیا تھا۔

اگست 2008ء میں بین الاقوامی جشن ایڈنبرگ ٹیلی ویژن کے موقع پر ’’شرلاک‘‘ کا واحد 60-منٹ کی پروڈکشن کے طور پر اعلان کیا گیا،[9] جسے وسط تا اواخر 2009ء میں نشر کیا جانا تھا۔[15] ارادہ یہ تھا کہ اگر آزمائشی قسط (پائلٹ) کامیاب رہی تو 60 منٹ کی چھ اقساط پر مشتمل سیریز تیار کی جائے گی۔ دی گارڈین کے مطابق پائلٹ کے پہلے نسخے پر آٹھ لاکھ برطانوی پاؤنڈز کا خرچہ آیا جس سے بی بی سی اور میڈیا میں یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ ’’شرلاک‘‘ ممکنہ طور پر تباہی ثابت ہو سکتا ہے۔[16][17] بی بی سی نے پائلٹ کی بجائے، دوبارہ عکس بندی کرنے اور مجموعی طور پر 90 منٹ کی تین اقساط تیار کرنے کی درخواست کی۔[16][17] اصل پائلٹ قسط پہلی سیریز کی ڈی وی ڈی میں شامل کیا گیا تھا۔ تخلیقی ٹیم کے مطابق بی بی سی پائلٹ کے ساتھ ’’بہت خوش‘‘ تھا، لیکن اس نے سیریز کا انداز بدلنے کو کہا۔ جولائی 2009ء میں، بی بی سی کے شعبۂ ڈراما نے 90 منٹ کی تین اقساط کے منصوبوں کا اعلان کیا جنھیں 2010ء میں نشر ہونا تھا۔ موفیٹ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ اگر ’’شرلاک‘‘ کی سیریز کا پروانہ ملا تو گیٹیس ایگزیکٹیو پروڈیوسر کے فرائض سنبھالیں گے تاکہ وہ ’’ڈاکٹر ہو‘‘ پر توجہ دے سکیں۔[9]

کرداروں کے لیے اداکاروں کا انتخاب[ترمیم]

فلم ’’اٹونیمنٹ (2007ء) میں کمبربیچ کی اداکاری دیکھنے کے بعد موفیٹ اور ورچیو سب سے مرکزی کردار کے لیے کمبربیچ ہی کو منتخب کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ چنانچہ تخلیقی ٹیم کو اسکرپٹ پڑھ کر سنانے کے بعد انھیں منتخب کر لیا گیا۔ دی گارڈین کے مطابق، کمبربیچ انوکھے اور ذہین شخص کا کردار خوب نبھانے کی شہرت رکھتے ہیں اور ان کا شرلاک بے پروا اور ٹیکنالوجی والا ہے۔ کمبربیچ کا کہنا تھا کہ ’’دماغ میں الفاظ کی تعداد اور خیالات کی رفتار کے باعث، یہ کردار نبھاتے ہوئے آپ میں بہت زیادہ توانائی آجاتی ہے—آپ کو غیر معمولی حد تک تیز ربط بنانے ہوتے ہیں۔ وہ معمولی ذہانت رکھنے والے اپنے ناظرین اور اپنے اردگرد موجود افراد سے ایک قدم آگے رہتا ہے۔‘‘ بی بی سی کیمرو ویلز میں ڈرامے کی سربراہ، پیئرس وینگر کے نزدیک یہ سیریز شرلاک کو جدید زمانے کے سپر ہیرو کے طور پر پیش کرتی ہے جو خود پسند اور اور ذہین سراغ رساں ہے جس کی خواہش ہے کہ وہ خود کو مجرمان اور پولیس، بلکہ ہر شخص سے زیادہ چالاک ثابت کرے۔ سماجی رویوں اور نشریاتی ضوابط میں تبدیلیوں کے پیشِ نظر، کمبربیچ کا ہولمز پائپ پینے کی بجائے متعدد نکوٹین پیچز کا استعمال کرتا ہے۔ بقول موفیٹ، مصنفین کا ماننا تھا کہ شرلاک کو ’’ایک مکمل ماڈرن شخص‘‘ کی طرح بات نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ابتدا میں وہ چاہتے تھے کہ وہ بات کرتے ہوئے لیکچر دیتا ہوا بالکل محسوس نہ ہو۔ دوسری سیریز میں موفیٹ نے اسے مزید وکٹوریائی کردار بنایا اور کمبربیچ کی خوبصورت آواز پر توجہ دیتے ہوئے ایسا بنایا کہ وہ لیکچر دیتا ہوا محسوس ہو۔

دی آبزرور کے ساتھ گفتگو میں، شریک تخلیق کار مارک گیٹیس نے کہا کہ انھیں مرکزی کردار سے زیادہ، ڈاکٹر جان واٹسن کا کردار نبھانے والے کو ڈھونڈنا مشکل ثابت ہوا۔ پروڈیوسر سو ورچیو کا کہنا تھا کہ ’’بینڈکٹ وہ واحد شخص تھے جنھیں ہم نے شرلاک کے لیے دراصل دیکھ رکھا تھا۔۔۔ جب بینڈکٹ آ گئے تو ساری کوشش یہ تھی کہ جان (واٹسن) کی کیمسٹری مل جائے—اور میرے خیال میں وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوں تو آپ جان جائیں کہ یہ دونوں اکٹھے کام کرتے ہیں۔‘‘ واٹسن کا کردار نبھانے کے لیے کئی اداکاروں نے امتحان دیا، اور آخر یہ کردار مارٹن فریمین کے حصے میں آیا۔ بقول اسٹیون موفیٹ، میٹ اسمتھ اس امتحان میں ناکام رہنے والے پہلے شخص تھے۔ انھیں زیادہ ’’احمق‘‘ نظر آنے کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا۔ بعد ازاں، موفیٹ نے اسمتھ کو ’’ڈاکٹر ہو‘‘ میں گیارھویں ڈاکٹر کے طور پر منتخب کر لیا۔

بقول مصنفین، فریمین کے انتخاب سے، کمبربیچ کے ہولمز کا کردار نبھانے کی راہ ہموار ہوئی۔ دونوں کے درمیان دوستی کا تصور گیٹیس اور موفیٹ کو بہت بھایا۔ گیٹیس کا کہنا تھا کہ ’’واٹسن احمق ہرگز نہیں ہے، اگرچہ یہ درست ہے کہ کونن ڈویل ہمیشہ اسے نیچا دکھاتے ہیں، لیکن کوئی احمق ہی ہوگا جو اپنے اردگرد احمقوں کو جمع کر رکھے گا۔‘‘ موفیٹ کے نزدیک، فریمین ’’ہر معاملے میں بینڈکٹ کے برعکس ہے، سوائے صلاحیتوں کے۔۔۔‘‘ فریمین نے خود اپنے کردار کو شرلاک کے لیے ’’اخلاقی قطب نما‘‘ کے طور پر بیان کیا، کیونکہ شرلاک عموماً اپنے افعال کی اخلاقیات پر توجہ نہیں دیتا ہے۔

روپرٹ گریوز کو سراغ رساں انسپکٹر گریگ لیسٹراڈ کے کردار کے لیے منتخب کیا گیا۔ ابتدائی مراحل پر مصنفین نے اس کردار کو ’’انسپکٹر لیسٹراڈ‘‘ کا نام دیا تھا، تاہم گیٹیس کو خیال آیا کہ موجودہ انگلستان میں اس کردار کا منصب ’’سراغ رساں انسپکٹر‘‘ ہونا چاہیے۔ موفیٹ اور گیٹیس جانتے تھے کہ لیسٹراڈ کا کردار کہانیوں میں باقاعدگی سے ظاہر نہیں ہوتا، تاہم انھوں نے اس کردار کو وہ شکل دینے کا فیصلہ کیا جیسا اسے ’’دی ایڈونچر آف سکس نپولینز‘‘ میں پیش کیا گیا ہے، یعنی ایک ایسا شخص جو ہولمز سے تنگ بھی ہے لیکن اس کی صلاحیتوں کا معترف بھی ہے، اور ہولمز اسے اسکاٹ لینڈ یارڈ میں سب سے اچھا مانتا ہے۔ کئی امیدواروں نے اس کردار کے لیے امتحان دیتے ہوئے ظریفانہ انداز اپنایا، لیکن تخلیقی ٹیم کو وہ سنجیدگی اور متانت پسند آئی جو گریوز کے انداز میں تھی۔

اینڈریو اسکاٹ پہلی بار جم موریارٹی کے کردار میں ’’دی گریٹ گیم‘‘ میں جلوہ گر ہوئے۔ موفیٹ کے مطابق، ’’ہم شروع ہی سے جانتے تھے کہ ہم موریارٹی کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے۔ موریارٹی عموماً کچھ احمق اور کچھ خوش پوش بدمعاش ہے، لہٰذا ہم نے کسی ایسے شخص کے بارے میں سوچا جو حقیقتاً خوفناک لگتا ہو۔ کوئی ایسا جو پورا نفسیاتی ہو۔‘‘

دیگر اداکاروں میں یونا اسٹبز شامل ہیں (جو کمبربیچ کو چار سال کی عمر سے جانتی ہیں، کیونکہ انھوں نے کمبربیچ کی ماں، وینڈا وینتھم کے ساتھ کام کیا تھا) جنھوں نے مسز ہڈسن کا کردار نبھایا جبکہ مارک گیٹیس نے مائیکروفٹ ہولمز کا۔

ایمنڈا ابینگٹن، جو ان دنوں حقیقی زندگی میں بھی مارٹن فریمین کی شریکِ حیات تھیں، ڈرامے میں واٹسن کی محبوبہ اور پھر بیوی کا کردار نبھایا۔ تیسری سیریز میں، کمبربیچ کے حقیقی والدین، وینڈا وینتھم اور ٹھموتھی کارلٹن کو شرلاک اور مائیکروفٹ کے والدین کے طور پر متعارف کروایا گیا۔

پروڈکشن اور عکس بندی[ترمیم]

موسیقی[ترمیم]

اداکار[ترمیم]

کردار اداکار سیریز
سیریز 1
(2010)
سیریز 2
(2012)
سیریز 3
(2014)
خاص
(2016)
سیریز 4
(2017)
مرکزی
شرلاک ہولمز بینڈکٹ کمبربیچ1 مرکزی
جان واٹسن مارٹن فریمین مرکزی
گریگ لیسٹراڈ روپرٹ گریوز مرکزی
مسز ہڈسن یونا اسٹبز مرکزی
مائیکروفٹ ہولمز مارک گیٹیس2 مکرر مرکزی
مولی ہوپر لوئیس بریلے مکرر مرکزی
جم موریارٹی اینڈریو اسکاٹ مہمان مرکزی مکرر مہمان
میری مورسٹن ایمنڈا ابینگٹن مرکزی
مکرر
سیلی ڈونوون وینیٹ روبنسن مکرر مہمان
سارہ سیویئر زوئی ٹیلفورڈ مکرر مذکور
فلپ اینڈرسن جوناتھن ایریس مہمان مکرر مہمان
ایلا تانیا موڈی مہمان مہمان
اینتھیا لیزا مک ایلسٹر مہمان مہمان
مائیک اسٹیمفرڈ ڈیوڈ نیلسٹ مہمان مذکور مہمان
سراغ رساں انسپکٹر ڈیموک پال چیکر مہمان مہمان
آئرین ایڈلر لارا پلور مہمان تصویر مذکور
جینن ہاکنز یاسمین اکرم مکرر مہمان
مسز ہولمز وینڈا وینتھم مذکور مکرر مہمان
مسٹر ہولمز ٹموتھی کارلٹن مکرر مہمان
چارلز آگسٹس میگنوشن لارز میکلسن مکرر آرکائیو فوٹیج
ٹام ایڈ برچ مکرر
آرچی ایڈم گریوز-نیل مہمان
لیڈی اسمال ووڈ لنڈسے ڈنکن مہمان مکرر
سر ایڈوِن سائمن کنز مہمان مکرر
بل ویگینز ٹام بروک مہمان مہمان
یورس ہولمز سیان بروک3 مذکور مکرر

1 لوئیس اولیور اور ٹام ٹفٹن نے ماضی کی جھلکیوں میں نوجوان شرلاک ہولمز کا کردار نبھایا۔
2 ایرون رچرڈز نے ماضی کی جھلکیوں میں نوجوان مائیکروفٹ ہولمز کا کردار نبھایا۔
3 انڈیکا واٹسن نے ماضی کی جھلکیوں میں یورس ہولمز کی نوجوانی کا کردار نبھایا۔

اقساط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "SHERLOCK EDITOR YAN MILES WINS AN EDDIE AWARD" [شرلاک کی ایڈیٹر، ین مائلز نے ایڈی ایوارڈ جیت لیا] (انگریزی زبان میں)۔ ہارٹس ووڈ فلمز۔ 2 فروری 2015ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 مارچ 2017ء۔ 
  2. "MASTERPIECE and PBS Announce New “Sherlock” Special to Premiere on January 1" [ماسٹرپیس اور پی بی ایس کا یکم جنوری کو ’’شرلاک‘‘ کی نئی خصوصی قسط پیش کرنے کا اعلان] (انگریزی زبان میں)۔ پی بی ایس۔ 24 اکتوبر 2015ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 مارچ 2017ء۔ 
  3. "PBS & BBC Ink Multi-Title Co-Production Deal" [پی بی ایس اور بی بی سی نے متعدد عنوانات پر مشتمل مشترکہ پروڈکشن کے معاہدے پر دستخط کردیے] (انگریزی زبان میں)۔ ورائٹی ڈاٹ کام۔ 19 جنوری 2015ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 مارچ 2017ء۔ 
  4. "BBC, PBS Renew ‘Masterpiece’ Partnership" [بی بی سی اور پی بی ایس نے ’ماسٹرپیس‘ کے اشتراک کی تجدید کرلی] (انگریزی زبان میں)۔ دی ریپ ڈاٹ کام۔ 22 فروری 2010ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 مارچ 2017ء۔ 
  5. "Masterpiece: Sherlock: A Study in Pink (PBS)" [ماسٹرپیس: شرلاک: اے اسٹڈی ان پنک (پی بی ایس)] (انگریزی زبان میں)۔ پی باڈی ایوارڈز ڈاٹ کام۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 مارچ 2017ء۔ 
  6. "Sherlock in five languages - BBC Worldwide Showcase" [شرلاک پانچ زبانوں میں - بی بی سی ورلڈ شوکیس] (انگریزی زبان میں)۔ یوٹیوب۔ 223 فروری 2012ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 مارچ 2017ء۔ 
  7. "Sherlock: The Network app: 'It's a bit of Cumberbatch in your pocket'" [شرلاک: دی نیٹ ورک ایپ: ’کمبربیچ آپ کی جیب میں‘] (انگریزی زبان میں)۔ ڈیجیٹل اسپائی ڈاٹ کام۔ 20 جنوری 2014ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 مارچ 2017ء۔ 
  8. ^ ا ب "Sherlock Holmes is back… sending texts and using nicotine patches" [شرلاک واپس آچکا ہے۔۔۔ ایس ایم ایس بھیجتا اور نکوٹین پیچز استعمال کرتا ہوا] (انگریزی زبان میں)۔ دی گارڈین۔ 18 جولائی 2010ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 مارچ 2017ء۔ 
  9. ^ ا ب پ "Doctor Who's Moffat to pen modern Sherlock Holmes" [ڈاکٹر ہو کے موفیٹ جدید شرلاک ہولمز تحریر کریں گے] (انگریزی زبان میں)۔ براڈکاسٹ ناؤ۔ 23 اگست 2008ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 مارچ 2017ء۔ 
  10. "Benedict Cumberbatch, Martin Freeman star in new BBC Sherlock Holmes drama filmed in Cardiff" [کارڈف میں فلمائے جانے والے نئے بی بی سی شرلاک ہولمز ڈرامے میں بینڈکٹ کمبربیچ اور مارٹن فریمین جلوہ گر ہوں گے] (انگریزی زبان میں)۔ ویلز آنلائن۔ 15 جنوری 2009ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 مارچ 2017ء۔ 
  11. سوئی ورچیو، اسٹیون موفیٹ، اور مارک گیٹیس۔ ڈی وی ڈی آڈیو کمنٹری برائے ’اے اسٹڈی ان پنک‘۔
  12. اسٹیو تھومپسن: آرتھر کونن ڈویل (2012) [1894]۔ شرلاک ہولمز کی یادداشتیں۔ شرلاک۔ بی بی سی بکس۔ صفحات vii–ix۔ آئی ایس بی این 1-84990-406-5۔ 
  13. "Times have changed but crimes are the same for new Sherlock Holmes" [وقت بدل چکا ہے لیکن نئے شرلاک ہولمز کے لیے جرائم وہی ہیں] (انگریزی زبان میں)۔ دی ہیرالڈ۔ 19 جولائی 2010ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 مارچ 2017ء۔ 
  14. "Life outside The Office for Martin Freeman" [مارٹن فریمین کے لیے دفتر سے باہر کی زندگی] (انگریزی زبان میں)۔ ویلز آنلائن۔ 16 اگست 2009ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 مارچ 2017ء۔ 
  15. "BBC to make a modern-day Sherlock Holmes" [بی بی سی جدید زمانے کا شرلاک ہولمز بنانے جارہا ہے] (انگریزی زبان میں)۔ دی ٹیلیگراف۔ 19 دسمبر 2008۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 مارچ 2017ء۔ 
  16. ^ ا ب "Replay the best of 2010" [2010ء کے بہترین پروگراموں کا جائزہ] (انگریزی زبان میں)۔ دی گارڈین۔ 26 دسمبر 2010ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 مارچ 2017ء۔ 
  17. ^ ا ب "The rebirth of Sherlock" [شرلاک کا دوبارہ جنم] (انگریزی زبان میں)۔ دی گارڈین۔ 2 ستمبر 2010ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 مارچ 2017ء۔ 

بیرونی روابط[ترمیم]