شرمسٹھا مکھرجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شرمسٹھا مکھرجی
Sharmistha Mukherjee.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 30 اکتوبر 1965 (57 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مغربی بنگال  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg ہندوستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد پرنب مکھرجی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ سویرا مکھرجی  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
ابھیجیت مکھرجی  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

شرمستھا مکھرجی (پیدائش 30 اکتوبر 1965) ایک بھارتی کتھک رقاصہ، کوریوگرافر اور انڈین نیشنل کانگریس کی سیاست دان ہیں۔

پارٹی کارکن سے تختی وصول کرتے ہوئے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

مغربی بنگال میں پیدا ہوئے، مکھرجی دہلی میں پلے بڑھے اور ان کی تعلیم سینٹ سٹیفن کالج، دہلی سے ہوئی۔ ان کے والد پرناب مکھرجی تھے جو جمہوریہ ہند کے 13 ویں صدر تھے۔[1]

رقص[ترمیم]

مکھرجی نے سال کی عمر میں رقص کی باقاعدہ تربیت شروع کی۔[2] ان کے اساتذہ میں پنڈت درگلال، ودوشی اوما شرما اور راجندر گنگانی شامل تھے۔[3] دی ہندو نے ان کی پرفارمنس کو "مکمل" قرار دیا اور اس کے درست فٹ ورک کی تعریف کی۔ [3]

سیاست[ترمیم]

شرمستھا نے جولائی 2014 ءمیں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ تب سے وہ پارٹی کی طرف سے منعقد کی جانے والی ریلیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں اور اپنے علاقے میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ نچلی سطح پر کام کر رہی ہیں۔[4] انھوں نے فروری 2015ء میں دہلی اسمبلی کا انتخاب گریٹر کیلاش حلقہ سے لڑا[5] لیکن ہار گئیں، سوربھ بھردواج ( اے اے پی، 57،589 ووٹ) اور راکیش گلایہ ( بی جے پی، 43،006 ووٹ) کے بعد 6,102 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہیں۔[6]

ان کے ابھیجیت مکھرجی نے جولائی 2021ء میں ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ انہوں نے کولکاتا میں باضابطہ طور پر ترنمول میں شمولیت اختیار کی۔ ابھیجیت کی ترنمول میں شمولیت کو کانگریس کے لئے ایک بڑا دھچکا سمجھا گیا، کیوں کہ وہ کئی دہائیوں سے کانگریس میں شامل تھے۔

تنازع[ترمیم]

شرمسٹھا نے 2016ء میں فیس بک پر اطلاع دی کہ ایک شخص پارتھ منڈل مجھے گندی سیکسوئل میسج بھیج رہا ہے۔ میں نے پہلے تو نظر انداز کیا اور پھر اس کو بلاک کر دیا۔ تاہم بعد میں مجھے لگا کہ میری خاموشی اسے مزید شکار کرنے کے لیے اکسا سکتی ہے۔ بلاک کرنا اور اطلاع دینا کافی نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ایسے لوگوں کو عوامی طور پر سامنے طور پر بے نقاب کرنا اور شرمندہ کرنا ضروری ہے۔ میں اس کے پروفائل اور میسج کا اسکرین شاٹ لگا رہی ہوں۔ میں نے اس کو ٹیگ بھی کر رہی ہوں۔ براہ کرم اس کو شیئر اور ٹیگ کریں، تاکہ ایسے واقعات کو کوئی ہلکے میں نہ لے۔

بعد میں میڈیا سے بات چیت میں شرمسٹھا نے کہا کہ میں پولیس میں جاؤں گی، میری طرح ہزاروں خواتین ہیں، جو اس کا شکار ہیں۔ کیوں کہ میں صدر جمہوریہ کی بیٹی ہوں، تو شاید پولیس تھوڑا ایکشن لے۔ میں اس صورت حال سے عام خاتون ہونے کے ناطے لڑنا چاہتی ہوں۔ میں صدر جمہوریہ کی بیٹی ہوں، اس لیے مجھے خاص برتاو نہیں چاہئے۔ میں درخواست کروں گی کہ اسی اسٹیج کا استعمال کر کے ایسے لوگوں کو بے نقاب کریں اور خاموش نہ بیٹھیں۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Pranab Mukherjee's daughter, Sharmistha Mukherjee joins protest against power outages". دی اکنامک ٹائمز. 14 جون 2014. 
  2. Sandhu، Veenu (5 اپریل 2013). "Sharmistha Mukherjee chose not to live in India's biggest house". Business Standard. 
  3. ^ ا ب Varma، P. Sujatha (21 جنوری 2012). "Hypnotic grace". دی ہندو. 
  4. Singh، Rohinee (14 نومبر 2014). "Sharmistha Mukherjee wants to be a mass leader". DNA. 
  5. "Sharmistha Mukherjee casts vote in GK, mum on Congress' prospects". زی نیوز. 7 فروری 2015. 
  6. "Sharmistha loses Greater Kailash, gets just 6,000 votes". Business Standard. 10 فروری 2015. 
  7. https://naqeebnews.com/vulgur-message-sent-to-presidents-daughter-sharmishta/