شرک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شرک نکلا ہے لفظ "شراکت" سے جس کا مطلب ہے ساجھے داری یا Partnership شریعت میں ،ظاہری اور باطنی عبادات کے کام جیسے ذبح،نذر ونیاز،دعا ڈر،خوف امید اورمحبت، جوصرف اورصرف اللہ کے لیےہونی چاہیے، وہ غیر اللہ کےلیےکی جائیں تو اسے شرک کہتے ہیں، شرک توحید کی مخالفت اور ضد کا نام ہے۔ شرک حقیقت میں یہ ہے کہ :مخلوق کی عبادت کی جائےاوراللہ کی تعظیم کرنے جیسا مخلوق کی تعظیم کی جائے، اللہ کے کاموں میں اللہ کےاسماء اوراللہ کی خاص صفتوں میں غیر اللہ کو شریک کیاجائے،

مثلاً اللہ تعالٰیٰ کے سوا کسی کو خالق حقیقی جاننا، اللہ تعالٰیٰ کے سوا کسی اور کے علم و اختیار کو ذاتی سمجھنا، اللہ تعالٰیٰ کے سوا کسی اور کو عبادت کے لائق سمجھنا یہ سب شرک ہے۔ قرآن حکیم میں ہے:

وَاعْبُدُوا اﷲَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِه شَيْئًا. [1]

ترجمہ: اور تم اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔

٭(( تنبیہ))٭ اللہ کے بعض نام اور صفتیں ایسی ہیں کہ بندے کا ان سے متصف ہونا لائق تعریف ہے جیسے علم،رحمت اور عدل۔ اور بعض نام اور صفتیں ایسی ہیں کہ ان سے بندوں کا متصف ہونا مذموم ہے جیسے الوہیت،جبروت اورتکبر، اسی طرح بندوں کی بعض صفتیں ایسی ہیں کہ بندوں کا متصف ہونا لائق تعریف اور مامور بہ ہے جبکہ اللہ تعالٰی کا ان سے متصف ہونا محال ہے،جیسے بندگی،مجبوری،حاجت مندی،دست درازی اور ذلت وخواری وغیرہ

٭اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ، شرک ہے، جیساکہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوے کہاتھا کہ بیٹے! تُو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا یقیناً شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔۔ دیکھئیے[2] اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیاکہ سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ تو آپ نے فرمایا "أن تجعل لله ندًّا وهو خلقك"یہ کہ تو اللہ کے ساتھ شریک ٹھرائے حالانکہ اسی نے تجھے پیدا کیا ہے،[3]

شرک کے اقسام[ترمیم]

شرک کی دو قسمیں ہیں: (۱) شرکِ اکبر:جس کامرتکب دائرۂ اسلام سے خارج ھوجاتا ہے،اللہ اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو نہیں بخشتا،اور اس کے سوا گناہ،جس کے چاہے بخش دیتا ہے،[4] اور اس شرک کی چار قسمیں ہیں(ا)دعا اور سوال میں شرک۔ (ب) نیت اور قصد وارادہ میں شرک۔۔(ج) اطاعت میں شرک،اس کی صورت یہ ہے کہ اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام ٹھرانے ،اور حرام کردہ چیز کو حلال ٹھرانے پر علماء کی اطاعت کی جائے۔ (د) محبت میں شرک، بایں طور کہ اللہ جیسی محبت، کسی مخلوق سے رکھی جائے۔ (۲)۔ شرکِ اصغر:جس کا مرتکب دائرۂ اسلام سے باہر نہیں ہوتا جیسے شرکِ خفی (پوشیدہ شرک) اس حکم میں معمولی ریاکاری بھی داخل ہے۔

شرک اکبر اورشرک اصغر میں فرق[ترمیم]

دونوں میں بعض فرق یہ ہیں:شرک اکبر کا مرتکب اسلام سے خارج اور اگر توبہ کیے بغیر مرگیا تو آخرت میں ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہےگا،شرک اکبر تمام اعمال کو برباد کردیتا ہے، شرک اصغر کا مرتکب اسلام سے خارج نہیں ہوگا،اور نہ آخرت میں جہنم میں ہمیشہ رہےگا،،شرک اصغر، صرف وہ عمل برباد کردیتا ہے جس کے ساتھ یہ شرک منسلک ہو،

  • اختلافی مسئلہ:رہی یہ بات کہ شرک اصغر توبہ کیے بغیر معاف ہوگا یا نہیں؟ یا پھر وہ ان کبیرہ گناہوں میں سے ہے جو اللہ کی مشیت پر ہے ،چاہے تو معاف کرے، یا نہ کرے،، دونوں صورتوں میں معاملہ بڑاہی سنگین ہے۔
  • شرک اصغر کی کچھ مثالیں:(۱) معمولی ریا اور نمود(دکھلاوا) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معمولی ریا شرک ہے [5] ۔(۲)۔غیر اللہ کی قسم کھانا۔(۳) بد شگونی لینا،یعنی پرندوں،بعض ناموں،بعض کلمات اور بعض جگہوں وغیرہ سے بد شگونی لینا۔

شرک اصغرسے بچنے کی صورت اور اس میں واقع ہوجانے کے بعد اس کا کفارہ[ترمیم]

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اے لوگو! اس شرک سے بچو کیونکہ یہ چیونٹی کی حرکت سے بھی پوشیدہ تر ہے، تو آپ سے پوچھا گیا اے اللہ کے رسول! جب وہ چیونٹی کی حرکت سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے،تو اس سے ہم کس طرح بچ سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا تم لوگ یہ دعا پڑھا کرو: اللھم ءانا نعوذ بك من اَن نشرك بك شيئا نعلمہ ونستغفرك لما لا نعلم۔ اے اللہ جانتے ہوے ،ہم تیرے ساتھ شرک کریں اس سے ہم آپ کی پناہ چاہتے ہیں،اور اگر نا دانستہ شرک ہو جائے تو اس کے لیے ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔[6]۔۔ اور غیر اللہ کی قسم کھالینے کا کفارہ لا الہ الا اللہ کا کہنا ہے،جیسا کہ بخاری و مسلم میں اللہ کے رسول کا یہ فرمان ہے کہ" جو لات اور عزیٰ کی قسم کھا لے ،اسے چاہیے کہ لا الہ الا اللہ کہے۔۔ بد شگونی کا کفارہ: اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جسے بد شگونی کسی ارادے سے روک دے تو اس نے شرک کیا۔ صحابہ نے پوچھا،تو اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ نے کہا یہ دعا پڑھو: اللہم لا خیر الا خیرک،ولا طیر الا طیرک، ولا الہ غیرک ۔ اے اللہ تیرے خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، اور تیرے فال کے علاوہ کوئی فال نہیں، اور تیرے سوا کوئی معبود، برحق نہیں۔ [7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ (النساء، 4 : 36)
  2. ^ (سورۂ لقمان:۱۳)
  3. ^ (بخاری ومسلم)
  4. ^ (النساء:۴۸)
  5. ^ (ابن ماجہ)
  6. ^ (احمد)
  7. ^ احمد۔
‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=شرک&oldid=717824’’ مستعادہ منجانب