مندرجات کا رخ کریں

شریعت کے مصادر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

کام جاری


170PX

بسلسلہ مضامین:
اسلام


شریعت کے مصادر (عربی: مصادر التشريع الإسلامي) میں وہ مآخذ شامل ہیں جنھیں فقہ میں اسلامی احکام کی تشریح کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔[1] اہل سنت کے نزدیک شریعت درجہ اول کے مصادر قران اور سنت ہیں۔ قران براہ راست اللہ عز و جل کا کلام ہے جو انسان کی ہدایت کے لیے اتارا حیا ہے۔ اس میں صرف ایمان و یقین اور موت اور ما بعد الموت جنت و جہنم اور روز محشر کا ہی تذکرہ ہی نہیں بلکہ روز مرہ زندگی کے احکام، مرد و خواتین کے مسائل، خانگی معاملات اور سماجی مسائل پر بھی احکامات موجود ہیں۔ سنت پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریر کا نام ہے۔ آپ کی تعلیمات کو حدیث کہا جاتا ہے اور حدیث سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے اسے سنت کہتے ہیں۔ یہی قران و سنت اہل سنت والجماعت کے نزدین شریعت کے مصادر ہیں۔ اہل تشیع قران و حدیث کے علاوہ اماموں کے اقوال کو سے بھی شرعی احکام اخذ کرتے ہیں۔[1]

چونکہ زندگی کے مسائل لا محدود ہیں اور روز بروز جیسے دنیا ترقی کرتی جاتی اور زندگی آگے بڑھتی جاتی نئے مسائل آتے رہتے ہیں اور قران و حدیث میں ان تمام مسائل کو ایک ایک کر کے بیان کردینا ممکن نہیں ہے لہذا اسلامی علما و فقہا نے فقہ کو وسعت دیتے ہوئے نیا حیلہ تلاش کیا گیا تاکہ مسائل کو عین قران و سنت کی روشنی میں حل کیا جائے۔ اہل سنت کے نزدیک درجہ دوم کے مصادر اجماع، قیاس، استصحاب اور استحسان ہیں۔ ان کے علاوہ کسی صحابی کا فتوی اور علاقائی ضرورت جسے عرف کہا جاتا ہے، بھی شرعی مصادر میں داخل ہیں اور مسائل کے استنباط میں مدد دیتے ہیں۔[2]

اسلام میں چار بڑے فقہی مسالک ہوئے ہیں جن میں حنفی قیاس پر بہت زیادہ تکیہ کرتے ہیں، مالکی اور حنبلی زیادہ تر حدیث تک محدود رہتے ہیں۔ شافعی احناف سے زیادہ سنت کو ترجیح دیتے ہیں اور مالکی و جنبلی سے زیادہ قیاس پر تکیہ کرتے ہیں۔[1][3][بہتر ماخذ درکار] اہل تشیع کے نزدیک اصولی فقہ کی فقہ جعفری سب سے مستند ہے اور چار مصادر سے استنباط کرتے ہیں؛ قران، سنت، اجماع اور عقل اور یہ چاروں اصول فقہ کہلاتے ہیں۔ اخباری اجتہاد پر زیادہ بھروسا کرتے ہیں۔[1][4]

بنیادی صادر

[ترمیم]

قرآن

[ترمیم]

قرآن شریعت کا سب سے پہلا، اہم بنیادی اور براہ راست مصدر ہے۔ قرآن کریم اللہ عز و جل کا کلام ہے جسے اللہ جبرائیل امین کے ذریعہمکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل فرمایا۔ قرآن میں اخلاقیات، فلسفہ، سماجیات، سیاست اور معاشیات کی تعلیم موجود ہے جو ایک سماج کی تخلیق میں اہم عناصر کا کردار ادا کرتے ہیں۔ مکہ میں نازل کردہ آیات میں فلسفہ، الہیات اور توحید جیسے موضوعات پر مبنی ہیں جبکہ مدینہ میں نازل کردہ آیات میں سماجی اور معاشی قواین بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن کو دور نبوی میں ہی تحریروں میں محفوظ کر لیا گیا تھا اور آپ کے وصال کے بعد کے ابتدائی ایام میں اس کی تدوین عمل میں آئی۔[5]

سنت

[ترمیم]

اصل مضمون : سنت قرآن کے بعد دوسرا درجہ سنت کا ہے۔ سنت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریر کو کہا جاتا ہے۔ اس میں نبی کی روزمرہ کی باتیں، آپ کے روز مرہ کے کام اور آپ کے سامنے ہونے والے اعمال اور ان پر آپ کے رد عمل شامل ہیں۔ یہ تعریف اہل سنت کے نزدیک ہے جبکہ اہل تشیع میں امامت اور فاطمہ زہرا کے اعمال افعال اور تقریر کو بھی سنت میں شمار کیا جاتا ہے۔ انھیں چودہ معصوم کہا جاتا ہے۔[1][5]

قرآن میں خود سنت کو بطور مصدر شریعت تسلیم کرنے کا حکم ہے۔ قرآن میں اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کو ماننے کا حکم دیا ہے۔[6] نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واضح حکم دیا تھا کہ آپ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد قرآن اور سنت کی اتباع کی جائے۔[7] قرآن کریم میں کئی احکام مفصل اور کئی محکم بیان ہوئے ہیں مگر زندگی کے کئی مسائل کا تذکرہ قرآن میں نہیں ہے اور یہیں ایک مسلمان ان مسائل کا حل سنت میں تلاش کرتا ہے۔ سنت میں صحابی کے اقوال اور اعمال بھی شامل ہیں۔ سنت کا زیادہ تر حصہ حدیث میں محفوظ ہے۔ ابتدائی ایام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیث کو نا لکھنے کا حکم دیا تھا تاکہ کہیں قرآن کے خلط ملط نہ ہو جائے البتہ آپ نے احادیث کو زبانی یاد کرنے کا حکم ضرور دیا تھا۔ آپ کیحیات میں صحابہ کرام =تمام شکوک و شبہات، قرآن اور احادیث کے تشریح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھتے رہتے تھے۔ آپ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد لوگوں میں آپ کے اعمال اور افعال اور سنت کو لے کر اشکالات ہونے لگے تب احادیث کی تدوین عمل میں آئی۔ [8] احادیث کی تخریج میں چونکہ اس زمانہ میں لوگ حدیث کو لے کافی شبہات میں مبتلا تھے اور مرفوع اور موضوع حدیث کی تمیز کرنا مشکل ہو گیا لہذا علم حدیث کی بنیاد رکھی گئی۔ علم حدیث اس علم کو کہتے ہیں جس کے تحت پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرامین کو محفوظ کیا گیا اور ان فرامین کی صحت کے بارے فیصلہ کیا جاتا ہے۔ حدیث کے نام ملنے والے تمام متون کو تنقیدی مطالعہ کیا گیا، ان کے راویوں کو پرکھا گیا اور ایک ایک حدیث کے تمام اسناد کو جانچا گیا۔ اس طرح حدیث، راوی اور اسناد کی متعدد اقسام بنیں۔[9]

سب سے پہلے کسی بھی حدیث کو سند کو دیکھا جاتا ہے۔ ہر راوی کو بتایا جات ہے کہ اس نے یہ حدیث کس سے سنی ہے یہاں تک اس کا سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ اس سلسلہ کے تمام راویوں کا اپنے سے پہلے اور بعد کے راوی سے متصل ہونا ضروری ہے۔ سب کا عادل ہونا ضروری ہے اور اچھے حافظہ کا مالک ہونا بھی ضروری ہے۔[8] اور اس طرح علم اسماء الرجال وجود میں آیا جس میں تمام راویوں کا تنقیدی مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس تنقید میں ہر راوی کی تاریخ اور جائے پیدائش، خاندان، اساتذہ، دین داری، اخلاقیات، اسفار اور تاریخ اور جائے وفات کو درج کیا جاتا ہے۔ اور ان تمام پیمانے پر کسی بھی کے ثقہ اور غیر ثقہ ہونے کا تعین کیا جاتا ہے۔ اور اسی سے نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ آیا راوی حدیث روایت کرنے کے لائق ہے یا نہیں۔[10] اس سلسلہ کی مشہور کتب میں ابن حجر عسقلانی کی الکمال فی اسماء الرجال اور شمس الدین ذہبی کی تذکرۃ الحفاظ نمایاں ہیں۔[11] مذکورہ علم کی بنا پر حدیث کی 3 اقسام ہیں؛[8]

  1. متواتر، ایسی حدیث جس کا انکار ممکن نہ ہو۔
  2. مشہور، ایسی حدث جو بہت مشہور ہو مگر اس کی سند متواتر سے کم ہو۔
  3. واحد، جس کی سند ایک ہو یا اگر زیادہ ہو تو میں کچھ نقص ہو۔

ثانوی مصادر

[ترمیم]

عہد وسطی کے تمام فقہا نے شریعت میں من مانی کو ممنوع قرار دیا اور کئی ثانوی اصول مرتب کیے جنھیں فقہی اصول کہا جاتا ہے اور یہ ثانوی فقہی اصول تب نافذ ہوتے ہیں جب قرآن و حدیث میں کسی مسئلہ کا حل موجود نہ ہو۔[12]

اجماع

[ترمیم]

اصل مضمون: اجماع

اجماع فقہا کے نزدیک شریعت کا تیسرا مصدر ہے۔ اجماع کا مطلب ہے تمام امت کا کسی مسئلہ پر بلا تفریق اتفاق کر لینا۔ قرآن میں متعدد مقامات پر اجماع کو شرعی مصدر قرار دیا ہے۔[13][14] خود شارع علیہ السلام نے فرمایا:

  • “میری امت کبھی غلطی پر جمع نہیں ہو سکتی۔ “
  • “امت پر اللہ کا ہاتھ ہے“[13][15]

اسلامی تاریخ کسی مسئلہ پر فیصلہ لینے کے لیے اجماع سب سے اہم مصدر رہا ہے کیونکہ اجماع کہتے ہی ہیں امت کا کسی مسئلہ پر جمع ہوجانا مثلاً نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت پر سب کا اجماع ہونا۔[16][توضیح درکار][17][18]

اجماع پر مسلمانوں کے الگ الگ گروہ کے نظریے مختلف ہیں۔ مثلاً اہل سنت اجماع کو قرآن و سنت جتنی اہمیت دیتے ہیں جبکہ اہل تشیع کے نزدیک اجماع کی اہمیت ایک ثانوی درجہ کی ہے اور قرآن و حدیث کے برعکس اجماع خطا سے مکمل طور پر پاک نہیں ہے۔[16] اجماع کی اصطلاح ہمیشہ ایسے اتفاقق رائے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے جو ماضی میں، خواہ قریب کے زمانے میں ہوا ہو یا بہت پہلے، قائم ہو چکا ہو۔[17] سنی مذاہب میں اجماع کی الگ الگ تعریف کی گئی ہے جسے درج ذیل جدول میں دیکھا جا سکتا ہے:

فقہی مذاہبقیام اجماعاستدلال
حنفی اسلامی فقہا کا اجماع عام فقہا قانونی امور کے ماہر ہوتے ہیں۔
شافعی تمام امت کا اجماع امت کبھی خطا پر جمع نہیں ہو سکتی
مالکی پہلے اسلامی دار الخلافہ، مدینہ منورہ کے لوگوں کا اجماع اہل علم کے نزدیک ““مدینہ خطاکار لوگوں کو ایسے ہی باہر کردیتا ہے جیسے بھٹی لوہے سے زنگ کو ختم کر دیتی ہے۔
حنبلی صحابہ کرام کا اجماع وہ سب سے زیادہ علم والے اور دین دار تھے۔
مصدر:[1][16]

موجودہ دور میں اجماع ایک روایت نہیں بلکہ جمہوری طرز کی اصطلاح ہے جہاں فقہا کو زیادہ آزادی ہے۔[17]

قیاس

[ترمیم]

اصل مضمون : قیاس

قیاس جمہور اہل سنت کے نزدیک شریعت کا چوتھا مصدر ہے۔ قیاس ماضی کے فتووں پر منحصر ہوتا ہے۔ اہل تشیع قیاس کی بجائے عقل کو چوتھا مصدر مانتے ہیں۔ اہل سنت میں حنبلی قیاس کو اتنی اہمیت نہیں دیتے اور اہل ظواہر کے یہاں قیاس مصدر شریعت نہیں ہے۔ جب کسی نئے مسئلے کا حکم قرآن، حدیث یا اجماع میں واضح طور پر موجود نہ ہو، تو اس کا حکم کسی ایسے مسئلے سے اخذ کیا جاتا ہے جس کا حکم پہلے سے معلوم ہو، بشرطیکہ دونوں میں حکم کی بنیادی علت (سبب) ایک ہی ہو۔ اسی عمل کو قیاس کہتے ہیں۔ قیاس کے لیے خروری ہے کہ اس کی بنیاد ہمیشہ قرآن اور حدیث پر ہو۔[19]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 5 6 Morteza Mutahhari۔ "Jurisprudence and its Principles"۔ Tahrike Tarsile Qur'an۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-07-26
  2. "Shari`ah and Fiqh"۔ USC-MSA Compendium of Muslim Texts۔ University of Southern California۔ 18 ستمبر 2008 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جولائی 2008
  3. Morteza Motahhari۔ "The Role of Ijtihad in Legislation"۔ Al-Tawhid۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-07-26
  4. Momen (1985), p.185–187 and 223–234
  5. 1 2 Nomani and Rahnema (1994), pp. 3–4
  6. قرآن 59:7
  7. Qadri (1986), p. 191
  8. 1 2 3
  9. "Hadith", Encyclopedia of Islam.
  10. Berg (2000) p. 8
  11. See:
    • Robinson (2003) pp. 69–70;
    • Lucas (2004) p. 15
  12. Makdisi, John (1985). "Legal Logic and Equity in Islamic Law", The American Journal of Comparative Law, 33 (1): 63–92
  13. 1 2 Mahmasani, S. Falsafe-e Ghanoongozari dar Eslam. Tehran: Amir Kabir. p. 143
  14. Verses قرآن 2:143, قرآن 3:103, قرآن 3:110, قرآن 4:59, قرآن 4:115 and قرآن 9:119 are presented by Mahmasani.
  15. Muslehuddin, M. Philosophy of Islamic Law and the Orientalists. New Delhi: Taj printers, 1986. p. 146
  16. 1 2 3 Nomani and Rahnema (1994), pp. 7–9
  17. 1 2 3 Encyclopædia Britannica, Ijma.
  18. "Id̲j̲māʿ", Encyclopaedia of Islam
  19. Nomani and Rahnema (1994), pp. 9–12