شریف بدمعاش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شریف بدمعاش
ہندی शरीफ बदमाश
ہدایت کار اقبال کشمیری
پروڈیوسر چوہدری محمد اجمل
عاصم الیاس
تحریر حزیں قادری
منظر نویس حزیں قادری
ستارے
راوی میاں محمود الحسن
موسیقی ماسٹر عبداللہ
سنیماگرافی سلیم بٹ
ایڈیٹر بی اے بکی، شوکت علی
پروڈکشن
کمپنی
تقسیم کار کوالٹی پکچرز
تاریخ اشاعت
دورانیہ
2:28:44 دقیقہ
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
زبان پنجابی
بجٹ روپیہ 8 ملین (US$75,000)
باکس آفس روپیہ 10 کروڑ (US$940,000)

شریف بدمعاش (انگریزی: Sharif Badmash) ‏ پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ فلم كى نمائش 11 جولائی، 1975ء كو ہوئى۔ پاکستانی سماجی، موسیقی فلم ہیں۔ اس فلم کو سپر ہٹ کا مقام دیا گیا۔ اس فلم کے ہدایتکار اقبال کشمیری تھے۔ فلمساز تیار کردہ وہ بھی چوہری محمد اجمل تھے۔ فلم کے اداکاروں میں سے منفرد کردار دیکھے ممتاز، یوسف خان، آسیہ، سلطان راہی، منور ظریف اور افضال احمد تھے۔ [1]

مطمئن[ترمیم]

اس فلم میں یوسف خان نے شریف کا رول ادا کیا ہے جس کا نام باوجی ہوتا ہے۔ اور ان کا تعلق غریب گھرانے سے ہوتا ہے۔ یہ فیکٹری میں مزدور کے حوالے سے جانے جاتے تھے انہوں نے اپنا مکان کرائے پر لیا ہوتا ہے جس میں ان کا باپ اور بہن ہوتا ہے، مکان مالکان کا کردار فضل حق نے کیا ہے، جو ٹھیکے دار کے نام سے جانا جاتا تھا وہ کہتا ہے کہ میرا مکان خالی کرو اور اتنے سالوں سے کرایہ بھی نہیں بڑھا رہے ہو۔ نعیم ہاشمی جو یوسف خان کے باپ ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی بیٹی کی شادی کر کے خالی کر دوں گا مکان، ٹھیکیدار کا رابطہ بدمعاشوں سے ہوتا ہے جو اسد بخاری مصطفی قریشی اور افضال احمد ہوتے ہیں آگے ان کا رابطہ نادر سے ہوتا ہے جو سلطان راہی نے کردار کیا ہے۔ راہی صاحب بدمعاشوں کا بادشاہ ہوتا ہے اور اسے جھوٹ مار کر کہ وہ ہماری زمین پر زبردستی قبضہ کر کے بیٹھا ہے۔ اس بات کا جھگڑا ہوتا اور سلطان راہی اور یوسف خان دونوں میں نفرت پیدا ہو جاتی۔ منور ظریف جگو اور منگو کا ملازم ہوتا ہے اور اس کی بہن کے ساتھ پیار ہو جاتا پھر جب ان کے بھائیوں کو پتہ چلتا ہے تو وہ اسے مارننے کی کوشش کرتے اور زہر پلا دیتے۔ تو پھر جب منورظریف کو دفن کرنے جاتے ہیں تو وہ زندہ ہو جاتا ہے قبر میں سے پھر مزاحیہ کردار کا منظر سامنے آجاتا ہے۔

کاسٹ[ترمیم]

ساؤنڈ ٹریک[ترمیم]

شریف بدمعاش
فلمی گیت آواز: ماسٹر عبداللہ
ریلیز 10 مئی 1975ء (1975ء-05-10)
ریکارڈ شدہ 1974ء
اسٹوڈیو باری سٹوڈیو
صنف فلمی گیت
طوالت 27:33
زبان پنجابی
لیبل ای ایم آئی (پاکستان) لمیٹڈ
پروڈیوسر اے زیڈ بیگ، ایم ظفر
مدون حزیں قادری
ماسٹر عبداللہ تاریخچہ
ملنگی
(1965)
شریف بدمعاش
(1975)
چترا تے شیرا
(1976)
نمبر شمارعنوانگلوکاراںطوالت
1."چندراں گوانڈ ناں ہوئے، لای لگ نہ ہوئے گھر والا"نورجہاں3:04
2."میں ناں جمدی ڈھولا وے، چھڈ وے چھڈ وے"نورجہاں5:39
3."میں وی جاؤا ڈول، آجا میرے قول"نورجہاں3:34
4."دل دیاں من کے چوڑا چھنکے"نورجہاں4:42
5."جوگی آیا دورے تیرے، کن وچ پا کے مندراں"شوکت علی3:26
6."ادھی ادھی راتی میرا سونا آیا"نورجہاں3:07
7."میری ٹور کبوتری ورگی، تے دل کرے گٹکو گٹکو"نورجہاں3:30
کل طوالت:27:33

فلم کی موسیقی ماسٹر عبداللہ نے ترتیب دی، حزیں قادری نے گیت لکھے۔ فلم کی لسٹ ریکارڈنگ میں شامل اے زیڈ بیگ، ایم ظفر، افضل حسین اور حبیب احمد انہوں نے گیتوں [2] کی بہترین ریکارڈنگ کی اور نورجہاں اور شوکت علی نے گیت گائے۔ ساؤنڈ ٹریک کو پلاننٹ لولی ووڈ نے لولی ووڈ کے 100 بہترین ساؤنڈ ٹری میں شامل کیا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عاشق علی حجرہ شاہ مقیم (22 جنوری 2017ء)۔ "ان ویب سائٹ سے آپ فلم کا جائزہ لے سکتے ہیں"۔ مپوپ کوم۔ پاکستان فلم انڈسٹری۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جنوری 2019۔
  2. عاشق علی حجرہ شاہ مقیم (7 اپریل 2017ء)۔ "معیار کی تصاویر شریف بدمعاش پنجابی کولمبیا سیاہ لیبل"۔ ڈسپوز۔ ای ایم آئی (پاکستان) لمیٹڈ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2019۔

بیرونی روابط[ترمیم]