شریف خاندان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شریف خاندان
نسلیتپنجاب کے کشمیری
موجودہ علاقہلاہور، پنجاب، پاکستان
مقام آغازاننتناگ، کشمیر[1]
ارکانمیاں محمد شریف
نواز شریف
شہباز شریف
کلثوم نواز شریف
تہمینہ درانی
حمزہ شہباز شریف
مریم نواز
عاصمہ نواز شریف
حسن نواز
حسین نواز
روایاتاہل سنت مسلمان
جائیداداتفاق گروپ
شریف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج
حدیبیہ پیپر مل

شریف خاندان پاکستان کا ایک مشہور سیاسی خاندان ہے۔ اس خاندان کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔ شریف خاندان پنجاب کا ایک مڈل طبقے سے تعلق رکھنے والے کاروباری میاں محمد شریف سے شروع ہوتا ہے جس کے بیٹوں نے اپنے باپ کی کاروبار میں ترقی کی طرح سیاست میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ میاں محمد شریف کا ایک بیٹا میاں محمد نواز شریف پاکستان کا تین بار منتخب وزیراعظم بنا اور اس کا چھوٹا بیٹا میاں محمد شہباز شریف پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا تین بار وزیراعلیٰ منتخب ہوا۔ میاں محمد نوازشریف کی سیاست کو ایک آمر کے دور میں شروع کرنا اس لیے اس کے حامیوں کے لیے قابل قبول ہیں کہ پاکستان میں زیادہ عرصہ آمریت ہی مسلط رہی ہیں تو اس میں کسی سیاستدان کی سیاست کے آغاز کو کسی بچے کی غلط پیدائش کو اسی بچے کا قصوروار دلانا۔ اس خاندان نے کئی عروج و زوال دیکھے اب اس خاندان کانواز شریف شریف سربراہ ہے جو لندن میں زیر علاج ہے اور نیب کی حراست میں میاں محمد نواز شریف کی طعبیت خراب ہوں گئی تھی جس پر اسے پہلے سروسز ہسپتال لاہور میں ایڈمٹ کیا گیابعد میں اسے بیل پر رہا کردیا گیا۔ زیادہ طعبیت خراب ہونے پر اسے حکومت پاکستان نے لاہور ہائیکورٹ کی سفارش پر لندن جانے دیا گیا۔ شریف خاندان کو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ خاندان پاکستان کو بنانے وال اور سنوانے والا ہے۔ اصل حاصل یہ ہے کہ شریف خاندان پاکستان میں مڈل طبقے کے لیے ترقی کرنے اور اپنے آپ کو کامیاب کرنے کے لیے ایک روشن مثال سمجھا جانا چاہئے۔ باقی سیاسی اختلافات ہر جگہ ہوتے ہیں تو شریف خاندان تو ہے ہی سیاسی خاندان تو اس کے خلاف سیاسی مخالفین باتیں کرتے رہتے ہیں۔

خاندان کے افراد کی فہرست[ترمیم]

پہلی نسل
  • محمد شریف، پاکستانی کاروباری شخصیت اور نواز شریف و شہباز شریف کے والد۔[2]
    • شمیم اختر، محمد شریف کی زوجہ اور نواز شریف و شہباز شریف کی والدہ۔[3]
دوسری نسل
تیسری نسل


دیگر رشتہ دار[ترمیم]

دولت[ترمیم]

شریف خاندان اتفاق گروپ کا مالک ہے، یہ ایک ملٹی ملین ڈالر سٹیل کمپنی ہے۔[15] 2005ء میں، روزنامہ پاکستان نے ایک جائزہ شائع کیا جس کے مطابق شریف خاندان پاکستان کا چوتھا امیر ترین خاندان ہے اس کے اثاثوں کا اندازہ صرف 1.4 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔[16] یہ خاندان غیر معمولی طور پر بڑے رائےونڈ محل لاہور کے بھی مالک ہیں۔ اور زیادہ درد دولت کرپشن کرکے بنائی گئی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی عدالت نے نواز شریف کو کو تاحیات نااہل قرار دے دیا ہے

{{{2}}}

تصاویر[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

عمار عباد

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • "حکومت پنجاب، پاکستان". punjab.gov. اخذ شدہ بتاریخ 4 ستمبر 2012. 
  • "پنجاب اسمبلی ویب سائٹ". pap.gov. اخذ شدہ بتاریخ 4 ستمبر 2012. 
  • "پانامہ اسکینڈل-بگ پلیرز آن اسکرین، پاکستان". PowerPlay.pk. 05 اپریل 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 ستمبر 2017. 
  1. "As Nawaz Sharif becomes PM, Kashmir gets voice in Pakistan power circuit". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 ستمبر 2017. 
  2. "Sharifs seek NAB cases quashed". Dawn. Herald. 18 October 2011. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 5 اپریل 2013. 
  3. ^ ا ب پ "Kulsoom vows to return in a few days". دی نیوز. 11 September 2007. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 09 ستمبر 2012. 
  4. ^ ا ب
  5. "Nawaz Sharif's brother passes away". The Express Tribune. 11 January 2013. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 جنوری 2013. 
  6. ^ ا ب پ
  7. Taseer، Sherbano (30 March 2012). "The Rebirth of Maryam Nawaz Sharif". Newsweek Pakistan. 08 جون 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 ستمبر 2012. 
  8. Taseer، Sherbano. "The rebirth of Maryam Nawaz Sharif". The Nation. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 ستمبر 2012. 
  9. Asad، Malik (21 October 2012). "Bakery tortures of employee: CM's son-in-law sent on judicial remand". Daily Times. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 اکتوبر 2012. 
  10. Asad، Malik (8 September 2012). "Court orders newspaper ad for Hamza appearance". Daily Times. 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 اکتوبر 2012. 
  11. Baker، Raymond (2005). Capitalism's Achilles heel: Dirty Money and How to Renew the Free-market System. John Wiley and Sons. صفحات 82–83. ISBN 978-0-471-64488-0. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 4 ستمبر 2012. 
  12. کھرل، اسد (11 نومبر 2011). "نواز شریف کی اپنی صرف ایک شوگر مل ہے؟". دی ایکسپریس ٹریبیون. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 4 ستمبر 2012. 
  13. The technicality that led to Nawaz Sharif's disqualification - Pakistan - DAWN.COM
  14. Sharif family are owners of London flats since '90s: BBC report | Pakistan | thenews.com.pk |