شعلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آگ کا جو حصہ نظر آتا ہے اسے شعلہ کہتے ہیں۔ اس حصے میں جلنے والی چیز (ایندھن) گیس میں تبدیل ہو کر ہوا کی آکسیجن سے کیمیائی عمل (chemical reaction) کرتی ہے جس سے سخت گرمی اور روشنی پیدا ہوتی ہے۔ آگ کے ایسے حصے بھی ہو سکتے ہیں جو نظر نہ آتے ہوں کیونکہ وہ الٹرا وائیلیٹ یا انفراریڈ روشنی خارج کرتے ہیں جو انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔

موم بتی کا شعلہ۔ پیلے حصے میں کاربن کے ذرات گرم ہو کر چمکتے ہیں تو شعلے کا رنگ پیلا ہو جاتا ہے۔ ایسا شعلہ کاربن کے نہ جلنے والے ذرات کی وجہ سے کالا دھواں پیدا کرتا ہے۔

آگ لگنے کے لیے ضروری شرائط[ترمیم]

آگ لگنے کے لیے تین چیزیں لازماً موجود ہونی چاہئیں:

  1. ایندھن (یا فیول) یعنی ایسی چیز جو جل سکتی ہو، جیسے کاغذ، کپڑا، لکڑی، سوئی گیس (قدرتی گیسپٹرول، ڈیزل وغیرہ
  2. آکسیجن یا ایسا ہی کوئی دوسرا تکسیدی عامل جو جلا سکتا ہو۔ (آکسیجن خود نہیں جلتی۔)
  3. نقطہ اشتعال یا نقطۂ شرار یعنی اتنا ٹمپریچر جس پر ایندھن آگ پکڑ سکے۔

کوئلے اگر ٹھنڈے ہوں تو ماچس سے آگ نہیں پکڑتے۔ جب ان پر کیراسن تیل چھڑک کر آگ لگاتے ہیں تو کیراسن فوراً آگ پکڑ لیتا ہے، جس کی گرمی سے کوئلے گرم ہو جاتے ہیں اور جل اٹھتے ہیں۔

جلنے کا عمل آکسیجن کے بغیر بھی ممکن ہے۔ اگر تارپین کے تیل میں ڈوبا ہوا کپڑا کلورین کے گیس جار میں ڈال کر ڈھکن بند کر دیا جائے تو بھی کپڑا خودبخود جل اٹھتا ہے کیونکہ یہاں کلورین تکسیدی عامل کا کام انجام دے رہی ہے۔

اگر مائع آکسیجن میں لکڑی یا کوئلے کا ایک ٹکڑا ڈال دیا جائے تو بے انتہا ٹھنڈک کے باوجود بھی اس میں خودبخود آگ لگ جاتی ہے۔

ہوا میں موجود نائٹروجن عام طور پر نہیں جلتی مگر لیتھیئم جیسی بہت زیادہ عاملیت رکھنے والی دھات کو آکسیجن کی مکمل عدم موجودگی میں بھی جلا سکتی ہے۔ اگر نائٹروجن میں جلنے کی بہت زیادہ صلاحیت ہوتی تو پوری دنیا میں آگ لگ جاتی کیونکہ کرہ ہوائی میں نائٹروجن کی مقدار آکسیجن سے چار گنا زیادہ ہے۔

میگنیشیئم کا تار کاربن ڈائی آکسائیڈ کے سلنڈر میں نہیں جلایا جا سکتا۔ مگر اگر میگنیشیئم کے تار کو باہر جلا کر پھر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے سلنڈر میں ڈال دیا جائے تو یہ بظاہر آکسیجن کی عدم موجودگی میں بھی جلتا نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میگنیشیئم کے جلتے ہوئے تار سے اتنی زیادہ حرارت نکلتی ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا مالیکیول ٹوٹ جاتا ہے اور اپنی آکسیجن اور کاربن خارج کر دیتا ہے۔ اسی آکسیجن کو استعمال کر کے میگنیشیئم جلتا رہتا ہے، جبکہ کاربن سلنڈر کی اندرونی سطح پر کالک بن کر جم جاتا ہے۔

اگر آکسی ایسیٹیلین ٹارچ کو روشن کرنے کے بعد پانی میں ڈبویا جائے تو یہ پانی کے اندر بھی جلتی رہتی ہے۔ 30 فٹ سے زیادہ گہرائی پر پانی میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کا شعلہ زیادہ بہتر کام کرتا ہے۔

شعلے کا درجہ حرارت[ترمیم]

  • اگر کسی بھی ایندھن مثلاً قدرتی گیس کو ہوا میں جلایا جائے تو اس سے شعلہ کافی بڑا بنتا ہے، لیکن وہ زیادہ گرم نہیں ہوتا، کیونکہ ہوا میں آکسیجن صرف 20 فی صد کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ ہوا میں موجود لگ بھگ 80 فیصد نائٹروجن جلنے کے عمل کو سست کر دیتی ہے۔
  • اگر قدرتی گیس کو آکسیجن میں ملا کرجلایا جائے تو شعلہ لگ بھگ پانچ گنا چھوٹا بنتا ہے، لیکن وہ اتنا گرم ہوتا ہے کہ لوہے کو پگھلا دے۔
  • اگر قدرتی گیس کو اوزون میں ملا کر جلایا جائے تو شعلہ اور بھی چھوٹا اور مزید گرم ہوتا ہے۔
جلتے ہوئے کوئلے کا ٹمپریچر لگ بھگ 1400 ڈگری سنٹی گریڈ ہوتا ہے۔
جب شعلہ کو آکسیجن کم ملتی ہے تو شعلہ لمبا اور پیلا ہو جاتا ہے اور دھواں دیتا ہے (بائیں طرف)۔ جیسے جیسے آکسیجن بڑھائی جاتی ہے شعلہ نیلا اور چھوٹا ہوتا جاتا ہے اور اسکا ٹمپریچر بھی بڑھتا جاتا ہے (دائیں طرف)۔ نیلا شعلہ دھواں نہیں دیتا کیونکہ کاربن کے سارے ذرات جل چکے ہوتے ہیں۔
ایندھن[1] شعلے کا درجہ حرارت °C شعلے کا درجہ حرارت °F
سلنڈر کی گیس (پروپین)- ہوا کے ساتھ 1980 °C 3596 °F
سلنڈر کی گیس (بیوٹین)- ہوا کے ساتھ 1970 °C 3578 °F
لکڑی 1980 °C 3596 °F
کاربائیڈ کی گیس (ایسی ٹائی لین)- ہوا کے ساتھ 2550 °C 4622 °F
سوئی گیس (میتھین)- ہوا کے ساتھ 1950 °C 3542 °F
ہائیڈروجن - ہوا کے ساتھ 2111 °C 3831 °F
سلنڈر کی گیس (پروپین)- آکسیجن کے ساتھ 2800 °C 5072 °F
کاربائیڈ کی گیس (ایسی ٹائی لین)- آکسیجن کے ساتھ 3100 °C + 5612 °F
سلنڈر کی گیس (پروپین اور بیوٹین)- ہوا کے ساتھ ~1970 °C 3578 °F
کوئلہ (بلاسٹ فرنیس میں)۔ ہوا کے ساتھ 1900 °C 3542 °F
Cyanogen (C2N2) - آکسیجن کے ساتھ 4525 °C 8177 °F
Dicyanoacetylene (C4N2)- آکسیجن کے ساتھ 4982 °C 9000 °F

تکسیدی شعلہ (oxidizing flame)[ترمیم]

اگر کسی دھات کو ایسے شعلے پر گرم کیا جائے جس میں آکسیجن کی فراوانی ہو تو دھات آکسائیڈ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ سنار ایسے شعلے سے سونے کو پگھلا کر صاف کرتے ہیں، کیونکہ تانبا، چاندی، زنک اور سیسہ وغیرہ آکسائیڈ بننے کے بعد پگھلے ہوئے سونے پر بالائی کی طرح تیرتے ہیں اور بآسانی الگ کیے جا سکتے ہیں، جبکہ سونا اتنی جلدی آکسائیڈ نہیں بنتا۔

سولڈرنگ اور ویلڈنگ کے لیے یہ شعلہ مناسب نہیں ہے، کیونکہ لوہے کے آکسائیڈ بننے کی وجہ سے جوڑ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
تکسیدی شعلہ تخفیفی شعلے سے زیادہ گرم ہوتا ہے اس لیے لوہا کاٹنے کے لیے بہتر ہوتا ہے (جیسے پرانے ناکارہ بحری جہازوں کی کٹائی)۔

ایسے شعلے سے ایک hiss کی آواز آتی رہتی ہے۔

تکسیدی شعلہ۔ بیوٹین ٹارچ کا شعلہ جس میں آکسیجن زیادہ ہے۔ شعلے میں کوئی پیلا حصہ موجود نہیں ہے۔

تخفیفی شعلہ (reducing flame)[ترمیم]

ایسا شعلہ جس میں آکسیجن کی کمی ہو تخفیفی شعلہ کہلاتا ہے۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اس میں کچھ کاربن کے ذرات بغیر جلے رہ جاتے ہیں اور ان کے چمکنے سے شعلے کا ایک حصہ پیلے رنگ کا ہو جاتا ہے۔

سولڈرنگ، ویلڈنگ اور دھات کاری کے لیے یہ شعلہ مناسب ہے، کیونکہ نہ جلے کاربن کی وجہ سے یہ زنگ لگے لوہے میں سے آکسیجن نکال کر اسے دوبارہ لوہے میں تبدیل کر دیتا ہے۔

اگر ایسے شعلے پر خالص سونے کو پگھلایا جائے تو سونے میں کچھ کاربن کی ملاوٹ آ جاتی ہے اور کچھ سونا ضائع بھی ہوتا ہے۔

تخفیفی شعلہ۔ بیوٹین ٹارچ کا شعلہ جس میں آکسیجن کم ہے۔ شعلے میں ایک چھوٹا سا پیلا حصہ موجود ہے۔
دھونکنی یا blower کو استعمال کر کے دھاتوں کو پگھلایا جا سکتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]