شق القمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک معجزہ شق قمر ہے۔ اس معجزہ کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے۔

Ra bracket.png اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ Aya-1.png وَإِنْ يَرَوْا آَيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ Aya-2.pngLa bracket.png
ترجمہ:

قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ اور اگر وہ کوئی معجزہ دیکھ لیں تو اس سے منہ موڑ لیں اور کہیں یہ تو ہمیشہ سے چلا آتا جادو ہے۔

— 

قرآن نے اس شق قمر کو بطور معجزہ ذکر کیا ہے۔ کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں اس معجزہ کا ظہور ہوا۔ اسی وجہ سے قرآن نے اس کو ماضی کے صیغہ کے ساتھ بیان کیا۔ بعض لوگ اس معجزہ کا انکار کر کے اس ماضی کے صیغہ کو مستقبل کے مضمون میں قرار دیتے ہیں۔ علاوہ نص قرآنی کے احادیث متواترہ سے بھی یہ ثابت ہے کہ ”انشقاق قمر“ کا واقعہ عہد رسالت میں پیش آیا اور بہت سے جلیل القدر صحابہ جیسے عبد اللہ بن مسعود، جبیر بن مطعم، عبد اللہ بن عباس، انس بن مالک اور حذیفہ بن الیمان وغیرہم نے اس روایت کو بیان کیا ہے۔ موجودہ زمانے کے ماہرین فلکیات اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ تمام اجرام فلکیہ کثیف ہیں اور ان میں خرق والتیام ممکن ہے۔ تمام شہاب ثاقب انہی اجرام علومیہ میں سے ہیں جن کا شکستہ ہونا اور پھر جڑ جانا ہر روز ان ماہرین کے مشاہدہ میں آتا ہے۔[1]

رسول اللہؐ کے پاس مشرکوں کا ایک گروہ آیا جس میں ولید بن مغیرہ، ابوجہل، عاص بن وائل، عاص بن ہشام، اسود بن عبد المطلب اور نضر بن حارث بھی تھے، انہوں نے آنحضرتؐ سے کہا کہ اگر آپ واقعی سچے ہیں تو اپنی سچائی کے ثبوت میں چاند دو ٹکڑے کر کے دکھائیں، اس طرح کہ اس کا ایک ٹکڑا قبیس کی پہاڑی پر اور دوسرا ٹکڑا قعیقعان پر ہو۔ نبی اکرمؐ نے پوچھا کہ اگر ایسا ہوگیا تو کیا تم لوگ ایمان لے آؤ گے؟ کہنے لگے ہاں! وہ رات چودھویں تھی اور چاند آسمان پر پورے آب تاب کے ساتھ جگمگا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ! ان مشرکوں کا سوال پورا فرما دے۔ پھر آپؐ نے انگلی سے اشارہ کیا تو چاند اسی طرح دو ٹکڑے ہوگیا جس طرح کافروں نے کہا تھا۔ آنحضرتؐ نے فرمایا اے ابوسلمہ اور ارقم اس پر گواہ رہنا۔[2] شیعہ روایات کے مطابق معجزہ شق القمر 13 اور 14 ذی الحجہ کی درمیانی شب (جو کہ پورے چاند کی رات تھی) نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صادر فرمایا تھا۔ جبکہ کچھ روایات میں 18 ذی الحجہ بھی ہے۔[3][4][5]

آپولو 10 نے چاند کی قریب سے فوٹو لی جس میں چاند پر ایک بڑا نشان نظر آیا یہ تصویر 1969ء میں لی گئی پھر آپولو 11 کی مدد سے چاند کی سطح پر اتر کر اس نشان کا مشاہدہ کیا گیا ،یہ نشان 300 کلومیڑ تک لمبا ہے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حکیم محمود احمد ظفر، پیغمبرِ اسلام ﷺ اور معجزات، صفحہ 69، نشریات، لاہور، مطبوعہ میٹرو پرنٹرز، لاہور
  2. http://zahidrashdi.org/1164
  3. ریاحین الشریعہ، ج 2، ص 257
  4. فیض العلام، ص 120
  5. بحار الانوار، ج 17, ص 350 تا 353