شلمینا کشک کوہن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


شلمینا کشک کوہن
(عبرانی میں: שולמית קישיק-כהן خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1917  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بیونس آئرس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 21 مئی 2017 (99–100 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
یروشلم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Israel.svg اسرائیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
نوکریاں موساد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر

خاتون شلمینا کشک کوہن ایک یہودی خاتون تھی، جو یہودیوں میں شولا Shula کے نام سے جانی جاتی ہے، اسے تاریخ میں مڈل ایسٹ کی ماتا ہری کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، شولا ایک بہت با ہمت اور بہادر خاتون تھی، اپنی قوم سے محبت اس کے خون میں رچی بسی تھی، اپنے مشن کو وہ عبادت سمجھتی تھی، اپنے کام سے اس قدر مخلص اور سنجیدہ تھی کہ اس کا ایک ایک لمحہ یہودیوں کے لیے ایک الگ خطۂ ارضی حاصل کرنے کی کوششوں میں صرف ہوا، وہ اتنی خوبصورت تھی جتنی ایک حسینۂ عالم ہوسکتی ہے، ویسے تو حسن اللہ تعالٰی نے ہر مذہب اور رنگ ونسل سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیا ہے لیکن خوبصورتی کے اعتبار سے اہلِ مصر اور یہودی اپنی مثال آپ ہیں، شولا جسمانی ساخت اور خدوخال کے ساتھ ساتھ ایک سمجھدار اور تعلیم یافتہ خاتون تھی، اسے اپنے حسن پر فخر تھا اور اپنے فن پر اعتبار بھی تھا، وہ جانتی تھی کہ مردوں کو اپنے مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے، وہ باہر نکلتی تو مردوں کی نظر بے ساختہ اس پر آجاتی تھی، وہ جانتی تھی کہ کئی للچائی ہوئی نظریں اس کا تعاقب کر رہی ہیں، لیکن بہت کم افراد کو معلوم ہوتا تھا کہ وہ خود شکار بن کر شکاری کی تلاش میں نکلتی ہے، شولا اسرائیل کی انٹیلی جینس موساد کے ہتھے اس وقت چڑھی جب اسرائیل کا قیام عمل میں بھی نہیں آیا تھا، یہودی موساد کے نام سے ایک انٹیلی جینس ایجنسی بنا کر ایک الگ خطۂ ارضی حاصل کرنے کے لیے عرصۂ دراز سے کام کر رہے تھے۔[1]

شولا اچانک ہی موساد کے ایک ایجنٹ سے ٹکرا گئی، وہ اس کی صلاحیتوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، ذاتی تفتیش اور تحقیقات سے اس موساد ایجنٹ کو اندازہ ہوا کہ شولا اس کے کام آسکتی ہے، وہ اسے لبنان میں ملا تھا، اس کی سفارش پر شولا کو جاسوسی کی تربیت دی گئی، اسے بتایا گیا کہ مردوں کے ساتھ اظہار محبت کیسے کرنا ہے اور کس کو کس انداز سے یہ یقین دلانا ہے کہ وہ شخص جس کی تلاش میں میری روح بھٹک رہی تھی وہ آخری ہے، یہ وہ فن ہے جو سخت ریاضت کے بغیر حاصل نہیں ہوتا، شولا کو جسمانی خوبصورتی استعمال کرنے کا فن بخوبی آتا تھا، وہ بیروت پہنچی جہاں اس نے آہستہ آہستہ ان تمام یہودیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا شروع کر دیا جو ایک آزاد وطن میں رہنے کے لیے بے چین تھے، بیروت میں رہنے والے یہودی اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ خوشگوار زندگی بسر کر رہے تھے، وہیں ان کے آباؤ اجداد کی یادگاریں تھیں، انہیں اپنے آباؤ اجداد کی چھوڑی ہوئی اشیاء سے محبت تھی، وہ اپنا کاروبار اور پر سکون زندگی چھوڑ کر محض ایک سہانا خواب دکھائے جانے پر نقل مکانی کے لیے تیار نہ تھے۔

لیکن شولا نے انہیں فلسطین میں جاکر ایک مخصوص علاقے میں آباد ہونے کے لیے رضا مند کیا، آہستہ آہستہ اس کی کوششوں سے یہودی اس جگہ پر منتقل ہونے لگے جہاں کھلے میدان تھے اور آباد کاری کا تصور تک نہ تھا، اس طرح یہودی جو کئی دہائیوں سے فلسطین پر قبضہ کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کر رہے تھے کچھ ہی عرصے میں بیت المقدس اور اس کے گرد ونواح کے علاقوں پر قابض ہونے کی پوزیشن میں آ گئے، موساد نے شولا کو جو تربیت دی تھی وہ ضائع نہ گئی، اس نے سینکڑوں یہودیوں کو مجوزہ اسرائیل کے لیے مختص علاقے میں آباد کرایا، اس کے خاندان کے دیگر سات افراد بھی اس کی کوششوں میں شامل رہے، وہ لبنان اور شام میں بیٹھ کر موساد کے لیے جاسوسی کیا کرتی تھی۔[2]

موساد نے اس کی سفارش پر بیروت میں قائم ایک نائٹ کلب کو مالی امداد بھی فراہم کی تھی، یہ نائٹ کلب شولا کے ایک بوائے فرینڈ کا تھا جو یہودی تھا، شولا وہاں لبنان اور شام سے آنے والے متعدد اعلٰی افسران اور تاجروں کے ساتھ خصوصی طور پر تعلقات بڑھا لیا کرتی تھی، آخر کار لبنان کے ایک انٹیلی جینس افسر نے یہ ثابت ہوجانے پر کہ وہ لبنان اور شام کے اہم قومی راز موساد تک پہنچا رہی ہے اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا، شولا آخری وقت تک یہ سمجھتی رہی کہ اس نے لبنان کے ایک خوبصورت نوجوان کو یہودی انٹیلی جینس کے لیے کام کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے، لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ وہ جس جال کو پھیلا کر بیٹھی ہوئی ہے اس میں خود پھنس جائے گی، لبنانی انٹیلی جینس افسر نے شولا سے دوستی کی اور اسے اس وقت پکڑا جب وہ موساد کے لیے لکھی جانے والی ایک اہم رپورٹ کسی کے حوالے کر رہی تھی، یہ رپورٹ لبنان کے دفاعی منصوبوں سے متعلق تھی، شولا کے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔

اپنی تمام تر دلفریب اداؤں اور حسن کے جادو کے با وجود انٹیلی جینس کے ایک افسر کے ہاتھوں گرفتار ہو گئی، اس کے خلاف مقدمہ چلا، لبنان کی ایک عدالت نے اسے موت کا حقدار قرار دیا، لیکن پھانسی سے قبل موساد نے لبنان کے ساتھ ایک ڈیل کی جس کے تحت شولا کی پھانسی کی سزا کو سات برس کی قید میں بدل دیا گیا، وہ قید بھگت نہ پائی تھی کہ موساد نے لبنان کے ان جاسوسوں کو رہا کرانے کے بدلے شولا کو آزاد کرالیا جو یہودیوں کی تحویل میں تھے۔

شلمینا سو سال کی عمر میں 21 مئی 2017ء کو وفات پاگئیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Ofer Aderet۔ "The 'Grandma James Bond' Who Spied for Israel Dies at 100"۔ Haaretz (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 مئی 2017۔
  2. Itamar Eichner۔ "Israeli national hero and undercover spy laid to rest"۔ Ynetnews۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 مئی 2017۔