شمسی خدا
}}
شمسی خدا یا سورج دیوتا سے مراد وہ دیوتا ہیں جو سورج سے وابستہ ہیں یا جن کی حیثیت سورج کی طرح کی ہے۔ یہ دیوتا تقریباً تمام قدیم ثقافتوں میں پائے جاتے ہیں اور انھیں عام طور پر زندگی، روشنی، حرارت، زرخیزی اور توانائی کا منبع سمجھا جاتا ہے۔
اہم شمسی دیوتا
[ترمیم]قدیم مصر
[ترمیم]قدیم مصر میں رع کو سب سے اہم شمسی خدا سمجھا جاتا تھا۔[1] انھیں تخلیق کا دیوتا مانا جاتا تھا اور ان کا تذکرہ ہر قسم کے مصری مذہبی متون میں ملتا ہے۔ دیگر اہم شمسی دیوتاؤں میں آتون، حورس اور آمون رع شامل ہیں۔
یونانی اساطیر
[ترمیم]یونانی اساطیر میں ہیلیوس کو سورج کا دیوتا سمجھا جاتا تھا، جو ہر روز اپنے رتھ پر سوار آسمان میں سفر کرتا تھا۔[2] بعد میں اپالو کو بھی شمسی دیوتا کے طور پر پوجا جانے لگا، جو روشنی، موسیقی اور شاعری کا دیوتا تھا۔
رومی اساطیر
[ترمیم]رومی اساطیر میں سول کو سورج کا دیوتا مانا جاتا تھا۔[3] بعد میں اپالو کی پوجا بھی روم میں متعارف ہوئی اور وہ شمسی دیوتا کے طور پر مشہور ہوئے۔
ہندو مت
[ترمیم]ہندو مت میں سوریا کو سورج کا دیوتا مانا جاتا ہے۔[4] ویدوں میں سوریا کو روشنی اور زندگی کا دیوتا قرار دیا گیا ہے۔ دیگر اہم شمسی دیوتاؤں میں سویتا اور وشواکرما شامل ہیں۔
بین النہرین
[ترمیم]بین النہرین کی تہذیبوں میں شمس (اکدی) یا اوتو (سومری) کو سورج کا دیوتا مانا جاتا تھا۔[5] انھیں انصاف اور سچائی کا دیوتا سمجھا جاتا تھا۔
علامات
[ترمیم]اس کی علامات درج ذیل ہیں: روشنی اور چمک، سونے کا تاج یا ہالہ، رتھ جو سورج کو کھینچتا ہے، گھوڑے یا ہنس جو رتھ کو کھینچتے ہیں، سرخ یا سنہری رنگ وغیرہ۔
اختیارات
[ترمیم]اس کے اختیارات میں زندگی بخشنا اور زرخیزی، شفا دینا، نظروں سے حفاظت کرنا انصاف اور سچائی قائم کرنا علم اور روشن خیالی عطا کرنا شامل ہیں۔
تہوار
[ترمیم]شمسی دیوتاؤں کے لیے منائے جانے والے تہوار عام طور پر موسمی تبدیلیوں سے متعلق ہوتے تھے جن میں موسم سرما کا انقلاب، موسم گرما کا انقلاب اور بہار اور خزاں کے اعتدال شامل ہیں۔
جدید اثرات
[ترمیم]آج بھی بہت سی ثقافتوں میں سورج کی پوجا یا احترام کا عنصر موجود ہے۔[6] جدید دور میں شمسی توانائی کے استعمال نے سورج کی اہمیت کو نئے سرے سے اجاگر کیا ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Richard H. Wilkinson (2003)۔ The Complete Gods and Goddesses of Ancient Egypt۔ Thames & Hudson۔ ص 205
- ↑ Robert Graves (1960)۔ The Greek Myths۔ Penguin Books۔ ص 145
- ↑ Lesley Adkins (1998)۔ Handbook to Life in Ancient Rome۔ Oxford University Press۔ ص 289
- ↑ Vettam Mani (1975)۔ Puranic Encyclopedia۔ Motilal Banarsidass۔ ص 767
- ↑ Jeremy Black (1992)۔ Gods, Demons and Symbols of Ancient Mesopotamia۔ University of Texas Press۔ ص 182
- ↑ Nicholas Campion (2012)۔ Astrology and Popular Religion in the Modern West۔ Routledge۔ ص 89