شمس الدين قرطبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شمس الدين قرطبی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1214  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قرطبہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 29 اپریل 1273 (58–59 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مصر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت اندلس
Flag of Spain.svg ہسپانیہ[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان،  مفسر،  محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل تفسیر قرآن،  علم حدیث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں تفسیر قرطبی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر

امام قرطبی (پیدائش: 1214ء— وفات: 29 اپریل 1273ء) کا پورا نام امام محمد بن احمد بن ابوبکر بن فرح ابو عبد اللہ انصاری، خزرجی، قرطبی، اندلسی، مالکی ہے۔ یہ بہت بڑے عالم،مفسر فقیہہ اور عربی زبان کے ائمہ میں شمار ہوتے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

علامہ شمس الدين قرطبی کی ولادت قرطبہ میں 600ھ ـبمطابق 1204ء کو ہوئی پہلے اسکندریہ میں گئے اور اس کے بعد مصر میں مستقل سکونت اختیار کی۔

اکتساب علم[ترمیم]

آپ نے ابن رواج، ابن جمیزی، شیخ ابو العباس احمد بن عمر قرطبی صاحب المفہم، ابو علی حسن بن محمد، بن محمد بکری، حافظ اور ابوالحسن علی بن محمد بن علی بن حفص یحصبی وغیرہ سے اکتساب فیض کیا۔ آپ سے ان کے بیٹے شہاب الدین احمد وغیرہ نے اکتساب فیض کیا۔

اکابر کی زبان میں[ترمیم]

امام ذہبی آپ کے بارے میں ذکر کرتے: آپ مختلف فنون میں نہایت تامہ رکھنے والے اور علم میں متبحر امام ہیں۔ آپ کی بڑی مفید تصانیف ہیں جو آپ کے کثرت علم اور زیادتی فضل پر دال ہیں۔ آپ کی تفسیر کو شہرت نصیب ہوئی یہ تفسیر اپنے معنی میں کامل ہے۔ اس میں ایسی چیزیں ہیں جو آپ کی امامت، ذکاوت اور کثرت علم پر دال ہیں۔ ابن فرحون نے کہا: وہ اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں، متقی عارف علما دنیا میں زہد اختیار کرنے والے اور ان افراد میں سے تھے جو امور آخرت میں مصروف رہتے ہیں۔ آپ کے اوقات عبادت و تصنیف میں صرف ہوتے آپ نے تکلف کو دور پھینک رکھا تھا۔ ابن عماد نے شذرات الذہب میں کہا: آپ حدیث کے معانی میں غواصی کرنے والے اور عمدہ تصنیف کے حامل تھے۔

تصنیفات[ترمیم]

آپ کی مطبوعہ کتب یہ ہیں۔

  1. السنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی وصفاتہ۔
  2. الاعلام بما فی دین النصاری من الاوہام۔
  3. التذکار فی افضل الاذکار
  4. التذکرہ فی احوال الموتی وامور الاخرۃ
  5. قمح الحرص بالزہد والقناعۃ و رد ذل السوال بالکتب والشفاعۃ
  6. الجامع لاحکام القرآن المعروف تفسیر قرطبی

وصال[ترمیم]

آپ کا وصال مصر میں منیۃ، بنی خصیب میں پیر کی رات نو شوال کو 671ھ بمطابق 1273ء میں ہوا اور وہیں آپ کو دفن کیا گیا۔-[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119239426 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. https://libris.kb.se/katalogisering/wt794nsf49ztb3g — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 2 اکتوبر 2012
  3. الموسوعۃ العربیہ العالمیہhttp://www.mawsoah.net