شمس الرحمٰن فاروقی
| شمس الرحمٰن فاروقی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 30 ستمبر 1935ء اعظم گڑھ |
| وفات | 25 دسمبر 2020ء (85 سال)[1] الہ آباد |
| وجہ وفات | کووڈ-19 [1] |
| طرز وفات | طبعی موت [1] |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | الہ آباد یونیورسٹی |
| پیشہ | شاعر ، ادبی نقاد ، سرکاری ملازم ، مصنف |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو [2] |
| اعزازات | |
سرسوتی اعزاز (1996) ساہتیہ اکادمی انعام (برائے:تنقیدی افکار ) (1986)[3] |
|
| ویب سائٹ | |
| ویب سائٹ | باضابطہ ویب سائٹ |
| درستی - ترمیم | |
شمس الرحمٰن فاروقی (وفات:25 دسمبر 2020ء) اردو ادب کے مشہور نقاد اور محقق تھے جنھوں نے تنقید نگاری سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ انھوں نے الہ آباد سے شب خون کا اجرا کیا جسے جدیدیت کا پیش رو قرار دیا گیا۔ اس رسالے نے اردو مصنفین کی دو نسلوں کی رہنمائی کی۔ فاروقی صاحب نے شاعری کی، پھر لغت نگاری اور تحقیق کی طرف مائل ہو گئے۔ اس کے بعد افسانے لکھنے کا شوق چرایا تو “شب خون“ میں فرضی ناموں سے یکے بعد دیگرے کئی افسانے لکھے جنھیں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ تین سال قبل انھوں نے ایک ناول لکھا، جسے عوام و خواص نے بہت سراہا۔ اس کے علاوہ انھیں عام طور پر اردو دنیا کے اہم ترین عروضیوں میں سے ایک گردانا جاتا ہے۔ غرض یہ اردو ادب کی تاریخ میں شمس الرحمٰن فاروقی جیسی کثیر پہلو شخصیت کی نظیر ملنا مشکل ہے۔
انھوں نے کوئی چالیس سال تک اردو کے مشہور و معروف ادبی ماہنامہ “شب خون“ کی ادارت کی اور اس کے ذریعہ اردو میں ادب کے متعلق نئے خیالات اور برصغیر اور دوسرے ممالک کے اعلیٰ ادب کی ترویج کی۔ شمس الرحمن فاروقی نے اردو اور انگریزی میں کئی اہم کتابیں لکھی ہیں۔ خدائے سخن میر تقی میر کے بارے میں ان کی کتاب 'شعر شور انگیز' جوچار جلدوں میں ہے، کئی بار چھپ چکی ہے اوراس کو 1996ء میں سرسوتی سمّان ملا جو برصغیر کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ کہا جاتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے تنقید، شاعری، فکشن، لغت نگاری، داستان، عروض، ترجمہ، یعنی ادب کے ہر میدان میں تاریخی اہمیت کے کارنامے انجام دیے ہیں۔ انھیں متعدد اعزاز و اکرام مل چکے ہیں جن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اعزازی ڈگری ڈی لٹ بھی شامل ہے۔
تصانیف
[ترمیم]- تحقیقی و تنقیدی کتابیں
- اثبات و نفی
- اردو غزل کے اہم موڑ
- اردو کا ابتدائی زمانہ ادبی تہذیب و تاریخ کے پہلو
- افسانے کی حمایت میں
- انداز گفتگو کیاہے
- تعبیر کی شرح
- تفہیم غالب
- شعر شور انگیز چارجلدیں
- شعر غیر شعر اور نثر
- خورشید کا سامان سفر
- صورت و معنی سخن
- غالب پر چار تحریریں
- گنج سوختہ
- لغات روزمرہ
- ہمارے لیے منٹو صاحب
- لفظ ومعنی
- نئے نام
- نغمات حریت
- عروض آہنگ اور بیان
افسانے
[ترمیم]- سوار اور دوسرے افسانے
ناول
[ترمیم]- کئی چاند تھے سر آسماں
- قبضِ زماں (مختصر ناول)
شاعری
[ترمیم]- گنج سوختہ
- سبزاندرسبز
- چارسمت کا دریا
- آسمان محراب
- مجلس آفاق میں پروانہ ساں(جملہ شاعری کی کلیات)
وفات
[ترمیم]شمس الرحمٰن فاروقی 85 سال کی عمر میں 25 دسمبر 2020ء کو وفات پاگئے۔[4]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ https://indianexpress.com/article/india/ushered-in-the-trend-of-modernism-in-urdu-noted-writer-poet-shamsur-rahman-faruqi-dies-7120472/
- ↑ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12004207c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
- ↑ http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#URDU
- ↑ "Noted writer, poet Shamsur Rahman Faruqi passes away". The Indian Express (بزبان انگریزی). 26 Dec 2020. Retrieved 2020-12-26.
بیرونی روابط
[ترمیم]- 1935ء کی پیدائشیں
- 30 ستمبر کی پیدائشیں
- 2020ء کی وفیات
- 25 دسمبر کی وفیات
- الہٰ آباد میں وفات پانے والی شخصیات
- سرسوتی اعزاز وصول کنندگان
- ساہتیہ اکادمی انعام یافتگان
- ادب اور تعلیم کے شعبے میں پدم شری وصول کنندگان
- اتر پردیش کے شعرا
- اردو تنقید نگار
- اردو شعرا
- اردو غیر افسانوی مصنفین
- اردو کے ماہر لسانیات
- اردو محققین
- اردو مصنفین
- اکیسویں صدی کے بھارتی شعرا
- اکیسویں صدی کے ہندوستانی مسلمان
- الٰہ آباد کی شخصیات
- بھارت میں کورونا وائرس کی وبا سے اموات
- بھارتی اردو شعرا
- بھارتی سرکاری ملازمین
- بھارتی مسلم شخصیات
- بیسویں صدی کے بھارتی شعرا
- بیسویں صدی کے بھارتی مرد مصنفین
- پدم شری وصول کنندگان
- جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تدریسی عملہ
- ساہتیہ اکیڈمی اعزاز یافتگان برائے اردو ادب
- ضلع پرتاپ گڑھ، اتر پردیش کی شخصیات
- فاضل جامعہ الہٰ آباد
- اکیسویں صدی کے بھارتی مرد مصنفین
- بھارت کے اردو مصنفین
