شمس تبریزی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شمس الدین محمد بن علی بن ملک داؤد
{{#if:
شمس الدین محمد بن علی بن ملک داؤد
Shamse Tabrizi.jpg
پیدائش 1185تبریز, ایران
وفات 1248خوی, ایران
نسل فارسی
پیشہ جولاہا, شاعر, فلسفی
مذہب اسلام
اہم نظریات فارسی ادب

شمس الدین محمد تبریزیانہیں پیر تبریزی بھی کہا جاتا ہے۔

والد کا نام[ترمیم]

ان کے والد کا نام علاؤ الدین اور نفحات الانس میں علی بن ملک داؤد تبریزی لکھا ہے۔

پیر و مرشد[ترمیم]

بابا کمال الدین جندی کے مرید تھے شیخ رکن الدین سنجاسی اور شیخ ابوبکر زنبیل باف تبریزی کو بھی مرشد کہا گیا ۔

مولانا روم سے ملاقات[ترمیم]

شمس تبریزی نے ایک دفعہ دعا کی کہ مجھے وہ بندہ ملے جو میری صحبت کا متحمل ہو یہ دعا قبول ہو اور قونیہ میں مولانا روم کے پاس پہنچ گئے مولانا جلال ‌الدین محمد بلخی رومی ان سے متاثر تھے۔دوسال ان کی صحبت میں رہے، کہا جاتا ہے کہ مولانا روم کے مریدوں نے حسد کی وجہ سے قتل کیا۔

شاعری[ترمیم]

باکمال صوفی بزرگ اور شاعر تھے، دیوان شمس تبریزی کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

وفات[ترمیم]

نفحات الانس میں ان کی وفات 645ھ بمطابق 1247ء ہے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نفحات الانس عبد الرحمن جامی، شبیر برادرز لاہور
  2. سوانح مولانا روم،شبلی نعمانی،صفحہ 7