شمس کنول
| شمس کنول | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| عملی زندگی | |
| درستی - ترمیم |
شمس کنول اردو کے صحافی، ادیب، تبصرہ نگار اور ناقد تھے۔
تعارف اور حالاتِ زندگی
[ترمیم]شمس کنول کا اصل نام شمس الاسلام تھا۔ وہ مئی/جون 1925ء میں بجنور کے ایک قدامت پسند، سنی مسلم اور زمین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام عبد الحئی عرف محمد جان تھا۔ شمس کے دادا اپنے خوبصورت پوتے کو جمیل کہہ کر بلاتے تھے۔ چھ سال کی عمر میں مدرسے میں داخل کیے گئے تو ان کے لیے ایک گھوڑا اور تانگہ بھی خریدا گیا۔ 1945ء میں انھوں نے بجنور کے گورنمنٹ ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔[1] 1945ء میں مراد آباد کے کالج میں انٹر میں داخلہ لیا تو وہ جنگِ آزادی کے عروج کا زمانہ تھا۔[1]
1950ء میں انھوں نے اپنا نام شمس الالسلام صدیقی سے بدل کر شمس کنول رکھ لیا تھا۔ کالج میں انھیں اپنے ہم خیال دو نیشلسٹ ساتھی ملے۔ 1951ء میں انھوں نے لکھنؤ یونیورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا۔ اپنے طالب علمی کے دور میں انھیں پروفیسر آل احمد سرور، سید احتشام حسین رضوی اور ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی جیسے اساتذہ کا فیض حاصل رہا۔ [1] ان کی شادی جنوری 1971ء میں حامدالانصاری غازی کی بیٹی شہناز غازی سے ہوئی جو خود ایک ادیبہ تھیں اور شادی کے بعد شہناز کنول کے نام سے لکھا کرتی تھیں۔ انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ ان کے اداراتی کاموں میں بہت معاونت بھی کی۔[1] شمس نے تیس برس بمبئی میں گزارے، یہ تیس برس کرائے کے تیس مکانوں میں بسر ہوئے اور بالآخر 1985ء میں اپنے وطن بجنور واپس آ گئے۔ ترکے کی اور قلم کی کمائی کو ملا کے 1985ء میں علی گڑھ میں اپنے مکان "سلامہ" کی بنیاد رکھی۔ شمس سگریٹ نوش تھے۔ ایک ایک دن میں چالیس چالیس سگریٹ پیا کرتے۔ لیکن صحت کے مسائل کی وجہ سے اپنی عمر کی چوتھی دہائی میں شگریٹ نوشی مکمل طور پر چھوڑ دی۔[1]
کتب بینی
[ترمیم]انھیں کتب بینی سے خاص لگاؤ تھا اور میٹرک کے دوران ہی انھوں نے اپنے مطالعے کے لیے ایک علاحدہ کمرہ مختص کر لیا تھا۔ مست قلندر سے لے کر مخزن تک ہر اردو رسالہ پڑھا کرتے تھے۔ البتہ درسی کتابوں سے الجھن تھی۔ روایت شکن طبیعت تھی۔ تقلید سے نفرت کرتے تھے سو آس پاس کا ماحول بھی انھیں مسلم لیگی نہ بنا سکا۔[1]
صحافت اور تبصرہ نگاری
[ترمیم]ان کا پہلا مضمون "میر ممنون" (دہلوی شاعر میر نضام الدین ممنون) گورنمنٹ انٹر کالج مراد آباد کے سالانہ میگزین 1945ء میں چھپا۔ دوسرا مضمون ماہنامہ "شعائیں" 1948ء میں شائع ہوا۔[1] شمس کنول نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز فلمی صحافت سے کیا تھا۔[2]امہوں نے فروری 1963ء میں ایک ثقافتی ماہنامہ گگن (اردو جریدہ) نکالنا شروع کیا جو 1984ء تک شائع ہوتا رہا۔[3] صحافتی زندگی کی ابتدا میں انھوں نے حیات اللہ انصاری، (ایڈیٹر قومی آواز لکھنؤ) اور پرکاش نامی (ایڈیٹر فلم آرٹ دہلی) اور شہزادہ تبسم (ایڈیٹر فلمی دنیا دہلی)سے فیض حاصل کیا۔[1]
ماہنامہ گگن (اردو جریدہ) کے اجرا سے پہلے ان کی قلمی زندگی کے ابتدائی تیرہ برس فلمی صحافت میں بسر ہوئے تھے۔ اپنی طالب علمی کے زمانے ہی میں بابو راؤ پاٹیل کا فلم انڈیا ان کا پسندیدہ پرچہ تھا۔ اور انگریزی ہفت روزہ "سکرین" بھی ان کے مطالعہ میں رہتا تھا۔ انھوں نے اپنی فلمی صحافت کا آغاز جون 1950ء میں روزنامہ "قومی آواز" لکھنؤ میں فلمی مدیر کی حیثیت سے کیا۔ بعد ازاں انھوں نے لکھنؤ سے جنوری 1952ء میں اپنا پندرہ روزہ فلمی اخبار "ساز" نکالا۔ سولہ ماہ میں پندرہ روزہ ساز کے کُل تیرہ پرچے شائع ہوئے۔[1]
1953ء میں شمس دہلی چلے گئے اور شہزادہ تبسم کے ہفت روزہ "فلمی دنیا" میں نائب مدیر کے طور پر کام کرنے لگے۔ کچھ عرصے دیوان سنگھ مفتوں کے اخبار ریاست ویکلی سے بھی وابستہ رہے۔ ساتھ ہی ایک فری لانسر کی حیثیت سے ماہنامہ ایشیا بمبئی، ماہنامہ شعائیں دہلی، فلم آرٹ ویکلی (دہلی) اور دیگر اخبارات و رسائل میں مسلسل فلمی مضامین، فیچراور شذرات تحریر کرتے رہے۔ بالآخر نومبر 1954ء میں وہ بمبئی چلے گئے اور روزنامہ انقلاب بمبئی میں بطور فلم ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔ دو برس کی ملازمت کے بعد انھیں معقول مشاہرے پر بمبئی کی ایڈورٹائزنگ فرم "بھارت اڈورٹائزرس" نے اپنے فلمی ہفت روزے "فنکار" کی ایڈیٹرشپ کی پیشکش کی تو انھوں نے قبول کر لیا اور اس کے فاؤنڈر ایڈیٹر ہوئے۔ اس وقت تک وہ ایک مقبول صحافی کی حیثیت سے اپنی پہچان بنا چکے تھے۔"فنکار" کی حسین طباعت، ستھری کتابت، رنگین تصاویر اور شاندار گیٹ اپ تھا۔ جریدے کو خوب سے خوب تر بنانے میں انھوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اور بمبئی کی فلمی صحافت کو ایک نیا رنگ دیا۔ [3]فنکار سے ڈیڑھ برس بعد مالکان سے اختلاف کی بنا پر علاحدہ ہو گئے اور اپنا ہفت روزہ فلم رپورٹ جاری کیا جو سرمائے کی کمی کے سبب بند ہو گیا۔ تو ایک دوسرے فلمی ہفت روزے انجمن بمبئی میں پلے بیک ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ جنوری 1960ء سے دسمبر 1962ء تک انھوں نے ٹیوشن سے لے کے فلمی مکالمہ نگاری تک کئی کام کیے۔ انھوں نے بمبئی کی فلم نگری میں فلم رائٹر کی حیثیت سے بھی قسمت آزمائی کی۔ چند فلموں کے پلے بیک رائٹر رہے۔ اور ایک فلم "تین استاد"[1] کا مکملاسکرپٹ اپنے نام سے لکھا۔ لیکن انھیں یہاں کا ماحول پسند نہیں آیا اور انھوں نے اسے خیرآباد کہہ دیا۔[3]
طبیعت اور منفرد اسلوب
[ترمیم]شمس کنول نے فلمی دنیا کے نرم و گرم مسائل کو موضوعِ قلم بنایا، ساتھ ہی فلمی صحافت کو ادبی چاشنی بھی دی۔ مضامین اور خبروں کی عنوان سازی میں بھی منفرد تھے۔ فلم انڈیا کے مدیر بابو راؤ پاٹیل کی صحافت اور اسلوب سے متاثر ہو کر فلمی صحافت کے میدان میں اُترنے والے شمس کنول کے تبصروں کا اہم وصف یہ ہے کہ وہ استدلال کو تاثر پر حاوی ہونے دیتے ہیں نہ اپنے دعوے کو غیر متعلق جزئیات میں گم ہونے دیتے ہیں ۔’’بچے اور فلمیں ‘‘، ’’فلمیں ناکام کیوں ہوتی ہیں ‘، ’’کیا فلموں میں گیت ضروری ہے‘ ‘ یہ عنوانات ہی اُن کی سنیما فہمی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔[2]انھوں نے فلم ’’پکار‘‘ کی مدح میں اور ’’پاکیزہ‘‘ کی قدح میں تبصرے لکھے اور کمال(امروہوی)کے زوالِ فن کا تجزیہ پیش کیا۔ ’’شہر اور سپنا‘‘،’’گرم ہوا‘‘، ’’نکاح‘‘ اور’’بازار‘‘ جیسی فلموں کا فنی اور سماجی بصیرت کے ساتھ جائزہ لیا۔ سال کے آخر میں شمس کنول اپنے جریدے گگن (اردو جریدہ) میں معاصر فلموں کی سالانہ رپورٹ پیش کیا کرتے اور سال بھرمیں ریلیز ہونے والی اہم فلموں کا مختلف انداز میں جائزہ لیتے تھے۔[2] وہ انتقام پسند تھے۔ زمانے سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اپنی رائے کا برملا اظہار کرتے۔ روایت شکن تھے مثلاََ ان کے خیال میں سیماب, علامہ نہیں تھے، علامہ اقبال اسلامی شاعر ضرور تھے لیکن عالمی یا آفاقی شاعر نہیں تھے۔ [1] انھوں نے اردو املا کی اصلاح پہ بہت توجہ دی اور اس بارے میں اکثر مضامین لکھا کرتے تھے۔ صوتی املا کے حق میں تھے۔[1]
تحاریر
[ترمیم]- علمِ موسیقی (ماہنامہ آج کل، دہلی، اگست 1956ء)
- فنِ رقص (ماہنامہ آج کل، دہلی، اگست 1959ء)
- گوتم بدھ کا فلسفۂ نجات (ماہنامہ نیا دور، لکھنؤ، جولائی 1959ء)
- یہ لوگ پاگل نہیں تو اور کیا ہیں (دانشوروں کی نفسیات پر)(ماہنامہ انشاء، کراچی، نومبر 1960ء)
- عورت، جہیز اور اسلام (ہفت روزہ پیامِ مشرق، دہلی 7، 14 نومبر 1960ء)
- اردو ڈراما کا پس منظر اور اردو سٹیج ('قند' مردان کا ڈراما نمبر، مئی جون 1961ء)
- بچے اور فلمیں[2]
- فلمیں ناکام کیوں ہوتی ہیں[2]
- کیا فلموں میں گیت ضریری ہے؟[2]
ناقدین کی آراء
[ترمیم]- ندیم صدیقی: شمس کنول بہر لحاظ ایک ممتاز ہی نہیں حقیقی معنوں میں منفرد صحافی اور ادیب تھے وہ اپنے اُردو اِملے اور بعض دیگر نظریات کے سبب اُردو والوں میں' اختلافی ' بھی تھے۔شمس کنول کے بارے میں جب ہم سوچتے ہیں تو وہ اپنے فکر و عمل کے پس منظر میں اپنے زمانے ہی میں نہیں آج بھی ایک امتیازی درجے کے صحافی وادیب نظر آتے ہیں۔[4]
- محمد اسلم پرویز: شمس کنول کا شمار اپنے وقت کے بے باک اور صاحب ِ طرز صحافیوں میں ہوتا ہے۔ اپنی اسی بے باکی اور صاف گوئی کی وجہ سے وہ بااثر علمی و ادبی منظر نامے سے الگ کر دیے گئے تھے۔وہ سال بھر میں ریلیز ہونے والی اہم فلموں کا جس طرح جائزہ لیتے، وہ عام ڈھرے سے بالکل مختلف ڈسکورس کے باب وا کرتا اور نئی نہج پر پڑھنے والوں کی ذہن سازی کرتا تھا۔ شمس کنول قارئین میں اچھی اور بری فلموں کا شعور پیدا کرنا چاہتے تھے اوریوں اپنی ذات میں وہ کسی فلم سوسائٹی سے کم نہ تھے۔[2]
- اسیم کاویانی: شمس کنول ایک ویسیع المطالعہ اور بیدار ذہن ادیب تھے۔ اور فلم اور ادب کے علاوہ زندگی اور زمانے سے جڑے دوسرے موضوعات پر بھی اپنا ایک خاص نقطۂ نظر رکھتے تھے۔ اگرچہ فلم ان کا پہلا پیار تھا، لیکن ہنوپاک کے معیاری جرائد میں وہ مذہبی، سیاسی، معاشرتی، نفسیاتی اور کلچرل موضوعات پر گاہے بگاہے مضامین لکھتے رہتے تھے۔۔۔گگن کے دور میں ان کے قلم سے بہترین مضامین، خاکے اور تبصرے نکلے۔۔۔۔وہ ہندستانی سینما کے ایک باشعور اور باریک بین مبصر اور ناقد رہے۔ اور انھوں نے اس کے ہر پہلو پر گہری نظر رکھی۔[3]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ شمس کنول، انتخابِ گگن، جلد 001، ممبئی: کاویانی پبلیشرز، 2009ء۔ آن لائن دستیاب
- ^ ا ب پ ت ٹ ث ج محمد اسلم پرویز، "اُردو صحافت کے 200؍سالہ سفر میں فلم جرنلزم انتہائی کمزور کڑی رہی ہے"، اِقبال فیچرز، 15 اکتوبر 2023ء۔ آن لائن دستیاب
- ^ ا ب پ ت اسیم کاویانی، "شمس کنول کی فلمی صحافت"، انشاء (ماہنامہ)، 2010ء، ص 106۔ آن لائن دستیاب
- ↑ ندیم صدیقی، "شمس کنول کا مجلہ گگن - تاریخی شمارہ ہندستانی مسلمان نمبر"، تعمیر نیوز، 18 اپریل 2014ء۔ آن لائن دستیاب