شمشاد بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شمشاد بیگم
Shamshad Begum
پیدائش 14 اپریل 1919ء (عمر 100 سال)امرتسر, پنجاب, بھارت
اصناف پس پردہ گلوکار
پیشے گلوکارہ
سالہائے فعالیت 1934–1975

آج سے چورانوے سال قبل امرتسر میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے آل انڈیا ریڈیو سے اپنے فنی سفر کا آغاز 16 دسمبر 1937 میں کیا۔ ان کی صاف اور واضح آواز کو سامعین نے بہت پسند کیا جس کی وجہ سے جلد ہی انہیں سارنگی نواز استاد حسین بخش والے نے اپنی شاگردی میں لیا۔ شمشاد بیگم کی آواز سے تو سامعین کی شناسائی تھی ہی مگر لوگوں کو ان کا چہرہ دیکھنے کا موقع 1970 کی دہائی میں ملا، کیونکہ وہ اپنی تصاویر کھنچوانے سے ہمیشہ کتراتی تھیں۔ انہوں نے برصغیر کے نامور موسیقاروں او پی نیر اور نوشاد علی کے ساتھ کام کیا اور ان کے ساتھ گانے والوں میں لتا منگیشکر، آشا بھونسلے اور محمد رفیع شامل تھے۔ لاہور میں موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے ان کی آواز کو مہارت کے ساتھ چند ابتدائی فلموں میں استعمال کیا جن میں 1941 میں بننے والی فلم خزانچی اور 1942 میں بننے والی فلم خاندان شامل ہیں۔ انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پہلا مغربی طرز کا گانا ’میری جان سنڈے کے سنڈے‘ گایا۔ ان کے گانے آج بھی اتنے ہی مقبول ہیں جتنے آج سے 50 سال قبل تھے اور کئی گلوکاروں اور موسیقاروں نے ان کے گانوں کے ری مکس تیار کیے جو بے حد مقبول ہوئے۔ انہیں 2009 کے دوران پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا۔ شمشاد بیگم 1944 میں ممبئی منتقل ہو گئیں جہاں انہوں نے کئی شہرہ آفاق فلموں میں گانے گائے اور آج بھی وہاں اپنی بیٹی کے ساتھ قیام پزیر ہیں۔ شمشاد بیگم کی 94ویں برس کو پہنچنے کی خبر جب عام ہوئی توشائقین حیران رہ گئے کہ شمشاد بیگم تو28فروری 2007کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔ دراصل راگنی کے نام سے مشہور ماضی کے مقبول اداکارہ شمشاد بیگم نے طویل علالت کے بعد لاہور کے ایک اسپتال میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔ خوبصورت آنکھوں کی وجہ سے راگنی کو آہو چشم کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ انھوں نے 1940میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا اور قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں متعدد فلموں میں مرکزی اور کریکٹر رول کیے۔ ان کی مشہور فلموں میں انار کلی، گمنام، صاعقہ اور دیگر کئی شامل ہیں جبکہ’ شاہجہان‘ میں گلوکار اور اداکار سہگل کے ساتھ ممتاز محمل کا کردار ادا کیا نیز’ انار کلی‘ میں نورجہاں کے مقابل ویمپ کے کردار نے بھی بھر پور مقبولیت پائی۔ اسے فلمی صنعت کی لعنت کہئے یا حالات کی مار‘کہ راگنی طویل عرصہ سے فردوس مارکیٹ گلبرگ کی ماڈل کالونی میں اکیلی رہ رہی تھیں۔ ان کے جواں سال اکلوتے بیٹے کا نیویراک میں کینسر سے انتقال ہو گیا تھا جبکہ اکلوتی صاحبزادی شوہر اور بچوں کے ساتھ کراچی رہتی ہیں۔ راگنی نے داماد یا مرحوم بیٹے کی اولاد کے پا س نیو یارک رہنے کی بجائے اس کمرے میں آخری دن گزارنے کا فیصلہ خود کیا تھا۔ اس کے علاوہ شمشاد بیگم ایک کلاسیکل گلوکارہ کا نام بھی تھا جو سائرہ بانو کی نانی تھیں جن کا انتقال 1998 میں ہوا تھا۔ اس موقع پر بہت سوں نے سمجھا کہ اِن شمشاد بیگم کا انتقال ہو گیا ہے جبکہ شمشاد بیگم جو فلمی گلوکارہ تھیں وہ آج 94 برس کی ہو گئی ہیں۔ اپنے آخری ایام تنہا گذارنے والی یہ تنہا شخصیت نہیں ہیں بلکہ ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ گلوکارہ شمشاد بیگم کا ممبئی میں انتقال ہو گیا آ ’مغل اعظم‘، ’مدر انڈیا‘، ’سی آئی ڈی‘ اور’قسمت‘ جیسی فلموں میں آواز کا جادو جگانے والی گلوکارہ شمشاد بیگم کا 94 سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال ہو گیا ۔

ان کی بیٹی اوشا رترا نے بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’گزشتہ کئی مہینوں سے ان کی طبیعت ناساز تھی اور انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔گزشتہ رات ان کا انتقال ہو گیا۔‘ انھوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں ان تجہیز و تکفین کی رسم ادا کر دی گئی۔‘

شمشاد بیگم ہندوستانی فلموں میں پلے بیک سنگر کی صف اول کی کلاسیکل گلوکارہ تھیں اور وہ اپنی منفرد آواز کے لیے جانی جاتی تھیں۔ وہ ممبئی میں اپنی بیٹی اوشا رترا اور داماد کے ساتھ رہتی تھیں۔ انھوں نے گنپت لا بٹّو سے شادی کی تھی جن کا 1955ء میں انتقال ہو گیا تھا۔

انہوں نے لاہور ریڈیو سے 1937 میں اپنی گائیکی کے کیریئر کا آغاز کیا تھا جو آل انڈیا ریڈیو کا حصہ ہوا کرتا تھا۔

ان کی صاف اور واضح آواز کو سامعین نے بہت پسند کیا جس کی وجہ سے جلد ہی انہیں سارنگی نواز استاد حسین بخش والے نے اپنی شاگردی میں لیا۔

شمشاد بیگم کی آواز سے تو سامعین کی شناسائی تھی ہی مگر لوگوں کو ان کا چہرہ دیکھنے کا موقع 1970 کی دہائی میں ملا، کیونکہ وہ اپنی تصاویر کھنچوانے سے ہمیشہ کتراتی تھیں۔

انہوں نے برصغیر کے نامور موسیقاروں او پی نیر اور نوشاد علی کے ساتھ کام کیا اور ان کے ساتھ گانے والوں میں لتا منگیشکر، آشا بھونسلے اور محمد رفیع شامل تھے۔

لاہور میں موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے ان کی آواز کو مہارت کے ساتھ چند ابتدائی فلموں میں استعمال کیا جن میں 1941 میں بننے والی فلم ’خزانچی‘ اور 1942 میں بننے والی فلم ’خاندان‘ شامل ہیں۔

انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پہلا مغربی طرز کا گانا ’میری جان سنڈے کے سنڈے‘ گایا۔

ان کے گانے آج بھی اتنے ہی مقبول ہیں جتنے آج سے پچاس سال قبل تھے اور کئی گلوکاروں اور موسیقاروں نے ان کے گانوں کے ری مکس تیار کیے جو بے حد مقبول ہوئے۔

شمشاد بیگم 1944 میں ممبئی منتقل ہو گئیں جہاں انہوں نے کئی شہرہ آفاق فلموں میں گانے گائے۔

ان کے نغمے آج بھی لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

ان کے گیتوں میں ’لے کر پہلا پہلا پیار‘، ’میرے پیا گئے رنگون‘، ’ کبھی آر کبھی پار لاگا تیر نظر‘، ’کجرا محبت والا انکھیوں میں ایسا ڈالا‘ یا پھر’ کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ‘ شامل ہیں۔

ان کے نغموں میں ’مدر انڈیا‘ کا ہولی کا گیت ’ہولی آئی رے کنہائی‘ کے ساتھ ’مغل اعظم‘ کی قوالی ’تیری محفل میں قسمت آزما کر ہم بھی دیکھیں‘ گے جیسے مقبول خاص و عام گیت بھی ہیں۔

سنہ 2009 میں شمشاد بیگم کو بھارت کے پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا اسی سال انہیں موسیقی کی دنیا میں ان کی بیش قیمت خدمات کے لیے او پی نیّر اعزاو سے بھی نوازا گیا تھا۔