شمشیر الحیدری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شمشیر الحیدری
معلومات شخصیت
پیدائش 15 ستمبر 1931  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کڈھن،  ضلع بدین،  سندھ،  بمبئی پریزیڈنسی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 اگست 2012 (81 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ سندھ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر،  مدیر،  ڈراما نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت سندھی ادبی بورڈ،  محکمہ اطلاعات سندھ،  پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
Pride of Performance (ribbon).gif تمغائے حسن کارکردگی  (2010)
پی ٹی وی اعزاز   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

شمشیر علی المعروف شمشیر الحیدری (پیدائش: 15 ستمبر 1931ء - وفات: 11 اگست 2012ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے نامور شاعر، صحافی، ڈراما نگار، براڈکاسٹر اور سندھی ادبی بورڈ کے علمی و ادبی جریدے مہران کے ایڈیٹر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

شمشیر الحیدری 15 ستمبر 1931ء کو کڈھن، ضلع بدین، سندھ، بمبئی پریزیڈنسی میں کے مقام پر پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم پہلے بدین گورنمنٹ اسکول میں اور پھر کراچی میں سندھ کی قدیم درسگاہ سندھ مدرسۃ الاسلام میں حاصل کی۔ لکھنے اور عملی زندگی کی ابتدا انھوں نے 1951ء میں اپنے چچا ڈاکٹر نوید الحیدری ایڈیٹر ہفت روزہ عین الحق کے ساتھ کام سے شروع کیا۔ اِسی ہفت روزہ میں انھوں نے اپنی شاعری اور تنقیدی مضامین کی اشاعت کی ابتدا بھی کی۔ اس کے بعد وہ 1954ء میں وہ حیدرآباد منتقل ہو گئے اور وہاں سے روزنامہ صحافت جاری کیا۔ غالباً اسی دوران انھوں نے سندھ یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کی اور 1956ء میں سرکاری ملازمت اختیار کر لی اور بالاخر 1991ء میں محکمہ اطلاعات حکومت سندھ سے گریڈ 19 کے افسر کے طور پر سبکدوش ہوئے۔[1]

ادبی خدمات[ترمیم]

ان کا پہلا شعری مجموعہ ’لاٹ‘ (دیے کی لو) پہلی بار 1962ء میں شائع ہوا۔ جس کی نئی اشاعت، چالیس سال بعد، اِسی سال 2012ء میں ہوئی۔ ان کے لکھے ہوئے کئی گیت اور غزلیں انتہائی مقبول ہوئیں۔ اپنے شعری اسلوب کے مطابق وہ اردو سے بہت قریب تھے اور سندھی میں آزاد نظم لکھنے والے ابتدائی شعرا میں شامل تھے۔ وہ دس سال تک سندھی ادبی بورڈ کے سیکرٹری رہے اور اس دوران انھوں نے پونے دو سو سے زائد کتابوں کی تدوین اور ترجمہ کرا کر شائع کرایا۔ وہ سندھ میں ادیبوں کی سب سے بڑی تنظیم سندھی ادبی سنگت کے بانی تھے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان میں ٹیلی ویژن کے اولین سندھی اینکر، اسکرپٹ رائٹر اور ڈراما نگار بھی رہے۔[1][2]

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان نے 2010ء میں شمشیر الحیدری کی ادبی خدمات کے صلہ میں صدارتی اعزاز برائے حسن کاکردگی عطا کیا۔ اس کے علاوہ شمشیر کو چار بار پی ٹی وی ایوارڈ، سچل ایوارڈ، سندھی اکیڈمی کی جانب سے ایوارڈ، سندھی ادبی سنگت کی جانب سے گولڈن جوبلی شیلڈ اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، سندھ اسمبلی کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ شیلڈ سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی، محکمہ ثقات سندھ، محکمہ اطلاعات سندھ، اکادمی ادبیات پاکستان، سندھ مدرسۃ الاسلام، کراچی پریس کلب، سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن، ماہوار جریدے نئیں زندگی، ریڈیو پاکستان اور ایرانی کلچرل سینٹر اینڈ اکیڈمی سمیت مختلف ادبی تنظیموں و ثقافتی اداروں کی جانب سے لاتعداد اعزازات اور شیلڈز سے نوازا گیا۔

وفات[ترمیم]

شمشیر الحیدری کی وفات 11 اگست 2012ء کو کراچی پاکستان میں وفات پا گئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]