شملہ وفد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں 1906ء کا سال ایک اہم سال قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اسی سال یہاں کے مسلمانوں نے دو نہایت ہی اہم کارنامے سر انجام دیے:

  1. شملہ وفد کی تنظیم
  2. آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام

شملہ وفد[ترمیم]

جب انگریز ہندوستان کا حکمران بنا تھا، مسلمانوں کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا، کہ پورے ہندوستان سے 35 [1]) مسلم زعما اور عمائدین پر مشتمل ایک نمائندہ وفد نے انگریز وائسرائے لارڈ منٹو سے شملہ میں ملاقات کی۔ مسلمانوں کا یہ وفد ’’شملہ وفد1906ء ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ لیڈی منٹو نے اپنی ڈائری میں شملہ وفد کو “An epoch in Indian History”کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ جن زعما نے شملہ وفد کو منظم کرنے اور انگریز وائسرائے کے پاس بھیجنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان میں نواب محسن الملک، نواب وقار الملک، سید حسین بلگرامی، (عماد الملک) آفتاب احمد خان، سر محمد یعقوب، حاجی محمد اسماعیل، سر سلطان محمد آغا خان سوم، سید امیر علی اور ایم۔ اے۔ او کالج کے پرنسپل آرک بولڈ کے نام قابل ذکر ہیں۔

پس منظر[ترمیم]

شملہ وفد کے پس منظر میں دو فی الفور محرکات کار فرما نظر آتے ہیں:

  1. تقسیم بنگال پر ہندوؤں کا رویہ
  2. انگریز سرکار کی جانب سے منٹو مارلے اصلاحات متعارف کرانے کا عندیہ

تقسیم بنگال 1905ء کی ہندوؤں نے جس انداز اور شد و مد سے مخالفت کی اور انگریزی سرکار کے خلاف عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی اس نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو اس پر مجبور کر دیا کہ وہ اپنے پیدائشی آئینی اور قانونی حقوق اور مفادات کو تحفظ دلانے کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرے۔ مزید برآں جب جولائی 1906ء میں انگریز سرکار کی طرف سے ہندوستان میں منٹو مارلے اصلاحات متعارف کرانے کا عندیہ دیا گیا تو نواب محسن الملک، نواب وقار الملک اور دیگر مسلم زعما نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کا ایک نمائندہ وفد انگریز وائسرائے کے پاس بھیجنے کے انتظامات بلا تاخیر شروع کر دیے تاکہ متوقع اصلاحات میں مسلمانوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ سر سلطان محمد آغا خان سوم کی سربراہی میں مسلمانوں کے اس وفد نے یکم اکتوبر 1906ء کو وائسرائے لارڈ منٹو سے شملہ میں ملاقات کی۔ اور ان کو مسلمانوں کے جذبات، احساسات اور مطالبات سے آگاہ کیا۔

سپاس نامہ[ترمیم]

مسلمانوں کی طرف سے وائسرائے کو جو سپاسنامہ پیش کیا گیا اسے عماد الملک نے تحریر کیا تھا۔ اس میں مندرجہ ذیل مطالبات تھے۔

  1. ہندوستان میں جداگانہ طریقہ انتخابات متعارف کرانے کا مطالبہ
  2. سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی بھرپور نمائندگی
  3. یونیورسٹی سنڈیکیٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی
  4. برطانوی ہند میں مسلمانوں کے لیے علاحدہ یونیورسٹی قائم کرنے کے لیے امداد

مسلمانوں کے ان مطالبات پر انگریز وائسرائے کا رد عمل کافی حوصلہ افزا رہا۔ اپنی جوابی تقریر میں لارڈ منٹو نے یہاں تک کہا۔

“Please don’t misunderstand me ---- I am in complete accord with you.”

’’براہ مہربانی مجھے سمجھنے کی کوشش کیجیے گا۔ میں آپ لوگوں کے ساتھ مکمل اتفاق کرتا ہوں‘‘

رد عمل[ترمیم]

مسلمانوں کے اس اقدام سے کانگریسی پنڈتوں کے دامن میں آگ لگ گئی۔ انہوں نے شملہ وفد کو انگریزوں کی ایک اسکیم قرار دیا۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہ تھا دراصل شملہ وفد مسلمانوں کے ان جذبات و احساسات کا مظہر ہے جو 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندوؤں کی اسلام اور مسلمان دشمن سرگرمیوں کے باعث پروان چڑھ رہے تھے۔

قیام مسلم لیگ[ترمیم]

شملہ میں قیام کے دوران وفد میں شامل اراکین نے آپس میں گفتگو کے دوران بطور خاص اس موضوع پر اپنے خیالات کا برجستہ اظہار کیا کہ کیا وقت آپہنچا ہے کہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ایک علاحدہ، سیاسی اور نمائندہ جماعت کا قیام عمل میں لایا جائے۔ چنانچہ شملہ وفد کے محض تین مہینے بعد 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ کے مقام پر نواب وقار الملک کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پورے برصغیر پاک و ہند سے کل 41 مسلم زعما اس وفد میں شامل یے گئے تھے لیکن ان میں سے 35 شملہ گئے جبکہ باقی 6 رہنما بیماری یا دیگر مجبوریوں کی وجہ سے شملہ نہیں جا سکے