آر ایف آئی ڈی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شناخت مشعہ تعدد سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

آر ایف آئی ڈی (RFID) سے مراد ریڈیو فریکوئینسی آئیڈینٹی فیکیشن Radio-frequency identification ہے۔ یہ ایسے ٹرانسمیٹر ہیں جو تقریباً چاول کے دانے کے برابر ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بیٹری نہیں ہوتی۔ جب ایک دوسرا بیرونی ٹرانسمیٹر (جس میں بیٹری ہوتی ہے اور جسے ریڈر کہتے ہیں) آر ایف آئی ڈی کو پڑھنے کے لیے سگنل بھیجتا ہے تو آر ایف آئی ڈی اسی بیرونی سگنل سے توانائی حاصل کر کے جواب میں ایک کوڈ نمبر بھیجتا ہے جسے ریڈر پڑھ لیتا ہے اور آر ایف آئی ڈی کو پہچان لیتا ہے۔ بڑی دکانوں اور ڈپارٹمنٹل اسٹور کی اکثر اشیا میں آر ایف آئی ڈی لگا ہوتا ہے جس سے نہ صرف چوری ہونے کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں بلکہ موجود اشیا کی فہرست (inventory) تیار کرنا بھی بہت آسان ہو جاتا ہے۔ ریڈر کئی میٹر کے فاصلے سے آر ایف آئی ڈی کو پڑھ اور پہچان سکتا ہے۔

انسان کی ہتھیلی پر رکھا ہوا ایک چاول کا دانہ اور ایک مائیکرو چپ سے بنا ہوا آر ایف آئی ڈی۔ اس میں موجود ایک کوائل آس پاس موجود ریڈیو کی لہروں سے اتنی بجلی بنا لیتا ہے کہ RFID کو کسی بیٹری کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سپر مارکیٹ کی اکثر اشیاء میں ایسا RFID چھپا ہوا ہوتا ہے اور قیمت ادا کرنے پر اسکا نمبر کمپیوٹر کی اس فہرست سے خارج کر دیا جاتا ہے جسے باہر لے جانے پر الارم بجنا چاہیے۔ اس طرح چوری رک جاتی ہے۔ RFID کی اپنی قیمت 15 سینٹ ہوتی ہے۔
ایک بھیڑ کے کان پر لگا ہوا RFID ٹیگ۔

اتنے چھوٹے آر ایف آئی ڈی آلے بھی بن چکے ہیں جنہیں چونٹی پر چپکایا جا سکتا ہے۔

جن آر ایف آئی ڈی میں بیٹری ہوتی ہے وہ فعال آر ایف آئی ڈی کہلاتے ہیں۔ یہ اور بھی زیادہ دوری سے جانچے جا سکتے ہیں اور فوج کے عام استعمال میں ہیں۔

بار کوڈ بمقابلہ آر ایف آئی ڈی[ترمیم]

  • بار کوڈ پڑھنے کے لیے ریڈر عین سامنے ہونا چاہیے اس لیے انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔ آر ایف آئی ڈی پڑھنے کے لیے انسان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ خاصے فاصلے سے پڑھا جا سکتا ہے۔
  • بار کوڈ ایک وقت میں ایک ہی پڑھا جاتا ہے جبکہ سینکڑوں آر ایف آئی ڈی ایک ساتھ پڑھے جا سکتے ہیں۔
  • بار کوڈ نمایاں ہونا چاہیے جبکہ آر ایف آئی ڈی ڈبے یا پیکنگ کے اندر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ بار کوڈ چھپایا نہیں جا سکتا جبکہ آر ایف آئی ڈی چھپایا جا سکتا ہے۔
  • آر ایف آئی ڈی مویشی، پالتو جانور اور انسان کے جسم کے اندر چھپایا جا سکتا ہے، بار کوڈ نہیں۔

استعمال[ترمیم]

شیمپو کی بوتل کا لیبل جس کی پشت پر آر ایف آئی ڈی کا اینٹینا واضح ہے۔ عین مرکز میں مائیکرو چِپ ہے۔
  • سپر مارکیٹوں میں اشیاء کی چوری روکنے کے لیے RFID نہایت کارآمد ہے۔
  • مشینی طریقے سے پڑھے جانے والے پاسپورٹ میں
  • دفتر میں آنے اور جانے کے اوقات (حاضری) کے لیے
  • کارخانوں میں پرزوں کی نقل و حمل پر نظر رکھنے کے لیے
  • اسمبلی لائن پر بننے والے سامان کی جانچ پڑتال کے لیے
  • ایئر پورٹ پر سامان کی نقل و حمل کے لیے
  • داخل ہونے کی اجازت کنٹرول کرنے کے لیے
  • لائبریری کی کتابوں پر مکمل نظر رکھنے کے لیے
  • پالتو جانور اور مویشیوں کو گم ہونے سے بچانے کے لیے
  • خودبخود ادائیگی کے لیے مثلاً کار میں نصب RFID جب چنگی ناکے سے گزرے گا تو چنگی ٹیکس خود بخود کریڈٹ کارڈ سے ادا ہو جائے گا
  • کیسینو میں جعلی ٹوکن کی پہچان کے لیے

انسانی نمبر پلیٹ[ترمیم]

ایک آدمی کے ہاتھ میں RFID tag داخل کرنے کے فوراً بعد کا منظر۔ پیلا رنگ دوا آیوڈین کی وجہ سے ہے جو ہر آپریشن سے پہلے کھال پر لگائی جاتی ہے۔

اس بات کا قوی امکان ہے کہ مستقبل میں قانون سازی کر کے آر ایف آئی ڈی کا انسانی جسم میں موجود ہونا لازمی قرار دے دیا جائے جس طرح آج کل شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہے۔ اس طرح دہشت گردوں پر نظر رکھنے کے بہانے ہر آدمی کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ رکھا جا سکے گا۔ جب بھی کوئی شخص کسی بس، ریل یا جہاز میں سفر کرے گا یا کسی سپر مارکیٹ یا بینک میں داخل ہوگا تو یہ معلومات کمپیوٹر میں خود بخود محفوظ ہو جائیگی۔ [1] سی ٹی اسکین کی مدد سے انسانی جسم کے بعض حصوں میں آر ایف آئی ڈی کا داخل کرنا آسان ہے جبکہ انہیں نکالنا انتہائی مشکل اور خطرناک ہو سکتا ہے۔

اس بات کی کوششیں جاری ہیں کہ آر ایف آئی ڈی کو مصنوعی سیاروں سے پڑھے جانے کے قابل بنا دیا جائے لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ملی۔

حوالہ جات[ترمیم]