مندرجات کا رخ کریں

شنکردیو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
شنکر دیو
شنکر دیو
بشنو پرساد رابھا کی بنائی ہوئی شریمنت شنکر دیو کی ایک خیالی تصویر[1]
ذاتی زندگی
پیدائش1449ء
بردوا، قدیم نام علی پکھوری، ٹمبوانی[2]
(ناگاؤں ضلع، آسام، بھارت)
وفات1568ء (عمر 118–119)[3][4]
بھیلا ڈونگا
(موجودہ کوچ بہار، مغربی بنگال، بھارت)
مذہبہندومت
والدین
  • کسمبر شرومنی بھویاں[5] (والد)
  • ستیا سندھیا (والدہ)
بانیایک شرن دھرم
فلسفہایک شرن دھرم
مرتبہ
جانشینمادھو دیو
اعزازات"مہاپرش" کی حیثیت سے مرکز عقیدت
اقتباس
لہٰذا ہر چیز اور ہر فرد کو یوں دیکھو جیسے وہ خود خدا ہو! کسی برہمن کی ذات معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو اور نہ ہی کسی چنڈال کی۔[6]

شریمنت شنکر دیو[7] (1449ء–1568ء) پندرھویں اور سولھویں صدی میں آسام کے جامع علوم و فنون ہندو فلسفی، ایک صاحبِ طرز ادیب، شاعر، ڈراما نگار، رقاص، اداکار، موسیقار، فنکار اور سماجی و مذہبی مصلح تھے، جنھوں نے آسام میں بھکتی تحریک کی مذہبی اور ثقافتی تاریخ میں کلیدی مقام حاصل کیا۔ قدیم ثقافتی ورثے کی بنیاد پر موسیقی کی نئی اصناف (بور گیت)، تھیٹر کے مظاہرے (انکیا ناٹ، بھاؤنا)، رقص (ستریہ) اور ادبی زبان (برج ولی) وضع کرنے کا سہرا بھی شنکر دیو کے سر ہے۔ علاوہ بریں انھوں نے سنسکرت، آسامی اور برج ولی زبانوں میں مقدس کتابوں کے تراجم (شنکر دیو کی بھاگوت)، شاعری اور الٰہیاتی تصانیف کا ایک عظیم ادبی ذخیرہ بھی چھوڑا ہے۔ شنکر دیو نے جس بھاگوت مذہبی تحریک کا آغاز کیا، اسے ایک شرن دھرم یا جدید ویشنو تحریک بھی کہا جاتا ہے۔[8] اس تحریک نے قرونِ وسطیٰ کی دو مملکتوں —کوچ اور اہوم— کو متاثر کیا اور ان کے عقیدت مندوں کی جماعتیں وقت کے ساتھ ساتھ خانقاہی مراکز میں تبدیل ہوگئیں جنھیں ستر (सत्र) کہا جاتا ہے، یہ مراکز آج بھی آسام اور کسی حد تک شمالی بنگال میں اہم سماجی و مذہبی اداروں کی حیثیت سے قائم ہیں۔

شنکر دیو کی ادبی اور فنی خدمات آج بھی آسام میں ایک زندہ روایت کے طور پر موجود ہیں۔ ان کے بتائے ہوئے مذہب پر ایک بڑی آبادی عمل پیرا ہے اور ان کے اور ان کے پیروکاروں کے قائم کردہ ستر (خانقاہیں) بدستور پھل پھول رہے ہیں اور ان کی میراث کو زندہ رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔

شنکر دیو کی وفات کے بعد مادھو دیو نے ان کی زندگی کے حالات کو دعائیہ تقاریب میں شامل کیا، یہ ایک ایسی روایت تھی جس پر ان کے شاگردوں نے بھی عمل کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ سوانحی ادب کا ایک بڑا ذخیرہ وجود میں آگیا۔[9] ان سوانح عمریوں کو عام طور پر دو گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ابتدائی (دیتاری ٹھاکر، بھوشن دویجا، رامانند دویجا اور بیکنٹھ دویجا کی تحریر کردہ) اور متاخر (انیرودھ داس کی "گرو ورنن"، متعدد گمنام "کتھا گرو چرتر"، "بردوا چرتر"، برپیٹا کی "شنکر دیو چرتر" اور سرب بھوم کی "سرو سورگ کھنڈ" اور "بر سورگ کھنڈ")۔[10] دیتاری ٹھاکر کے والد رام چرن ٹھاکر سے منسوب سوانح عمری کی اصلیت مشکوک ہے اور اسے عام طور پر سترھویں صدی کی تصنیف قرار دے کر متاخر سوانح عمریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔[11]

عام طور پر تمام سوانح نگار شنکر دیو کو وشنو کا اوتار تسلیم کرتے ہیں، بشمول دیتاری ٹھاکر کے جو سب سے قدیم سوانح نگار ہیں۔ متاخر سوانح عمریاں ابتدائی گروہ سے اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ ان میں شنکر دیو سے مافوق الفطرت کارنامے منسوب کیے گئے ہیں اور معجزاتی واقعات بیان کیے گئے ہیں؛ نیز ان میں بھاگوت کے کچھ واقعات کو ان کی زندگی پر منطبق کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔[12] ان سوانح عمریوں میں تضادات پائے جاتے ہیں؛ اگرچہ ابتدائی تحریروں کو زیادہ درست مانا جاتا ہے، لیکن ان کے تمام دعوے سچے نہیں ہیں۔ دیتاری ٹھاکر کی سوانح عمری، جو سب سے قدیم ہے، یہ دعویٰ کرتی ہے کہ شنکر دیو کی ملاقات چیتنیہ سے ہوئی تھی جسے اب درست تسلیم نہیں کیا جاتا۔[13]

سوانح حیات

[ترمیم]

ابتدائی زندگی: بردوا

[ترمیم]
شریمنت شنکر دیو کی جائے پیدائش پر واقع کیرتن گھر۔
شنکردیو کا شجرۂ نسب
چنڈی ورسندھیا
رجادھوادیواہُتی
کھیرسوتیسوریہ وَرجَیَنتہل یودھمادَھو
ستیہ سندھیاکُسُم وَرانُدِھرِتیشَتَنندا
سوریہ وَتیشنکردیوکالِندیہَل دھررام رائے
ہریمنورامانندکمل لوچنہری چرنکملا پریاچلارئے
پرشوتمچَتُربُھج

شنکر دیو، جن کا نام اس وقت شنکر ور تھا،[14] تقریباً 1449ء میں موجودہ ناگاؤں ضلع کے مقام بردوا (علی پکھوری، ٹمبوانی) میں "شرومنی" (سربراہ) بارو بھویاں خاندان میں پیدا ہوئے۔[15] اگرچہ بعض مصنفین نے اس طویل عمر کے بارے میں شک کا اظہار کیا ہے، لیکن عام طور پر 1449ء ہی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔[16] بارو بھویاں آسام کے آزاد زمیندار تھے اور شنکر دیو کا تعلق کایستھ (کلیتا) خاندان سے تھا۔ ان کے اہل خانہ، بشمول والدین کُسُموَر بھویاں اور ستیا سندھیا دیوی شاکت مت کے پیروکار تھے۔ جب شنکر دیو کی عمر تقریباً 7 سال تھی تو ان کے والد چیچک کی وجہ سے وفات پا گئے،[17] اور ان کی والدہ کا انتقال بھی یا تو ان کی پیدائش کے فوراً بعد یا والد کی وفات کے تھوڑے ہی عرصہ بعد ہو گیا؛[18] جس کے بعد ان کی پرورش ان کی دادی کھرسوتی نے کی۔

شنکردیو نے 12 سال کی عمر میں مہندر کندالی کے "ٹول" یا "چھترسال" (اسکول) میں تعلیم کا آغاز کیا اور جلد ہی اپنی پہلی منظوم تخلیق کرتَل کمل لکھی۔ یہ مکمل نظم انھوں نے حروفِ علت سیکھنے سے پہلے ہی لکھ دی تھی (سوائے پہلے حرف کے) اور اسے اکثر ان کی ابتدائی شعری جبلت کے غیر معمولی اظہار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ اپنی نو عمری کے دوران میں "ٹول" میں مقیم رہے اور قواعد زبان اور ہندوستانی صحائف کا مطالعہ کیا۔[19] وہ یوگا کی مشق بھی کرتے تھے (جسے بعد میں ترک کر دیا) اور جسمانی طور پر نہایت مضبوط و توانا تھے۔[20] روایات کے مطابق وہ بپھرے ہوئے دریائے برہم پتر کو تیر کر عبور کر لیا کرتے تھے۔ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ شنکردیو نے اپنی پہلی تصنیف "ہرِش چندر اُپاکھیان" دورانِ تعلیم ہی میں لکھی تھی۔[19] مدرسے ہی میں مہندر کندالی نے ان کا نام تبدیل کر کے "شنکر دیو" رکھ دیا تھا۔[19]

بھویاں شرومنی (سربراہ)

[ترمیم]

شنکر دیو نے جلد ہی تمام بڑے صحائف پر عبور حاصل کر لیا اور تقریباً 1465ء میں اپنی نو عمری کے آخری ایام میں مدرسہ چھوڑ کر بارو بھویاں کے شرومنی (سربراہ) کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ وہ اپنی رعایا اور مداحوں میں "دیکا گِری" کے نام سے مشہور ہوئے۔ چونکہ علی پکھوری میں آبادی زیادہ ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے اپنا گھر بار وہاں سے بردوا منتقل کر دیا۔ بیس سے کچھ زائد برس کی عمر میں شنکر دیو نے اپنی پہلی اہلیہ سوریا وتی سے شادی کی، جن سے تین سال بعد ایک بیٹی "منو" پیدا ہوئی، لیکن بیٹی کی پیدائش کے تقریباً نو ماہ بعد ان کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔[21]

پہلی تیرتھ یاترا

[ترمیم]

ممکن ہے کہ اہلیہ کی وفات نے ان کے پہلے سے موجود روحانی رجحان میں مزید اضافہ کر دیا ہو، چنانچہ اپنی بیٹی کی شادی ایک بھویاں فرزند "ہری" سے کرنے کے بعد وہ بارہ سالہ طویل سفرِ زیارت پر روانہ ہو گئے۔ انھوں نے گھر کی دیکھ بھال اپنے داماد ہری کے سپرد کی اور بھویاں خاندان کی سربراہی اپنے دادا کے بھائیوں جَیَنت اور مادھو کے حوالے کر کے 1481ء میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اس سفر میں ان کے ساتھ ان کے دوست اور ساتھی رام رام اور ان کے استاد مہندر کندالی سمیت سترہ دیگر افراد بھی شامل تھے۔[22] اس وقت ان کی عمر 32 سال تھی۔ اس یاترا کے دوران میں وہ پوری، متھرا، دوارکا، ورنداون، گیا، رامیشورم، ایودھیا، سیتا کنڈ اور ہندوستان میں ویشنو مت کے تقریباً تمام بڑے مراکز گئے۔ انھوں نے کئی سال پوری میں جگن ناتھ کے علاقے میں گزارے، جہاں انھوں نے پجاریوں اور عام لوگوں کو "برہما پران" پڑھ کر سنائی اور اس کی تشریح کی۔[23] 1488ء میں بدرِکا آشرم کے مقام پر انھوں نے برج ولی زبان میں اپنا پہلا بور گیت —"من میرا رام چرنہی لاگو"— تخلیق کیا۔[24] "کتھا گرو چرتر" کے مطابق پہلا بور گیت "راما میری ہردیا پنکجے بائیسے" تھا جو انھوں نے 1481ء میں سفر کے بالکل آغاز میں "روماری" نامی مقام پر تخلیق کیا تھا۔[25] وہ 12 سال بعد واپس علی پکھوری پہنچے (ان کی عدم موجودگی میں ان کا خاندان بردوا سے واپس یہاں آباد چکا تھا)۔ اپنی تیرتھ یاترا کے دوران میں وہ ہمہ گیر ہندوستانی بھکتی تحریک کا حصہ بن گئے اور اسے مزید پروان چڑھانے میں مدد کی۔

سربراہی سے انکار

[ترمیم]

تقریباً 1493ء میں واپسی پر شنکر دیو نے دوبارہ سربراہی (شرومنی) سنبھالنے سے انکار کر دیا، تاہم بزرگوں کے اصرار پر انھوں نے سو خاندانوں کی ذمہ داری (گماستھا) قبول کی لیکن جلد ہی اسے بھی اپنے داماد ہری کے سپرد کر دیا۔ اپنی دادی کے اصرار پر انھوں نے 54 سال کی عمر میں کالندی سے شادی کی۔ آخر کار وہ دوبارہ بردوا منتقل ہو گئے اور تقریباً 1498ء میں ایک مندر (دیو گھر) تعمیر کیا،[26] جو غالباً چھپر کا تھا، جہاں وہ لوگوں سے ملتے، مذہبی امور پر تبادلۂ خیال کرتے اور دعائیہ مجالس منعقد کرتے تھے۔ یہاں انھوں نے "بھکتی پردیپ" اور "رکمنی ہرن" لکھی۔ اس کے فوراً بعد انھیں متھلا کے جگدیش مشرا سے بھاگوت پران کا ایک نسخہ ملا جس کے ساتھ شریدھر سوامی کی وحدت الوجودی شرح "بھاوارتھ دیپِکا" بھی تھی۔ مشرا نے شنکر دیو کی موجودگی میں پوری بھاگوت کی تلاوت اور تشریح کی۔ اس واقعے کو "ایک شرن دھرم" کے ارتقا میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔[27] شنکر دیو کے ابتدائی سوانح نگار دیتاری لکھتے ہیں: شنکر دیو نے جگدیش مشرا کی وضاحت کو نہایت توجہ سے سنا اور محسوس کیا کہ "بھاگوت" ایک بے مثال صحیفہ ہے جس نے کرشن کو واحد خدا، "نام" کو اصل دھرم اور "ایکانتیکا شرن" اور "ست سنگ" کو ایمان کے ناگزیر عناصر کے طور پر پیش کیا ہے۔[28] اسی دور میں شنکر دیو نے "کیرتن گھوش" کی تالیف بھی شروع کی۔

چِنہ یاترا

[ترمیم]

بھاگوت پران اور شریدھر سوامی کی شرح "بھاوارتھ دیپِکا" کے مطالعے کے بعد شنکر دیو نے "چِنہ یاترا" نامی ایک رقص و ڈراما پیش کیا، جس کے لیے انھوں نے "سپت ویکنٹھ" (سات آسمانوں) کی منظر کشی کی، موسیقی کے آلات کی تیاری میں رہنمائی کی اور خود بھی آلات بجائے۔[29][30] دیگر سوانح نگاروں کے مطابق انھوں نے علی پکھوری میں اپنے تعمیر کردہ مندر میں جگدیش مشرا کی موجودگی میں "مہا ناٹ" پیش کیا۔[31]

نیوگ کے مطابق یہ وہ موڑ تھا جب شنکر دیو نے ایک نئے مذہب کی تبلیغ کا فیصلہ کیا۔ اس مذہب میں سب سے پہلے بیعت کرنے والوں میں جینت دلائی کی اہلیہ، ہری رام نامی ایک کوڑھی (جو بعد میں تلسی رام کہلائے)، ان کے ساتھی رام رام اور ان کے استاد مہندر کندالی شامل تھے۔[32] علی پکھوری میں گزارے گئے 13 سال وہ عرصہ تھا جس میں انھوں نے ویشنو مت اور اس کی ایسی شکل پر غور کیا جو لوگوں کی روحانی اور اخلاقی ضروریات کے مطابق ہو۔ اسی دوران میں سنسکرت کے جید عالم اننت کندالی ان کے شاگرد بنے، جنھوں نے شنکر دیو کے مشورے سے بھاگوت پران کے دسویں باب کے آخری حصے کا ترجمہ کیا۔

1509ء میں شنکر دیو علی پکھوری سے واپس بردوا منتقل ہوئے اور وہاں ایک "تھان" تعمیر کیا۔ بعض مصنفین کا دعویٰ ہے کہ اس تھان میں ایک جدید ستر کی تمام نمایاں خصوصیات (جیسے مرکزی کیرتن گھر وغیرہ) موجود تھیں،[33] جبکہ دوسرے مصنفین کا خیال ہے کہ یہ خصوصیات شنکر دیو کے عہد میں موجود نہیں تھیں۔[34][35] یہ تھان بعد میں اجڑ گیا اور سو سال سے زائد عرصہ بعد سترھویں صدی کے وسط میں شنکر دیو کی پوتی کی بہو، کنک لتا نے اسے دوبارہ آباد کیا۔[36]

بارو بھویاں کے علاقوں میں کی گئی ادبی تخلیقات

[ترمیم]
  1. غیر بھاگوت گروہ
  2. غیر بھاگوت اور بھاگوت عناصر کا امتزاج (شریدھر سوامی سے متاثر نہیں)
    • رکمنی ہرن کاویہ
  3. گیت
  4. بھاگوت کی کہانیاں (کتاب 10 کے علاوہ)
    • اجاملو پاکھیان (کتاب 6)
    • امرت منتھن (کتاب 8)
    • کیرتن گھوشا (اجاملو پاکھیان، پرہلاد چرتر، ہرموہن) ابواب 2 سے 6 تک[37][38]

اہوم مملکت

[ترمیم]

گنگ مئو

[ترمیم]

وشو سنگھ نے 1509ء میں برہم پتر کی وادی کے مغربی حصے سے بھویاؤں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم شروع کی۔ مزید برآں بردوا کے علاقے میں بھویاؤں کا اپنے پڑوسی کچھاریوں سے جھگڑا ہو گیا اور جب حملہ ہوا تو شنکر دیو نے بھویاؤں کو وہاں سے منتقل ہونے کا مشورہ دیا، جس سے بھویاؤں کے اس گروہ کی آزادی کا خاتمہ ہو گیا۔[39] شنکر دیو اور ان کے ساتھیوں نے پہلی بار 1516ء-1517ء میں دریائے برہم پتر عبور کیا اور پہلے سنگاری اور پھر روٹا میں آباد ہوئے؛ اور جب وشو سنگھ روٹا کی طرف بڑھا تو شنکر دیو 1527ء میں مملکت اہوم کے علاقے گنگ مئو منتقل ہو گئے۔[40][39] وہ پانچ سال تک گنگ مئو میں رہے، جہاں شنکر دیو کے بڑے بیٹے رامانند کی ولادت ہوئی۔ گنگ مئو میں انھوں نے "پتنی پرساد" ڈراما تحریر کیا۔ اپنے کسی عزیز سے ناراضی کی بنا پر وہ کچھ عرصہ "گجالا سوتی" نامی مقام پر تنہا بھی رہے اور وہیں یہ ڈراما قلمبند کیا۔

دھوہاٹ

[ترمیم]

گنگ مئو میں قیام کے دوران میں کوچ خاندان کے راجا وشو سنگھ نے اہوموں پر حملہ کیا۔ بھویاؤں نے اہوموں کی طرف سے جنگ لڑی اور کوچ راجا کو شکست ہوئی۔ گنگ مئو کی غیر یقینی صورت حال کے باعث شنکر دیو نے اگلی منزل دھوہاٹ کو بنایا، جو موجودہ مجولی میں آہاٹ گوری کے قریب واقع تھا (یہ مقام 1913ء میں برہم پتر کے کٹاؤ میں بہہ گیا)۔ اہوموں نے بھویاؤں کو یہاں زمین اور جائداد دے کر آباد کیا؛[41] شنکر دیو کے داماد ہری ایک سائیکیا (فوجی عہدے دار) بن گئے اور ان کے بھتیجے جگتانند کو "رام رائے" کا خطاب ملا۔[42]

دھوہاٹ ہی وہ مقام ہے جہاں ان کی ملاقات اپنے روحانی جانشین مادھو دیو سے ہوئی۔ مادھو دیو، جو پہلے شاکت مت کے پیروکار تھے، اپنے بہنوئی رام داس سے (جو حال ہی میں ویشنو ہوئے تھے) مذہبی بحث میں الجھ پڑے۔ رام داس انھیں شنکر دیو کے پاس لے گئے، جنھوں نے ایک طویل بحث کے بعد انھیں "ایک شرن دھرم" کی طاقت اور افادیت کا قائل کر لیا۔ مادھو دیو جیسی شخصیت کا ساتھ ملنا، جو شاعری اور گلوکاری میں مہارت رکھتے تھے اور اپنے نئے مذہب و مرشد کے لیے وقف تھے، "ایک شرن" کی تاریخ کا ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ دھوہاٹ میں شنکر دیو نے وسیع عوامی مقبولیت حاصل کی اور بہت سے لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل کیا۔

"ایک شرن دھرم" کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے برہمن طبقے کو فکر مند کر دیا[43] اور وہ غصے اور دشمنی کا اظہار کرنے لگے۔ شنکر دیو نے اس دشمنی کو کم کرنے کی کوشش کی —وہ اپنے عزیز بڈھا خان کے گھر برہمنوں سے ملے[44] اور اپنے مخالف برہمنوں سے کہا کہ وہ ان کی مذہبی نشست گاہ پر جگن ناتھ کی لکڑی کی مورتی نصب کریں جسے "مدن موہن" کہا جاتا تھا۔ (شنکر دیو نے دھوہاٹ سے فرار کے وقت یہ مورتی ایک درخت پر لٹکی چھوڑ دی تھی، جسے برسوں بعد ونشی گوپال دیو نے ڈھونڈ نکالا اور ڈیبیرا پار ستر میں نصب کیا)۔[45][46] بالآخر برہمنوں نے اہوم راجا سوہنگ منگ (1497ء-1539ء) سے شکایت کی، جس نے شنکر دیو کو بحث کے لیے دربار میں طلب کیا۔ شنکر دیو راجا کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ وہ کوئی مذہبی باغی یا سماجی نظام کے لیے خطرہ نہیں ہیں، چنانچہ ان کے خلاف الزامات واپس لے لیے گئے۔[44] اس کے باوجود مخالفت کا سلسلہ جاری رہا۔[47]

دھوہاٹ سے ہجرت

[ترمیم]

اگرچہ اہوم مملکت میں بھویاؤں کا آغاز خوشگوار تھا اور شنکر دیو کے داماد ہری ایک پائک افسر اور ان کے بھتیجے رام رائے شاہی اہلکار بن گئے تھے، لیکن بتدریج تعلقات کشیدہ ہوتے گئے۔ وشو سنگھ کی وفات اور نارائن (1540ء) کے اقتدار میں آنے کے بعد کوچ بھویاں تعلقات میں کسی حد تک بہتری آئی۔[48] 1540ء کی دہائی میں راجا سکلین منگ (1539ء-1552ء) کے دور میں ایک شاہی افسر ہاتھی پکڑنے کی مہم پر اس علاقے میں آیا۔ ہری وہاں موجود نہیں تھے اور بھویاؤں کے زیرِ انتظام ایک باڑ سے ہاتھی فرار ہو گیا۔ اس افسر نے اسے فرض میں کوتاہی قرار دے کر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور ہری کے ساتھ مادھو دیو کو بھی گرفتار کر لیا۔ گڑھ گاؤں میں ہری کو سزائے موت دے دی گئی جبکہ مادھو دیو تقریباً ایک سال تک نظر بند رہے۔[49] دیتاری کے مطابق اہوموں کے خلاف کوچوں کی پیش قدمی (1546ء-1547ء) کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شنکر دیو اور ان کے پیروکار اہوم مملکت سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور کوچ فوج کے ہراول دستے کے پیچھے پیچھے مشرق میں نارائن پور تک جا پہنچے۔[50]

اہوم مملکت میں لکھی گئی ادبی تخلیقات

[ترمیم]
  1. بھکتی کے مخالفین کے خلاف دلائل:
    • کیرتن گھوشا (پسندا مردانا، نام اپرادھا)
    • (وِپرا) پتنی پرساد (انکیا ناٹ)
  2. کرشن کی ابتدائی زندگی کی کہانیاں:
    • کیرتن گھوشا (سشو لیلا، راس کریڈا، کنس ودھ، گوپی اُدَّھو سنواد، کُجیر ونچھ پران، اکرورار ونچھ پران)
  3. بور گیت

کوچ مملکت

[ترمیم]

سن پورہ

[ترمیم]

شنکر دیو اور ان کے پیروکار 1540ء کے اواخر میں کوچ مملکت کے مقام کپولا باری پہنچے اور وہاں قیام کیا۔ لیکن وہاں کا پانی نہایت کھارا تھا، جس کی وجہ سے مادھو دیو کی والدہ منورما سمیت کئی ارکان وفات پا گئے۔ چنانچہ کپولا باری میں کچھ عرصہ قیام کے بعد شنکر دیو اور ان کا گروہ 1541ء میں سن پورہ منتقل ہو گیا۔[51] سن پورہ میں شنکر دیو نے بھوانند کو حلقۂ ارادت میں شامل کیا جو ایک امیر تاجر تھے اور کامروپ کے علاوہ گارو پہاڑیوں اور بھوٹان کے پہاڑی علاقوں میں وسیع تجارتی مفادات رکھتے تھے۔ یہ تاجر، نارائن داس برپیٹا کے قریب جانیہ میں آباد ہوئے اور زراعت کا پیشہ اختیار کر لیا۔ دنیا دار ہونے کے باوجود انھوں نے جلد ہی ترقی کی اور شنکر دیو اور ان کے عقیدت مندوں کے کفیل بن گئے۔ وہ عوام میں "ٹھاکر آتا" کے نام سے مشہور ہوئے۔

پٹ باؤسی

[ترمیم]

مختلف مقامات پر نقل مکانی کے بعد شنکر دیو مملکت کامتا میں برپیٹا کے قریب "پٹ باؤسی" میں سکونت پزیر ہوئے اور وہاں ایک "کیرتن گھر" (عبادت گاہ) تعمیر کیا۔ یہاں انھوں نے جن لوگوں کو اپنے حلقۂ ارادت میں شامل کیا ان میں چکر پانی دویجا اور سرب بھوم بھٹاچاریہ (برہمن)، گووندا (گارو)، جے رام (بھوٹیا)، مادھائی (جینتیا)، جتی رام (تارکِ دنیا) اور مراری (کوچ) شامل تھے۔ دامودر دیو (برہمن) نے بھی شنکر دیو سے بیعت کی، جنھیں شنکر دیو نے برہمن شاگردوں کو بیعت کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ خود پٹ باؤسی ہی میں ان کے لیے ایک "ستر" بھی تعمیر کیا گیا۔ بعد ازاں راجا دامودر دیو شنکر دیو کے مذہب کی "برہما سنگھاٹی" شاخ کے بانی بنے۔

شنکر دیو کی ادبی تخلیقات میں سے انھوں نے یہاں بھاگوت پران کی اپنی تشریح مکمل کی اور دیگر آزاد تصانیف لکھیں۔ انھوں نے "کیرتن گھوشا" کی تالیف جاری رکھی، راماین کے پہلے کانڈ ("آدی کانڈ") کا مزید ترجمہ کیا اور مادھو دیو کو آخری کانڈ ("اتر کانڈ") کے ترجمے کی ہدایت دی جو چودھویں صدی کے شاعر مادھو کندالی نے ادھورے چھوڑ دیے تھے۔ انھوں نے چار ڈرامے لکھے: "رکمنی ہرن"، "پارِجات ہرن"، "کیلی گوپال" اور "کالی دمن"۔ پٹ باؤسی ہی میں لکھا گیا ایک اور ڈراما "کنس ودھ" اب ناپید ہو چکا ہے۔ پٹ باؤسی میں انھوں نے اپنے تقریباً 240 "بور گیت" کمالا گائن کے سپرد کیے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے گائن کا گھر آگ کی نذر ہو گیا اور زیادہ تر "بور گیت" ضائع ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد شنکر دیو نے مزید بور گیت لکھنا چھوڑ دیے۔ چنانچہ 240 بور گیتوں میں سے آج صرف 34 باقی ہیں۔

دوسری تیرتھ یاترا

[ترمیم]

شنکر دیو 1550ء میں ایک بار پھر 117 شاگردوں کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ یاترا پر روانہ ہوئے، جس میں مادھو دیو، رام رائے، رام رام، ٹھاکر آتا اور دیگر افراد شامل تھے۔ ٹھاکر آتا کو محض ایک دن کے سفر کے بعد واپس آنا پڑا۔ سفری انتظامات کی تمام تر ذمہ داری مادھو دیو پر تھی۔ انھوں نے شنکر دیو کی بیوی کالندی کی درخواست پر ان سے التجا کی کہ وہ پوری سے واپس لوٹ آئیں اور ورنداون کی طرف نہ بڑھیں۔ شنکر دیو اور ان کا گروہ چھ ماہ کے اندر 1551ء میں پٹ باؤسی واپس آگیا۔

کوچ دار الحکومت اور بھیلا ڈونگا

[ترمیم]

ان مسلسل شکایات پر کہ شنکر دیو ایک نیا مذہب پھیلا کر لوگوں کے ذہن خراب کر رہے ہیں، کوچ راجا نارائن نے شنکر دیو کی گرفتاری کا حکم دیا، جس پر وہ روپوش ہو گئے۔[52][53] چلا رائے —جو کوچ فوج کے سالار، راجا کے سوتیلے بھائی اور شنکر دیو کے بھتیجے رام رائے کی بیٹی کملا پریا کے شوہر تھے— انھوں نے راجا کو قائل کیا کہ گرفتاری کی بجائے شنکر دیو کا موقف سنا جائے۔[54]

راجا نارائن کے دربار میں حاضری کے لیے جب سیڑھیاں چڑھ رہے تھے تو شنکر دیو نے بھگوان کرشن کی شان میں برجستہ تخلیق کردہ اپنا سنسکرت "ٹوٹک" (حمد) "مدھو دانو دارن دیو ورم" گایا اور جب بیٹھ گئے تو راجا کے نام کی رعایت سے ایک "بور گیت" "نارائن کہے بھکتی کرو تیرا" گایا۔ اس کے بعد درباری پنڈتوں کے ساتھ ہونے والے مباحثے میں شنکر دیو نے اپنے خلاف تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ راجا نے انھیں بے قصور قرار دیتے ہوئے رہا کر دیا اور تخت کے قریب نشست دے کر ان کی تکریم کی۔ شنکر دیو باقاعدگی سے راجا نارائن کے دربار میں حاضر ہونے لگے اور انھیں اپنی تعلیمات کی تبلیغ کی آزادی مل گئی۔

چلا رائے نے شنکر دیو کو محفوظ رکھنے اور ان کے کام کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا۔ شنکر دیو کی بہت سی ادبی اور ڈرامائی تخلیقات انھی کے زیرِ سایہ اور سرپرستی میں مکمل ہوئیں۔ شنکر دیو نے اپنے ڈرامے "رام وجے" میں ان کی قدردانی کا اعتراف کیا ہے۔

شنکر دیو دار الحکومت کوچ بہار اور اپنے مستقر پٹ باؤسی کے درمیان آمد و رفت رکھتے تھے۔ چلا رائے اکثر ان کی میزبانی کرتے تھے اور ان کی درخواست پر شنکر دیو ورنداون میں کرشن کے بچپن کے مناظر کو کپڑے پر بنوانے پر راضی ہوئے۔ انھوں نے برپیٹا کے قریب "تانتی کچی" کے بنکروں کو چالیس گز لمبا کپڑا بننے پر لگایا۔ شنکر دیو نے خود ڈیزائن تیار کیے، دھاگوں کے رنگوں کا انتخاب کیا اور بنائی کی نگرانی کی۔ اسے مکمل ہونے میں تقریباً ایک سال لگا اور اپنے موضوع کی مناسبت سے یہ "ورنداونی وستر" کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ چلا رائے اور راجا نارائن کو تحفے میں پیش کیا گیا۔ اس کپڑے کا ایک حصہ اب لندن کے وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم میں محفوظ ہے۔

راجا نارائن کے ایک مسلمان درزی "چاند سائی" کوچ بہار میں شنکر دیو کے شاگرد بنے۔ جب کچھ عرصہ بعد شنکر دیو پٹ باؤسی واپس آئے تو چاند سائی بھی ان کے ہمراہ آ گئے۔ شنکر دیو 20 سال سے زائد عرصے تک دار الحکومت آتے جاتے رہے اور زندگی میں پہلی بار انھیں بھرپور شاہی سرپرستی حاصل ہوئی۔

خاتمہ

[ترمیم]

شنکر دیو نے پٹ باؤسی میں مادھو دیو اور ٹھاکر آتا کو مختلف ہدایات دیں اور وہاں سے آخری بار رخصت ہوئے۔ انھوں نے کوچ بہار کے مقام بھیلا ڈونگا میں اپنا گھر بسایا۔ کوچ بہار میں قیام کے دوران میں مہاراجا نارائن نے بیعت ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ شنکر دیو کسی بادشاہ کو مرید بنانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے، چنانچہ انھوں نے معذرت کر لی۔ (ایک سوانح نگار رام چرن ٹھاکر کے مطابق) ان کے جسم کے کسی حصے میں ایک تکلیف دہ پھوڑا (وِش پھوہر) نکل آیا تھا، جو اس عظیم سنت کی وفات کا سبب بنا۔ اس طرح 1568ء میں انسانیت کی رہنمائی کے لیے وقف ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد بھیلا ڈونگا میں اپنے آخری قیام کے چار ماہ بعد 120 برس کی عمر میں اس "مہاپرش" کی وفات ہوئی۔

کوچ مملکت میں لکھی گئی ادبی تخلیقات

[ترمیم]
  1. بھاگوت کی کہانیاں (کتاب 10 کے علاوہ):
    • بَلی چلن (کتاب 8)
    • انادی پتن (کتاب 3، "وامن پران")
  2. بھاگوت کی کہانیاں (کتاب 10، 11، 13 سے):
    • کیرتن گھوشا (جراسندھ یودھ، کال یَوَن ودھ، مُچُکُند استُتی، سیامنت ہرن، نرادر کرشن درشن، وِپرا پتر آناین، دیوکر پتر آناین، وید استُتی، لیلا مالا، رکمنیر پریم کلہ، بھرِگو پرِکشا، شری کرشنر ویکنٹھ پریان، چتر وِمستی اوتار ورنن، تاتپریہ)
  3. گن مالا:
  4. بھاگوت پران کی تشریحات:
    • بھاگوت 10 (آدی)
    • بھاگوت 11 (کتاب 1 اور 3 کے مواد کے ساتھ)
    • بھاگوت 12
    • بھاگوت 1
    • بھاگوت 2
    • بھاگوت 9 (ناپید)
    • کروکشیتر (کتاب 10، اتراردھ)
    • نِمی نو سدھ سمواد
  5. راماین سے:
    • راماین "اتر کانڈ"
  6. منظومات:
    • بور گیت
    • توتایا
    • بھٹیما
  7. نظریاتی مقالہ:
    • بھکتی رتناکر
  8. ڈراما (انکیا ناٹ):
    • کالی دمن
    • کیلی گوپال
    • رکمنی ہرن
    • پارِجات ہرن
    • رام وجے
  9. فنِ مصوری:
خطِ زمانی
پیدائش
والدین کی وفات
سوریہ وَتی سے شادی
منو کی پیدائش
منو اور ہری کی شادی
کالِندی سے شادی
مادھو دیو کی بیعت
ہری کی سزائے موت
دوسرا تیرتھ یاترا
بھیلاڈونگا
وفات
علی پکھوری
بوردووا
تیرتھ یاترا
علی پکھوری
بوردووا
گنگماؤ
دھوواہاٹ
پاٹ باؤسی
کُسُم وَر
جَیَنت/مادھو
شنکردیو
جَیَنت/مادھو
نیلادھواج
چکرادھواج
نیلامبر
کبیر کی پیدائش
گرو نانک کی پیدائش
مارٹن لوتھر کی پیدائش
چیتنیا مہاپربھو کی پیدائش
میرا بائی کی پیدائش
تلسی داس کی پیدائش
چیتنیا مہاپربھو کی وفات
1440
1468
1496
1524
1552
1580

ایک شرن دھرم

[ترمیم]

شنکر دیو نے بھگوان کرشن کی عقیدت (بھکتی) کی تبلیغ کی، جس کی بنیادی اساس ان کے اعمال اور افعال کے گیت گانے (کیرتن) اور انھیں سننے (شراون) پر استوار ہے۔ ایک شرن دھرم عبادت کے "داسیہ" رویے (بھاؤ) کی پیروی کرتا ہے جس میں عقیدت مند خود کو خدا کا خادم تصور کرتا ہے۔ دیگر ویشنو مکاتبِ فکر کے برعکس اس دھرم میں کرشن کے ساتھ رادھا کی عبادت نہیں کی جاتی۔

ان کے مذہب پر عمل پیرا لوگوں کو مختلف طور پر "مہاپرشیا"، "سرانیا" اور "شنکری" کہا جاتا ہے۔

شریمنت شنکر دیو نے اپنے مذہب میں شمولیت (شَرَن) کا ایک باقاعدہ نظام شروع کیا۔ انھوں نے اس وقت رائج ذات پات کی تفریق کے خلاف لڑ کر ایک سماجی انقلاب برپا کیا اور مسلمانوں سمیت تمام ذاتوں اور مذاہب کے لوگوں کو اپنے حلقۂ ارادت میں شامل کیا۔ بیعت کے بعد عقیدت مند سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک شرن کے مذہبی اصولوں پر سختی سے کاربند رہے، جن میں صرف ایک خدا، کرشن کی عبادت کرنا، تمام ویدک رسومات کو ترک کر کے صرف اسی کے لیے اپنی عقیدت کو وقف کرنا شامل ہے۔

اگرچہ انھوں نے خود دو شادیاں کیں، ان کی اولاد تھی اور انھوں نے ایک گھریلو انسان کی زندگی گزاری، لیکن ان کے شاگرد مادھو دیو نے ایسا نہیں کیا۔ ان کے کچھ پیروکار آج بھی ویشنو خانقاہوں (ستر) میں تجرد کی زندگی (کیولیہ بھکت) گزارتے ہیں۔

شنکر دیو کا مادھو دیو کے ساتھ مشہور مباحثہ (جو پہلے شکتی کے سخت عقیدت مند تھے) اور اس کے نتیجے میں مادھو دیو کا "ایک شرن" میں شامل ہونا، آسام میں جدید ویشنو تحریک کی تاریخ کا سب سے اہم اور عہد ساز واقعہ مانا جاتا ہے۔ مادھو دیو، جو خود ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، ان کے نامور شاگرد بنے۔

ادبی خدمات

[ترمیم]

شنکر دیو نے ادبی تخلیقات کا ایک عظیم ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے۔ اگرچہ ان سے قبل بھی کچھ ایسی شخصیات گذری تھیں جنھوں نے عوامی زبان میں خامہ فرسائی کی — جیسے چودھویں صدی کے شاعر مادھو کندالی جنھوں نے راماین کا آسامی میں ترجمہ کیا (یہ کسی بھی جدید ہندوستانی زبان میں لکھی گئی پہلی راماین تھی)، اس کے علاوہ ہری ہر وپرا اور ہیما سرسوتی کے نام بھی نمایاں ہیں — لیکن یہ شنکر دیو ہی تھے جنھوں نے علم و ادب کے بندھن کھول دیے اور مادھو دیو جیسے دیگر تخلیق کاروں کو اس مشن کو آگے بڑھانے کی تحریک دی۔

ان کی زبان سلیس اور رواں ہے، ان کے اشعار میں نغمگی کا عنصر نمایاں ہے اور انھوں نے اپنی ہر تحریر کو "بھکتی" (عقیدت) کے رنگ میں ڈبو دیا ہے۔ ان کا شاہکار کیرتن گھوشا اس قدر مقبول ہے کہ آج بھی آسام کے اکثر گھروں میں پڑھا جاتا ہے۔ یہ کتاب کرشن کی مدح و ثنا پر مبنی بیانیہ اشعار پر مشتمل ہے جو اجتماعی طور پر پڑھنے کے لیے لکھے گئے ہیں۔ یہ "بھکتی کاویہ" کی ایک نمایاں مثال ہے جو نہایت جاندار اور سادہ زبان میں لکھی گئی ہے۔ اس میں "بچوں کے لیے دلچسپ کہانیاں اور گیت ہیں، یہ اپنی شعری خوبصورتی سے نوجوانوں کو مسحور کرتی ہے اور بزرگوں کو یہاں سے مذہبی تعلیمات اور دانائی کے موتی ملتے ہیں"۔

انھوں نے اپنی بیشتر تصانیف میں اس عہد کی آسامی زبان استعمال کی تاکہ عام آدمی بھی انھیں پڑھ اور سمجھ سکے۔ البتہ اپنے گیتوں اور ڈراموں میں ڈرامائی اثر پیدا کرنے کے لیے انھوں نے برج ولی زبان کا انتخاب کیا۔

ان کی دیگر ادبی خدمات میں بھاگوت پران کی آٹھ کتابوں کی تشریح بشمول "آدی دشم" (کتاب 10)، "ہریش چندر اپاکھیان" (ان کی پہلی تصنیف)، "بھکتی پردیپ"، "نمی نو سدھ سنواد" (راجا نمی اور نو سدھاؤں کے درمیان گفتگو)، "بھکتی رتناکر" (سنسکرت اشعار، جو زیادہ تر بھاگوت سے لیے گئے ہیں اور ایک کتابی شکل میں جمع کیے گئے ہیں)، "انادی پتن" (جس کا موضوع تخلیقِ کائنات اور کائناتی امور ہیں)، گن مالا اور بہت سے ڈرامے جیسے "رکمنی ہرن"، "پتنی پرساد"، "کیلی گوپال"، "کروکشیتر یاترا" اور "شری رام وجے" شامل ہیں۔ اس طرح ان کی 120 سالہ طویل زندگی کے دوران میں بھکتی ادب کو بے پناہ عروج حاصل ہوا۔

شعری تخلیقات (کاویہ)

[ترمیم]
  • کیرتن گھوشا
  • ہریش چندر اپاکھیان
  • رکمنی ہرن
  • پارِجات ہرن
  • کالیا دمن
  • رام وجے
  • اجاملو پاکھیان
  • بلی چلن
  • کرُکشیتر یاترا
  • گوپی اُدّھو سنواد
  • امرت منتھن
  • کرشن پرایان پانڈو نریان
  • کام جئے

فلسفۂ بھکتی

[ترمیم]
  • بھکتی پردیپ
  • انادی پتن
  • نمی نو سدھ سنواد
  • بھکتی رتناکر (سنسکرت میں)
  • گن مالا

تراجم

[ترمیم]
  • بھاگوت (چھٹی، آٹھویں، پہلی، دوسری، ساتویں، دسویں، گیارھویں، بارھویں، نویں، دسویں (نامکمل)، گیارھویں (نامکمل) اور بارھویں کتاب)

بھاگوت کا ان کا کیا گیا ترجمہ محض لفظی ترجمہ نہیں بلکہ "تخلیقی باز آفرینی" (Transcreation) ہے، کیونکہ انھوں نے نہ صرف الفاظ بلکہ اس کے محاورے اور ہیئت کا بھی ترجمہ کیا ہے۔ انھوں نے اصل متن کو مقامی زمین، وہاں کے لوگوں اور سب سے اہم بات یہ کہ "بھکتی" کے مقصد کے مطابق ڈھالا ہے۔ ضرورت کے مطابق اصل متن کے کچھ حصے حذف کر دیے گئے یا ان کی تفصیل بیان کی گئی۔ مثال کے طور پر انھوں نے ان حصوں کو دبا دیا جو نچلی ذاتوں شودر اور کیورت وغیرہ کی تضحیک پر مشتمل تھے اور دیگر مقامات پر ان کی ستائش و تکریم کی ہے۔

ڈراما (انکیا ناٹ)

[ترمیم]
  • چنہ یاترا (ناپید)
  • پتنی پرساد
  • جنم جاترا (ناپید)
  • کنس ودھ (ناپید)
  • پارِجات ہرن
  • کالی دمن
  • رکمنی ہرن
  • کیلی گوپال
  • شری رام وجے
ورنداونی وستر (ایک ٹکڑا)، تقریباً 1570ء، جو لاس اینجلس کاؤنٹی میوزیم آف آرٹ میں موجود ہے

شنکر دیو انکیا ناٹ کے سرچشمہ تھے، جو یک بابی ڈرامے کی ایک صنف ہے۔ ان کی تخلیق "چنہ یاترا" کو دنیا میں کھلے آسمان تلے تھیٹر کی اولین کارکردگیوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ "چنہ یاترا" غالباً ایک رقص و ڈراما تھا اور آج اس کا کوئی متن دستیاب نہیں ہے۔ اسٹیج پر "سوتر دھار" (راوی) کی موجودگی اور ماسک (نقاب) کا استعمال جیسی اختراعات بعد میں برتولت بریخت اور دیگر نامور ڈراما نگاروں کے ڈراموں میں بھی دیکھی گئیں۔

یہ ثقافتی روایات آج بھی آسامی عوام کے ورثے کا ایک لازمی حصہ ہیں۔

گیت

[ترمیم]
  • بور گیت (240 تخلیق کیے، لیکن اب صرف 34 موجود ہیں)
  • بھٹیما
    • دیو بھٹِما – خدا کی حمد و ثنا میں
    • ناٹ بھٹِما – ڈراموں میں استعمال کے لیے
    • راجا بھٹِما – راجا نارائن کی مدح میں

وہ ایک موسیقار تھے؛ ان کی تمام تخلیقات میں ویشنو مت کا عکس صاف نطر آتا ہے اور ان کے ایک مجموعے کو "مقدس گیت" کہا جاتا ہے، جو آج بھی آسام میں "بور گیت" کے نام سے مشہور ہیں۔

بور گیت (لفظی معنی: عظیم گیت) عقیدت کے گیت ہیں، جنھیں راگ کے مختلف اسالیب میں گایا جاتا ہے۔ یہ اسلوب ہندوستانی یا کرناٹک موسیقی کے اسلوب سے تھوڑے مختلف ہیں۔[56] یہ گیت خود برج ولی زبان میں لکھے گئے ہیں۔

رقص

[ترمیم]

ستریہ رقص، جس کا تخیل سب سے پہلے شنکر دیو نے کیا اور اسے ترقی دی اور جسے بعد میں صدیوں تک "ستر" خانقاہوں نے محفوظ رکھا، اب ہندوستانی کلاسیکی رقص کی بڑی اصناف میں شامل ہے۔ بعض عقیدت مند اس صنف کو "شنکری رقص" بھی کہتے ہیں۔

بصری فنون

[ترمیم]
  • سپت ویکنٹھ – "چنہ یاترا" کی پیشکش کا حصہ، جو اب موجود نہیں ہے۔
  • ورنداونی وستر – اس کاوش کے کچھ حصے لندن میں محفوظ ہیں۔

مشہور "ورنداونی وستر" — یعنی ورنداون کا کپڑا — ایک 120 x 60 ذراع لمبا منقش کپڑا (Tapestry) تھا جس پر ریشم کے بنے ہوئے اور کڑھائی کیے ہوئے ڈیزائنوں کے ذریعے ورنداون میں بھگوان کرشن کی لیلاؤں کو دکھایا گیا تھا۔[57] اس کاوش کا ایک نمونہ، جسے اس کا حصہ سمجھا جاتا ہے، پیرس میں ایشیائی ٹیکسٹائل کے مطالعہ اور دستاویزات کی ایسوسی ایشن کے پاس موجود ہے (انوائس نمبر 3222)۔

یہ کپڑا کوچ راجا نارائن کی فرمائش پر اور شنکر دیو کی نگرانی میں چھ ماہ کے عرصے میں برپیٹا کے 12 ماہر بنکروں نے تیار کیا اور یہ 1554ء کے آخر تک مکمل ہوا۔[58] ٹیکسٹائل آرٹ کا یہ نمونہ بھگوان کرشن کی زندگی اور ان کے اعمال کی عکاسی کرتا ہے جن کی "ایک شرن نام دھرم" میں عبادت کی جاتی ہے۔ یہ کپڑا راجا کو پیش کرنے کے بعد کوچ بہار کے شاہی دربار میں رکھا گیا تھا، لیکن کچھ عرصے بعد یہ غائب ہو گیا۔ مانا جاتا ہے کہ اس کپڑے کے کچھ حصے تبت پہنچے اور وہاں سے یہ اپنی موجودہ جگہوں تک منتقل ہوئے۔

آوِربھاؤ شیتر

[ترمیم]

مہاپرش شریمنت شنکردیو آوربھاؤ شیتر ایک ثقافتی، روحانی اور تمدنی کمپلیکس ہے جو ہندوستان کی ریاست آسام کے ناگاؤں ضلع میں بردوا تھان کے قریب باٹادروا میں واقع ہے۔ یہ مقام قرونِ وسطیٰ کے آسامی بزرگ اور مصلح شریمنتا شنکر دیو کی جائے پیدائش کے گرد تیار کیا گیا ہے،[59] جو مذہب، فنون اور ثقافت کے ذریعے آسامی معاشرے میں ان کی زندگی، تعلیمات اور گراں قدر خدمات کی یاد دلاتا ہے۔[60] اس مقام کا باقاعدہ افتتاح 29 دسمبر 2025ء کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک وسیع تعمیرِ نو کے منصوبے کے بعد کیا، جس کا مقصد اسے ایک بڑے ثقافتی اور روحانی مرکز میں تبدیل کرنا تھا۔[61]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حواشی

[ترمیم]
  1. بیسویں صدی میں بشنو رابھا کی بنائی ہوئی یہ تصویر عام طور پر شنکر دیو کی باضابطہ تصویر تسلیم کی جاتی ہے، کیونکہ کسی بھی موجودہ ذریعے سے ان کی اصل شبیہ دستیاب نہیں ہے۔A Staff Reporter (14 اکتوبر 2003)۔ "Portrait of a poet as an artist"۔ The Telegraph۔ 2003-11-01 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-05-08
  2. Jogendra Nath Bhuyan (1980ء). মহাপুৰুষ শ্ৰীমন্ত শংকৰদেৱ [Mahapurush Srimanta Sankardev] (بزبان آسامی). Guwahati: Jogendra Nath Bhuyan. pp. 18–22.
  3. "ان کی مدت حیات کا اختتام جمعرات، 7 یا 21 بھادر (ستمبر)، قمری مہینے کے روشن پندھرواڑے کے دوسرے دن، 1490 ساکا/1569ء کو ہوا؛ اور ان کے باقیات کو دریائے توروکا کے کنارے نذرِ آتش کیا گیا۔" (Neog 1980, pp. 120–121)
  4. (Burman 1999, p. 56)
  5. "Golap Saikia, Srimanta Sankardev, the Pioneer of the Socio-Religious Reform Movement of Medieval Assam" (PDF): 44 {{حوالہ رسالہ}}: الاستشهاد بدورية محكمة يطلب |دورية محكمة= (معاونت)
  6. "Kirttana Ghosa – Translations"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-10-27
  7. ان کے نام کے ہجے مختلف طور پر "شنکردیو"، "شنکردیوا" اور "شنکرادیوا" کیے جاتے ہیں۔
  8. "Sankardev's Religion – Mahāpurusism"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-10-27
  9. Neog 1980, p. 2
  10. Neog 1980, p. 3
  11. Neog 1980, pp. 22–24
  12. Neog 1980, p. 4
  13. Sarma 1990, p. 38
  14. Neog 1980, p. 101
  15. شنکر دیو کی مشہور تاریخِ پیدائش، جسے عموماً درست سمجھا جاتا ہے، اَشوِن کارتیک (اکتوبر) 1449ء ہے۔
  16. (Neog 1980, p. 101)
  17. Neog 1980, p. 101f
  18. Neog 1980, p. 67
  19. ^ ا ب پ Neog 1980, p. 102
  20. Neog 1980, pp. 102–103
  21. Barman 1999, p. 19
  22. Neog 1980, p. 103
  23. Neog 1980, p. 104
  24. Neog 1980, p. 179
  25. Borkakoti 2006, p. 92
  26. پانچ سال کے بعد شنکر کے لیے ان کی رہائش گاہ سے کچھ فاصلے پر ایک مندر تعمیر کیا گیا۔(Neog 1980, p. 69)
  27. Neog 1980, p. 107
  28. Sarma 1999, p. 12
  29. ابتدائی سوانح نگار "چنہ یاترا" کے بارے میں خاموش ہیں۔ "کتھا گرو چرِت" اور "بوردووا چرِت"، جو دونوں بعد کے دور کی سوانح عمریاں ہیں، بیان کرتی ہیں کہ "چنہ یاترا" شنکردیو کے پہلی تیرتھ یاترا کے بعد پیش کی گئی تھی؛ صرف رام چرن کا کہنا ہے کہ شنکردیو نے اس کا انتظام اس وقت کیا تھا جب ان کی عمر انیس سال تھی، جسے مہیشور نیوگ کے نزدیک غیر یقینی تصور کیا جاتا ہے۔ (Neog 1980, p. 107)
  30. لیکن بھوبن چندر بھویان، ڈاکٹر سنجیو کمار بورکاکوتی وغیرہ نے یہ رائے دی ہے کہ "چنہ یاترا" تیرتھ یاترا سے پہلے اور واضح طور پر 1468ء میں پیش کی گئی۔(Borkakoti 2005, p. 17)
  31. Neog 1980, p. 108
  32. Neog 1980, pp. 108-109
  33. Borkakoti 2006, p. 23
  34. "اس عہد کے سوانحی یا ہم عصر ادب سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا شنکر دیو کے ستر میں دعائیہ ہال اور مزار کے علاوہ 'ساری ہاٹی' کا وہ نظام بھی موجود تھا جو بعد کے دور کے ستروں میں پایا جاتا ہے"۔ (Sarma 1966, p. 105)
  35. "یہ یاد رکھنا چاہیے (دیتاری، کتھا گرو چرتر) کہ شنکر دیو کے ایام میں روزانہ کی نشستیں... کھلے آسمان تلے یا درختوں کے سائے میں منعقد کی جاتی تھیں"۔(Neog 1980, p. 312)
  36. Sarma 1966, p. 93
  37. (Noeg 1980, p. 160)
  38. (Barman 1999, p. 120)
  39. ^ ا ب Neog 1980, p. 69
  40. [Neog, Maheswar, Śaṅkaradeva and his times, p. 68]
  41. "جلد ہی بھوٹانیوں اور کوچوں کی دراندازی نے انھیں اپنی رہائش گاہ دھوہاٹ بیلاگوری منتقل کرنے پر مجبور کر دیا، جہاں اہوم حکمران نے انھیں زمین اور جائداد دے کر آباد کیا۔" (Sarma 1966, p. 13)
  42. Barman 1999, p. 37
  43. Sarma 1966, p. 13
  44. ^ ا ب Neog 1980, p. 111
  45. (Neog 1980, p. 376)
  46. مورتی کی تراش خراش کورولا بھدائی نے کی تھی اور برہمنوں کو دعوت ان کے برہمن ساتھی رام رام نے پہنچائی تھی۔
  47. Neog 1980, p. 112
  48. "پرتاپ رائے گابھرو خان، جو وشو سنگھ کے حملے کے وقت گوڑا فرار ہو گئے تھے، کامروپ واپس آئے اور نارائن کے ساتھ ایک طرح کا اتحاد قائم کر لیا"۔ (Neog 1980, p. 112)
  49. Barman 1999, p. 38
  50. شنکر دیو کے فرار کا سال عموماً 1546ء بتایا جاتا ہے، جسے سب سے پہلے بیز بروا نے لکھا تھا۔ جبکہ دیگر مصنفین نے 1540ء بتایا ہے۔(Borkakoti 2012, p. 26)
  51. Borkakoti 2012, p. 27
  52. Barman 1999, p. 49
  53. شکایت کنندہ ودیا واگیش چکرورتی تھا، اگرچہ شاہی پروہت کنٹھ بھوشن نے (جو رام ارام کے داماد تھے) اس کی مخالفت کی۔ شنکر دیو کے نہ ملنے پر ٹھاکر آفا اور گوکل چند کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
  54. Barman 1999, p. 50
  55. "بردوا چرتر اور اسی کی بنیاد پر لکشمی ناتھ بیزبروا (اپنی تصنیف شنکر دیو میں) یہ موقف پیش کرتے ہیں کہ اس تخلیق کے پانچ ابواب (یعنی پہلی فصل کے علاوہ پوری کتاب) بہت پہلے ہی لکھ لیے گئے تھے اور یہ گنگ مئو میں کسی ستانند یا دیوی داس کو پیش کیے گئے تھے۔" (Neog 1980, p. 182)
  56. Bipuljyoti Saikia۔ "Sangeet – Songs of Devotion"۔ Bipuljyoti.in۔ 2013-07-03 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-05-29
  57. (Crill 1992)
  58. Borkakoti 2005, pp. 222–224
  59. "Bordowa Satra Nagaon Assam - Must Visit Tourist Attractions in Assam"۔ www.tourmyindia.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-07
  60. "Sankardev's Religion – Mahāpurusism"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-07
  61. "Shah inaugurates ₹227 crore redeveloped birthplace of Srimanta Sankardeva"۔ The Hindu۔ 29 دسمبر 2025۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-07



حوالہ جات

[ترمیم]

مزید پڑھیے

[ترمیم]

بیرونی روابط

[ترمیم]