شور کی آلودگی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شور کی آلودگی (انگریزی: Noise pollution) جسے ماحولیاتی شور یا آواز کی آلودگی بھی کہا جاتا ہے، در حقیقت ایک کوشش ہے کہ کس طرح شور کے بڑھنے سے انسانی سرگرمیوں یا جانوروں کی زندگی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ کھلے میں شور کے عالمی سطح پر اسباب مشینیں، حمل و نقل اور مواصلاتی نظام ہیں۔[1][2] خستہ شہری منصوبہ بندی شور کے بکھراؤ یا اس کی آلودگی میں معاون ہو سکتی ہے۔ صنعتی اور رہائشی عمارات کا آس پاس ہونا شور کی آلودگی کو وہاں کے مکینوں تک پہنچا سکتا ہے۔ رہائشی علاقہ جات میں شور کے مآخذ میں بلند آواز موسیقی، حمل و نقل (ریل، سڑکوں پر آمد و رفت، ہوائی جہاز وغیرہ)، صحن کی دیکھ ریکھ کا سامان ( lawn care maintenance)، تعمیرات، برقی جنریٹر، دھماکے اور خود لوگوں کی حرکات اور ان کی گفتگو ہے۔


نقصانات[ترمیم]

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں شور کی آلودگی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس خطرناک بیماری کا سامنا بڑے، بچے، جوان اور بوڑھے سب ہی کو کرنا پڑ رہا ہے۔ شور کی آلودگی کی وجہ سے سماعت اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل معاشرے میں بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ انسان میں سماعت کی صلاحیت بیس سے بیس ہزار )ہرٹز( تک ہوتی ہے لیکن اگر اس کی تعداد بڑھ جائے تو انسان قوت سماعت سے محروم ہوسکتا ہے۔ ضائی آلودگی کے بعد شور انسانی صحت کو سب سے زیادہ متاثر کر رہا ہے۔ شور میں سب سے زیادہ پریشان کن ٹریفک کا شور ہے اور اس شور سے فالج اور دل کی بیماریوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ علمی ادارہ صحت کے مطابق یورپی ممالک میں ہر تیسرا فرد ٹریفک کے شور کی وجہ سے صحت کے مختلف مسائل کا شکار ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق شور دل کی بیماریوں میں پچاس فیصد تک اضافہ کر دیتا ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق شور کی آلودگی موٹاپا اور نیند کے مسائل میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔ نیند کی حالت میں اگر لوگوں کو شور کا سامنا ہو تو اس سے بلڈ پریشر )فشار خون( اور دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ شور میں رہنے والے افراد دوسری بیماریوں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مسائل کا شکار بھی رہتے ہیں۔ شور انسان میں چڑچڑاہٹ پیدا کرتا ہے جو مزید مختلف نفسیاتی بیماریوں کی اہم وجہ ثابت ہوتا ہے۔[3]

عالمی ادارہ سحت کی ڈائریکٹر سوزانا یاکب کے مطابق ’کرہ ارض پر بہت زیادہ شور کی وجہ سے انسان کے غصے اور پریشانیوں میں اضافہ ہوا اور نئی بیماریوں نےبھی جنم لیا جن میں دل اور خون کے کئی امراض شامل ہیں۔[4]

نہ صرف انسان، جانور بھی شور کی آلودگی کے باعث انسانوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔چونکہ ان کی زندگی کی بقاء کا انحصار آواز سے ہوتا ہے، تاہم جانوروں کی قوتِ سماعت زیادہ ہوتی ہے۔ اور شور ان کی سننے کی صلاحیت کو بے حد متاثر کرتا ہے۔ ان کے لیے اپنے شکاری سے بچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ دوسرے جانوروں کی طرف سے دیے جانے والے اشاروں کو وہ سمجھنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔[5]


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Senate Public Works Committee. Noise Pollution and Abatement Act of 1972. S. Rep. No. 1160, 92nd Congress. 2nd session
  2. Hogan CM، Latshaw GL (مئی 21–23, 1973). The relationship between highway planning and urban noise. Proceedings of the ASCE Urban Transportation Division Environment Impact Specialty Conference. Chicago, Illinois: American Society of Civil Engineers. Urban Transportation Division. 
  3. شور کی آلودگی اور انسانی بیماریاں
  4. شور کی آلودگی، دل اور خون کی بیماریوں کے پھیلنے کا سبب
  5. شور اور اس کے نقصانات