شوکت شورو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شوکت شورو

شوکت شورو انگریزی (Shaukat Shoro) سندھ پاکستان میں پیدا ہونے والے سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، ڈراما نگار ، کالم نویس ہیں۔ یہ انسٹی ٹیوٹ آف سندھولاجی جامشورو کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔[1][2][3] اس کی کئی کتب شایع ہوئی ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

شوکت شورو کا پورا نام شوکت حسین شورو ولد عبدالکریم شورو ہے۔ یہ 1947 میں سندھ کے ضلع ٹھٹہ، موجودہ ضلع سجاول کے گاؤں نورمحمد شورو میں پیدا ہوئے۔ شوکت شورو کے والد وکیل تھے جو پھر جج بھی بنے۔ [4]

تعلیم[ترمیم]

شوکت شورو نے پرائیمری تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان سجاول شہر کے ہائی اسکول سے پاس کیا۔ انٹر کا امتحان اور بی اے کی ڈگری 1966 میں سچل آرٹس کالج حيدرآباد سے حاصل کی۔ اس نے سندھی ادب میں ڈگری جامعہ سندھ جامشورو سے 1968 میں حاصل کی۔[5]

ادبی خدمات[ترمیم]

شوکت شورو نے طالب علمی کے زمانے میں 1964 سے لکھنا شروع کیا. اس کے افسانے معیاری ادبی جریدوں میں شایع ہوئے۔ شوکت شورو کے ڈرامے پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کراچی سینٹرسے نشر ہوئے ہیں۔ جب کے اس کے کالم مختلف جریدوں اور اخبارات میں شایع ہوئے ہیں۔ یہ پاکستان ٹیلی وژن کراچی سنٹر پر اسکرپٹ ایڈیٹر بھی رہے. پھر انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی کے ڈائریکٹر بنے اور بطور ڈائریکٹر2009 میں رٹائرڈ ہوئے۔

تصانیف[ترمیم]

  • گونگی دھرتی بوڑو آسمان 1981[6]
  • اکھین میں ٹنگیل سپنا 1983
  • گم تھیل پاچھو 1989
  • رات جو رنگ 2011
  • کھوئی ہوئی پرچھائی 2017[7]
  • کلرس آف نائيٽ[8]
  • 100 سندھی افسانا 2017 [9]

حوالہ جات[ترمیم]