شوکت علی (ناول نگار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دیگر ہمنام لوگوں کے لیے، دیکھیے شوکت علی (ضد ابہام)۔
شوکت علی (ناول نگار)
(بنگالی میں: শওকত আলী خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
شوکت علی (ناول نگار)

معلومات شخصیت
پیدائش 12 فروری 1936  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
دیناج پور ضلع، بنگلہ دیش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 25 جنوری 2018 (82 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ڈھاکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Bangladesh.svg بنگلہ دیش
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ ڈھاکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

شوکت علی (12 فروری 1936 – 25 جنوری 2018) ایک معاصر ممتاز بنگلہ دیشی ناول نگار تھے، جنھوں نے چار دہائیوں تک ناول نگاری کی۔[1]

زندگی[ترمیم]

شوکت علی ضلع دیناج پور میں پیدا ہوئے، وہ بنگلہ زبان و ادب کے پروفیسر بھی تھے۔

ناول[ترمیم]

  • Pingal Akash (گلگونی بھورا آسمان، 1963ء)
  • Jaatra (سیاحت، 1976ء)
  • Prodoshe Praakritajon (The Commoners in the Twiltghat, 1984)
  • Apeksha (انتظار، 1985)
  • Dakshinayaner Din (جنوب کی راہ کے دن، 1985ء)
  • Kulyaai Kalasrot (پرندے کے ف گھونسلے میں وقت کی روانی، 1986ء)
  • Purbaratri Purbadin (رات سے پہلے، دن سے پہلے، 1986ء)
  • Sambal (بچت، 1986)
  • Gantabye Atahpar (منزلوں کے پیچھے، 1987ء)
  • Bhalobasa Kare Kay (محبت کیا ہے، 1988ء)
  • Jete Chai (میں جانا چاہتا ہوں، 1988ء)
  • Warish (کامیابی، 1989ء)
  • Basar O Madhucandrima (دلہن چیمبر اور ہنی مون، 1990ء)
  • Uttarer Khep (شمالی کا ایک سفر، 1991ء)[2]
  • Tripodi (2002)

اعزازات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Prominent writer Shawkat Ali passes away"۔ thedailystar.net۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 جنوری 2018۔
  2. "Life in Bangla filmdom"۔ thedailystar.net۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 جنوری 2018۔

بیرونی روابط[ترمیم]

(مراجع)