شوکت نواز خان نیازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شوکت نواز خان نیازی
معلومات شخصیت

شوکت نواز خان نیازی پاکستان کے ممتاز مزاح نگار، ادیب اور مترجم ہیں۔ انہوں نے فرانسیسی ادب کو براہِ راست فرانسیسی زبان سے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔

مختصر تعارف[ترمیم]

شوکت نواز خان نیازی 19 نومبر 1962 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ لاہور میں ایف سی کالج اور اسلامیہ کالج سول لائینز سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہاءالدین ذکریہ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ 1984 میں فرانسیسی زبان سے دلچسپی کے باعث لاہور میں واقع فرانسیسی ثقافتی مرکز (آلیانس فرانسیز) سے فرانسیسی زبان کی تعلیم حاصل کی جو بعد ازاں 1988 تک اسلام آباد کے آلیانس فرانسیز میں جاری رہی۔ فرانسیسی ادب سے براہ راست اردو میں تراجم کی ابتدا 2000 میِں ہوئی جو اب ان کی وجہِ شہرت بن چکی ہے۔ تراجم کے علاوہ فرانس کا ایک سفرنامہ اور سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر سماجی اور معاشی موضوعات پر کڑوے کسیلے طنزیہ مضامین لکھتے اور پڑھتے ہیں۔

کیرئیر کا آغاز[ترمیم]

وہ گذشتہ پچیس سال سے فرانسیسی لسانی و ثقافتی اداروں سے منسلک رہے ہیں۔ 2000 سے 2010 تک وہ فرانسیسی ثقافتی مرکز اسلام آباد سے بطور مترجم منسلک رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے فرانس کے متعدد دورے کیے اور انہیں فرانسیسی معاشرے کا بہت نزدیک سے عمیق جائزہ لینے کا موقع ملا۔ غیر ملکی ادب خصوصا فرانسیسی دڑاموں کے تراجم میں شہرت پائی۔ فرانسیسی دڑامہ نویس مولئیرکے شہرہ آفاق کھیل (تارتوف) کا اردو ترجمہ "ریاکار" کے نام سے 2011 میں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے سٹیج پر کامیابی سے پیش کیا گیا۔ غیر ادبی تراجم میں پاکستانی گائیک نصرت فتح علی خان کی فرانسیسی زبان میں تحریر سوانح عمری کا اردو ترجمہ کیا ۔[1]ان کے تمام تراجم فرانسیسی زبان سے براہِ راست اردو میں ترجمہ شدہ ہیں ۔ انہوں نے بہت سے نامور فرانسیسی و غیر فرانسیسی ادیبوں کی شاہکار تحاریر کا اردو ترجمہ کیا ہے۔[2] دیگرمتعدد فرانسیسی دڑامہ نگاروں کے فن پاروں کا ترجمہ کر چکے ہیں جن میں ژاں پال سارتر، ژاں انہوئی، یوجین ایونیسکو، ژولز رومیں، آنتوان دسینت ایکسوپیری اور نوبل انعام یافتہ بیلجِئم نژاد فرانسیسی دڑامہ نگار ماریس ماترلینک شامل ہیں۔ ژاں پال سارتر کے ڈراموں کے ایک مجموعے اورایک ناول کے تراجم زیر طبع ہیں۔ علاوہ ازیں انگریزی زبان میں بین الاقوامی ادب کے تراجم بھی کر چکے ہیں جن میں اینٹون چیکوف (انکل وانیا)، ہنرک ابسن (اینمی آف دی پیپل، اے ڈالز ہاؤس، ہیڈا گابلر)، روالڈ ڈاہل کی چند کہانیوں کے علاوہ ٹینیسی ولیمز (گلاس میناژری) بھی شامل ہیں۔

طبع شدہ فرانسیسی تراجم[ترمیم]

  1. "کنجوس" ، مولئیر کے مزاحیہ ڈرامے L’ Avare  کا اردو ترجمہ (پہلا ایڈیشن: اکتوبر 2005ء)
  2. "ریاکار" ، مولئیر کے مزاحیہ ڈرامے La Tartuffe کا اردو ترجمہ، (پہلا ایڈیشن: اکتوبر 2005ء)
  3. "موپاساں کی شاہکار کہانیاں-1" ، گی دموپاساں کے مشہور ناولٹ Boule de Suif اور منتخب   14 افسانوں کے اردو تراجم، (پہلا ایڈیشن: فروری 2006ء)
  4. "ہوئے تم دوست جس کے" ، گی دموپاساں کے مشہور ناول Bel Ami کا اردو ترجمہ، (پہلا ایڈیشن: مارچ 2007ء)
  5. "پینتیس شامیں موپاساں کے ساتھ" ، گی دموپاساں کے مشہور ناولٹ Boule de Suif اور منتخب 34 افسانوں کے اردو تراجم، (پہلا ایڈیشن: 2018ء)

ایوارڈ[ترمیم]

پاکستان میں فرانسیسی زبان کی ترویج میں ان کی خدمات کے اعتراف میں بین الاقوامی ادارہ برائے فرانسیسی زبان (organisation internationale de la francophonie) اورسفارت خانہِ فرانس نے انہیں 2007 میں (grand prix de la francophonie) سے نوازا۔

حوالہ جات[ترمیم]