شکر النساء بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


شکر النساء بیگم
معلومات شخصیت
مقام پیدائش قلعہ آگرہ، فتح پور سیکری  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1 جنوری 1653  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قلعہ آگرہ، آگرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مقبرہ جلال الدین اکبر، فتح پور سیکری  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد جلال الدین اکبر  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی

شکر النساء بیگم (وفات: یکم جنوری 1653ء) مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کی بیٹی، نورالدین جہانگیر کی بہن اور شاہ جہاں کی پھوپھی تھیں۔

سوانح[ترمیم]

پیدائش اور ابتدائی حالات[ترمیم]

شکر النساء بیگم کی پیدائش قلعہ آگرہ میں ہوئی۔ اُن کی والد بی بی دولت شاد اور والد مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر تھے۔ شکرالنساء بیگم کی چھوٹی بہن آرام بانو بیگم تھی۔[1] اُن کی تربیت جلال الدین اکبر اور دیگر دوسرے شاہی خاندان کے افراد کی زیر نگرانی ہوئی۔ اخلاق و تربیت اعلیٰ قسم کے پائے اور عوامی رائے میں وہ با اخلاق شاہزادی تصور کی جاتی تھیں۔ نورالدین جہانگیر بھی شکرالنساء بیگم سے محبت رکھتا تھا۔[2]

ازدواج[ترمیم]

2 ستمبر 1594ء میں جلال الدین اکبر نے شکرالنساء بیگم کی شادی شاہ رخ مرزا سے کردی جو ابراہیم مرزا کا فرزند تھا۔[3] ابراہیم مرزا کے والدین سلیمان مرزا اور حَرم بیگم تھے جن کا تعلق بدخشاں سے تھا۔[4] یہ شادی حمیدہ بانو بیگم کے محل میں سر انجام پائی۔شاہ رخ مرزا نے شکرالنساء بیگم کے علاوہ مرزا محمد حکیم کی بیٹی کابلی بیگم سے بھی شادی کی۔[5] مرزا محمد حکیم جلال الدین اکبر کا سوتیلا بھائی تھا اور اِس طرح شکرالنساء بیگم اور کابلی بیگم کا چچازاد کا رشتہ تھا۔ 1607ء میں شاہ رخ مرزا کے انتقال کے بعد شکرالنساٗ بیگم نے بیوگی کی زِندگی گزارنا شروع کردی اور خود کو قلعہ آگرہ تک محدود کر لیا۔ شاہ رخ مرزا سے شکرالنساء بیگم کے چار بیٹے پیدا ہوئے: حسن مرزا، حسین مرزا، سلطان مرزا اور بدیع الزماں مرزا۔ سلطان مرزا اور بدیع الزماں مرزا جڑواں (توام) بھائی تھے۔ شکرالنساء بیگم کی تین بیٹیاں بھی تھیں، لیکن اِن بیٹیوں کا نام تاریخ کی کتب میں موجود نہیں ہے۔[6]

وفات[ترمیم]

یکم جنوری 1653ء کو شکرالنساء بیگم نے آگرہ سے دہلی جاتے ہوئے راستے میں وفات پائی۔ یہ سفر شاہ جہاں سے ملاقات کے لیے تھا۔ شکرالنساء بیگم کو اُن کے والد جلال الدین اکبر کے ساتھ مقبرہ جلال الدین اکبر میں دفن کیا گیا۔[7][8]

  1. Thomas William Beale؛ Henry George Keene۔ An Oriental Biographical Dictionary: Founded on Materials Collected by the Late Thomas William Beale۔ W.H. Allen۔ صفحہ 107۔
  2. Emperor Jahangir؛ Alexander Rogers؛ Henry Beveridge۔ The Tuzuk-i-Jahangiri; or, Memoirs of Jahangir. Translated by Alexander Rogers. Edited by Henry Beveridge۔ London Royal Asiatic Society۔ صفحہ 36۔
  3. Henry Beveridge۔ اکبر نامہ of ابو الفضل ابن مبارک - Volume I۔ Asiatic Society, Calcuta۔ صفحہ 990۔
  4. گلبدن بیگم۔ The History of Humayun (Humayun-Nama)۔ Royal Asiatic Society۔ صفحہ 267۔
  5. Shāhnavāz Khān Awangābādī؛ Baini Prasad؛ 'Abd al-Hayy ibn Shāhnavāz۔ The Maāthir-ul-umarā: Being biographies of the Muḥammadan and Hindu officers of the Timurid sovereigns of India from 1500 to about 1780 A.D.۔ Janaki Prakashan۔ صفحہ 781۔
  6. Emperor Jahangir؛ Wheeler McIntosh Thackston۔ The Jahangirnama : memoirs of Jahangir, Emperor of India۔ Washington, D. C.: Freer Gallery of Art, Arthur M. Sackler Gallery, Smithsonian Institution; New York: Oxford University Press۔ صفحات 303–4۔
  7. Inayat Khan؛ Wayne Edison Begley۔ The Shah Jahan nama of 'Inayat Khan: an abridged history of the Mughal Emperor Shah Jahan, compiled by his royal librarian : the nineteenth-century manuscript translation of A.R. Fuller (British Library, add. 30,777)۔ Oxford University Press۔ صفحہ 489۔
  8. Muhammad Saleh Kanbo۔ Amal e Saleh al-Mausoom Ba Shahjahan Nama (Persian) - Volume 3۔ صفحہ 117۔