شکستہ دلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شکستہ دل کی ایک کاغذی علامت کی پیش کشی۔

شکستہ دلی یا دل کا ٹوٹنا، ٹوٹے دل وغیرہ (انگریزی: Broken heart) ایک استعارے کے طور پر مستعمل ہوتا ہے۔ یہ ایک جذباتی کیفیت کا نام ہے، جو کہیں نہ کسی ایک شخص کے جسم اور مکمل وجود پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس جذبے کے ساتھ کوئی شخص حد سے زیادہ تناؤ اور تکلیف محسوس کر سکتا ہے۔ ایک شخص کو بہت شدید خواہشات اور امیدوں کے ٹوٹنے کا احساس ہوتا ہے۔ یہ تصور ہمہ ثقافتی ہے، اس کا حوالہ اکثر کسی خوہش کردہ یا مفقود عاشق کے کھونے کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔ [1]

ناکام رومانی محبت بہت زیادہ تکلیف دہ ہو سکتی ہے؛ اس کے متاثرین بہت ہی زیادہ اداسی اور اضطراب ذہنی کے شکار ہو سکتے ہیں۔ انتہائی معاملوں میں یہ لوگ مابعد صدمہ تناؤ کی بد نظمی کے بھی شکار ہو سکتے ہیں۔[2][3]

جذباتی انتشار میں سماج کا کردار[ترمیم]

انسان عام طور سے یا تو عشق و معاشقے کی وجہ سے یا پھر اپنی کوششوں کی عدم ثمر آوری اور دنیا میں خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ اس سے دل آزاری بھی ہوتی ہے اور اپنے وجود کو خود ایک شخص کافی عبث اور غیر اہم سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کئی بار لوگ شدید تناؤ، الجھن اور حتی کہ پاگل پن تک پہنج جاتے ہیں۔ کچھ لوگ مایوسی کے عالم میں خود کشی جیسے اقدام پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں سماج میں، خاص طور پر متاثرہ شخص کے دوست اور رشتے دار پر ایک ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے متعلقین کو دنیا کو محدود دائرہ سمجھنے کی بجائے کی وسعت اور ہمہ گیری پر روشنی ڈالیں۔ یہ ضروری ہے کہ اس بات کو اجاگر کریں کہ زندگی لاکھ ناکامیوں کے باوجود ہر بار کچھ نئے مواقع اور امید کی نئی کرنیں فراہم کرتی ہے۔ شکستیدگی اور خود کشی ہی پر اگر کسی کی نظر مرکوز ہو گی تو پھر زندگی کی روانی ہی مسدود ہو جائے گی اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Johnson، R. Skip. "A Broken Heart can Really Hurt You". BPDFamily.com. اخذ شدہ بتاریخ 14 جون 2014. 
  2. Zisook، S; Shuchter، SR (October 1991). "Depression through the first year after the death of a spouse". American Journal of Psychiatry 148 (10): 1346–52. doi:10.1176/ajp.148.10.1346. 
  3. Goleman, Daniel. The Emotional Brain and Emotional Intelligence: New Insights. North Hampton, Mass, 2011.