شکیل رشید
شکیل رشید (پ: 25 اگست 1960ء) بھارت کے صحافی، ادیب، کالم نگار اور دانشور ہیں جو اپنی علمی بصیرت، اردو زبان سے گہری وابستگی اور سماجی و ملی شعور رکھنے والی تحریروں کے باعث ممتاز سمجھے جاتے ہیں۔ وہ ممبئی سے شائع ہونے والے معروف اردو روزنامے انقلاب کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور اس وقت روزنامہ ممبئی اردو نیوز کے مدیر ہیں۔[1]
ابتدائی زندگی و تعلیم
[ترمیم]شکیل رشید کی پیدائش 25 اگست 1960ء کو بھارت میں ہوئی۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ممبئی کے انجمن اسلام ہائی اسکول سے حاصل کی اور بعد ازاں مہاراشٹر کالج سے سیاسیات میں گریجویشن کیا۔ [1] انھوں نے ایل ایل بی میں داخلہ لیا لیکن گھریلو ذمہ داریوں کے باعث تعلیم مکمل نہ کرسکے۔ [1]
صحافتی و ادبی سفر
[ترمیم]شکیل رشید نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز روزنامہ ہندوستان سے کیا، اس کے بعد وہ ہفتہ وار اخبارِ عالم سے وابستہ ہوئے جہاں انھوں نے مختلف سماجی و سیاسی موضوعات پر رپورٹس لکھیں۔ بعد ازاں وہ روزنامہ انقلاب، بھارت اور اردو ٹائمز سے منسلک رہے۔ [1] اس وقت وہ روزنامہ ممبئی اردو نیوز کے ایڈیٹر ہیں اور اپنی بے باک اور مدلل تحریروں کے باعث اردو صحافت میں علاحدہ مقام رکھتے ہیں۔[2]
تحریری اسلوب و موضوعات
[ترمیم]شکیل رشید ہفتہ میں تین طرح کی تحریریں لکھتے ہیں:
- خاص کالم، جس میں وہ موجودہ سیاسی و سماجی مسائل پر تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔
- اتواریہ، جو مختصر مگر جامع ہوتا ہے۔
- باتیں کتابوں کی...، جو علمی، ادبی، فکری اور سماجی موضوعات پر لکھی گئی کتابوں اور رسائل پر تبصرے پر مشتمل ہوتا ہے۔
ان کے کالموں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ حق گوئی، توازن اور فکری اعتدال کے ساتھ تحریر کیے جاتے ہیں۔ [1]
اشاعتیں و آن لائن موجودگی
[ترمیم]شکیل رشید کے مضامین اور کالم نہ صرف پرنٹ میڈیا بلکہ مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں، جن میں ریختہ، ETV Bharat، ترجمان القرآن، مکالمہ، دیوبند ٹائمز اور جی این کے اردو شامل ہیں۔ [3] [4] [5] [6] [7] [8]
اسلوب و نظریہ
[ترمیم]شکیل رشید کی تحریروں میں سادگی، توازن اور بصیرت نمایاں ہے۔ وہ معاشرتی مسائل کو انسانی ہمدردی اور انصاف کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مضامین میں زبان کی شستگی، دلیل کی پختگی اور فکری اعتدال نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ [1]
ناقدین کی آراء
[ترمیم]جاوید جمال الدین (ممبئی) نے ان کے بارے میں لکھا ہے: "شکیل رشید ایک کم گو، مخلص، سادگی پسند انسان ہیں، بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں اور بڑی دھیمی آواز میں اظہار کرتے ہیں، لیکن مدلل جوابات اور باتوں سے میدان مار لیتے ہیں۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ ان سے ملاقات ہوتی ہے تو شکیل رشید ان علاقوں میں ملتے ہیں جہاں کتابوں کی دکانیں ہیں۔" [9]
اعزازات و پزیرائی
[ترمیم]اردو صحافت میں ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں مختلف ادبی و صحافتی اداروں نے انھیں اعزازات سے نوازا۔ ان کی تحریری بصیرت کو اردو کے ساتھ ساتھ ہندی اور انگریزی ذرائع ابلاغ میں بھی سراہا گیا۔[1]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ ت ٹ ث ج "معروف وممتاز صحافی شکیل رشید صاحب بحیثیت تبصرہ نگار - Baseerat Online Urdu News Portal"۔ 27 جون، 2023
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=(معاونت) - ↑ "خبر نمبر 200240"۔ بصیرت آن لائن۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-10-04
- ↑ "Alphabetic Index of Poets"۔ Rekhta
- ↑ "etvbharat.com پر ان کے کالم"[مردہ ربط]
- ↑ "شکیل رشید کے مضامین"۔ www.tarjumanulquran.org
- ↑ مکالمہ ڈاٹ کام پر شکیل رشید کے کالم[مردہ ربط]
- ↑ "'لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں' اتواریہ: شکیل رشید"
- ↑ G. N. K. Urdu (13 فروری، 2023)۔ "مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کے "یادوں کے چراغ" ، مبصر شکیل رشید"
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=(معاونت) - ↑ "شکیل رشید : مطالعہ کے شوق اور بے باک قلم نے انہیں دوسروں سے منفرد کردیا :"۔ ورق تازہ۔ 22 جولائی، 2020
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=(معاونت)