سول سوسائٹی
سول سوسائٹی (یا جسے اردو میں بعض جگہ مہذب معاشرہ بھی لکھا گیا ہے) ایسے سماجی گروہوں، جماعتوں، تنظیموں اور اداروں کو کہتے ہیں جو معاشرے میں رضاکارانہ طور پر باہمی میل جول یا اشتراک عمل سے وجود میں آتے ہیں۔ جیسے خاندان، مسجد و مدرسہ اور اسکول، کھیلوں کی ٹیمیں، میوزک کلب، خیراتی ادارے، سیاسی جماعتیں، نظریاتی گروہ، صحافی انجمنیں، ٹریڈ یونین وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب گروہ رضاکارانہ بنیادوں پر یعنی اپنے اراکین کی آزاد شمولیت سے وجود میں آتے ہیں۔ سول سوسائٹی کا آئیڈیا عہد جدید میں فرانسیسی مفکر بینجمن کانسٹنٹ سے ماخوذ ہے جس کے خیال میں یہ تصور محض صنعتی عہد میں ہی کارگر ہے۔ کانسٹنٹ اس آئیڈیا کا جواز ’آزادی برائے اشتراک عمل یا تعاون باہمی‘ (Freedom to associate) سے جوڑتا ہے اس کے خیال میں تمام انسانوں کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ پر امن رہتے ہوئے دیگر انسانوں سے نظریاتی لسانی صنفی یا دیگر بنیادوں پر اشتراک کرنا چاہیں تو یہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے۔ ریاست کا اس سے کوئی سرو کار نہیں سوائے اس کے کہ تشدد پسند گروہوں کو اس عمل سے دور رکھے۔ کانسٹنٹ ایک اور دلچسپ دعوی بھی کرتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ جدید متمدن دنیا کے قیام کا سبب محض سیاسی عمل میں شرکت کی آزادی (Freedom to participate in Government) نہیں بلکہ نجی بنیادوں پر اشتراک عمل و تعاون باہمی کی آزادی (Freedom to associate) اس کی بنیادی وجہ ہے۔ اسے مشہور مفکر Alexis de Tocqueville اس طرح بیان کرتے ہیں۔ ”معاشرے میں ترقی انسانی کو آپریشن (cooperation) کا نتیجہ ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں کہ جب تک سوسائٹی آزاد نہ ہو اور اس پر چند مراعات یافتہ انسانوں کی نہیں بلکہ سب کے لیے یکساں قانون کی حکمرانی ہو“۔[1]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ ذیشان ہاشم (10 اپریل 2017)۔ "سول سوسائٹی سے کیا مراد ہے ؟"۔ ہم سب۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-10-01