شہر نوش پارسی پور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شہر نوش پارسی پور
(فارسی میں: شهرنوش پارسی پور ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Women Without Men 03, Sharnush Parsipur (Gartenbaukino, 2010.09.13).jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 17 فروری 1946 (74 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تہران  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iran.svg ایران
Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا[1]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی پیرس یونیورسٹی
جامعہ تہران  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مترجم،  ناول نگار،  مصنفہ،  منظر نویس  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فرانسیسی[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

شَهرنوش پارسی‌پور (پیدائش:17 فروری1946-تهران) ایرانی ادیبہ ، ناول نگار اور مترجم ہیں۔[3] ان کی تحریروں کے دنیا کی کئی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ انہیں 18ویں امریکی خواتین محققہ کانفرنس کی جانب سے بہترین خاتون سال کا اعزاز دیا گیاتھا۔[4][5] انہیں سال 2016میں ایرانی ادبی ایوارڈ جایزۂ بیتائی سے بھی نوازا گیا۔[6]سن ستر کی دہائی کے اواخر میں جب ان کی کتاب «زنان بدون مردان» شائع ہوئی اور ایران میں اس پر پابندی لگی وہ ریاستہائے متحدہ امریکا ہجرت کر گئیں۔ یہ ادیبہ اس وقت سان فرانسیسکو میں مقیم ہیں۔[7][8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://libris.kb.se/katalogisering/xv8chb7g4pp273b — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 26 مارچ 2018
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb15106443v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. "نگاهی به زندگی و آثار شهرنوش پارسی پور". 
  4. "زنان برگزیده کنفرانس ها". 
  5. "با شهرنوش پارسی‌پور − 164هفته «کمی بهار»". 
  6. "Bita Prize for Persian Art | Hamid and Christina Moghadam Program in Iranian Studies". 
  7. "شهرنوش پارسی پور، نویسنده ایرانی از مشکلات مالی پرده برداشت؛ کاربران شبکه های اجتماعی واکنش نشان دادند".