شہزادی عابدہ سلطان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شہزادی عابدہ سلطان
Bhopal Royal Family.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 28 اگست 1913  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بھوپال، ریاست بھوپال، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 مئی 2002 (89 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی، سندھ، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن کراچی  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد شہریار خان  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد نواب حمید اللہ خاں  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ میمونہ سلطان  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
ولی عہد نواب بیگم ریاست بھوپال   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
1928  – 1 جون 1949 
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان، سفارت کار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

شہزادی عابدہ سلطان (پیدائش: 28 اگست 1913ء – وفات: 11 مئی 2002ء) ریاست بھوپال کے آخری حکمران نواب حمید اللہ خان کی بڑی بیٹی اور آخری ولی عہد تھیں۔

بھارتی ریاست بھوپال کی آخری ولی عہد اور پاکستان کی سابق سفیر۔ پرنسز عابدہ سلطان ہندستان کی ریاست بھوپال کے آخری حکمران نواب حمیداللہ خان کی تین صاحبزادیوں میں سب سے بڑی تھیں اور اپنے والد کے حکمران بننے کے بعد انیس سو اٹھائیس میں ریاست کی ولی عہد مقرر کی گئیں۔ انہوں نے اپنا بچپن اپنی دادی بھوپال کی آخری خاتون حکمران سلطان جہان بیگم کے زیر تربیت گزارا، جنہیں وہ ہمیشہ ’سرکار امّاں‘ پکارتی تھیں۔ پرنسز عابدہ سلطان کو ریاست کی حکمرانی کی پوری تربیت دی گئی تھی اور انیس سو تیس میں وہ اپنی والد کی چیف سکریٹری مقرر ہوئیں اور بعد میں کابینہ کی صدر۔

پرنسز عابدہ سلطان بر صغیر کی پہلے خاتون تھیں جنہوں نے ہوا بازی سیکھی اور انیس سو بیالیس میں باقاغدہ پائلٹ لائسنس حاصل کیا۔ وہ ایک منجھی ہوئی شکاری بھی تھیں اور ریاست کے اہم مہمانوں کو شیر کے شکار پر لے جایا کرتیں۔وہ ہندوستان کی خواتین کی اسکوائش چیمپین تھیں اور ہاکی اور ٹینس کے مقابلوں میں بھی شریک ہوئیں۔ ان کی شادی نواب صاحب کوربائی سے ہوئی اور ایک بیٹا ہوا لیکن کچھ ہی عرصے بعد دونوں نے اپنی اپنی ریاستوں میں علاحدہ زندگیاں گزارنی شروع کر دیں

تقسیم ہند کے تین سال بعد انیس سو پچاس میں پرنسز عابدہ سلطان بھوپال کی ریاست کا حق ترک کر کے اپنے اکلوتے بیٹے شہریار محمد خان کے ساتھ ولایت کے راستے پاکستان منتقل ہو گئیں۔

پاکستان میں عابدہ سلطان نہایت سادگی سے رہنے لگیں۔ کراچی کے ملیر علاقے میں انہوں نے اپنا گھر بنایا اور بیشتر کام وہ خود کرتیس تھیں۔ شان اور دکھاوے سے بہت پرہیز کرتی تھیں، جب کسی نے ان سے کہا کہ ان کو اپنی ذاتی گاڑی پر ریاست کی خاص لال نمبر پلیٹ لگانی چاہیے تو کہنے لگیں کہ جب ریاست ہی نہیں ہے تو اتنے انداز اور نخرے کیوں؟

پرنسز عابدہ سلطان برازیل میں پاکستان میں کی سفیر بھی رہیں، لیکن صرف اٹھارہ ماہ بعد وہ سفارت سے چھوڑ کر پاکستان واپس آگئیں۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ سرکاری نوکری میں انہوں نے اتنی بدعنوانی دیکھی کہ ان سے برداشت نہ ہو سکا۔ پرنسز عابدہ سلطان نے انیس سو چونسٹھ کے صدارتی انتخاب میں ایوب خان کے خلاف محترہ فاطمہ جناح کی حمایت کی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے حال میں اپنی آپب یتی ’ایک شہزادی کی یاد داشتیں‘ کے عنوان سے مکمل کی تھی۔

شہزادی عابدہ سلطان پاکستان کے سابق سکریٹری خارجہ اور برطانیہ اور فرانس میں سابق سفیر شہریار محمد خان کی والدہ تھیں۔ کراچی میں ان کا انتقال ہوا۔

وفات[ترمیم]

بیگم عابدہ سلطان کا اِنتقال 88 سال کی عمر میں 11 مئی 2002ء کو بھوپال ہاؤس، کراچی میں ہوا۔