شہزاد نیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شہزاد نیر
معلومات شخصیت
پیدائش 29 مئی 1973 (46 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گوندلانوالہ، گوجرانوالہ، پنجاب، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستانی  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب
لاہور  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ایم اے اردو، ماسٹر آف سائنس، ڈپلومہ فارسی (ادب)  ویکی ڈیٹا پر تعلیمی اسناد (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ میجر، شاعر، محقق، نقاد  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی، اردو، فارسی، عربی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں برفاب، چاک سے اترے وجود، خوابشار، گرہ کھلنے تک  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

شہزاد نیر یا میجر شہزاد نیر (پیدائش: 29 مئی 1973ء) اردو زبان کے جدید شعرا میں مشہور و ممتاز شاعر ہیں۔علاوہ ازیں وہ پاک فوج میں بھی بطور میجر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ 2006ء سے تا حال اُن کے چار شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں جو اُن کی وجہ شہرت ہیں۔ شہزاد نیر کی شاعری میں جدید موضوعات اور نئے رجحانات ملتے ہیں جو قدیمی اصناف سے ہٹ کر ہیں۔ شہزاد نیر بطور محقق اور نقاد کے بھی اپنی حیثیت میں منفرد ہیں۔ وہ پاکستان کے اُن کم شعرا میں سے ایک ہیں جو بیک وقت محقق اور نقاد بھی ہیں۔

نام و پیدائش[ترمیم]

شہزاد نیر کا پیدائشی نام محمد شہزاد ہے۔ وہ 29 مئی 1973ء کو ضلع گوجرانوالہ کے ایک گاؤں گوندلانوالہ میں پیدا ہوئے۔

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے میٹرک کیا ۔ پھر ایف سی کالج لاہور سے ایف ایس سی کرنے کے بعد عسکری ملازمت اختیار کر لی اور مختلف مقامات پر تعینات رہے۔ آپ نے ایم اے اردو فرسٹ ڈویژن میں کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی، فارسی زبان ِادب میں ڈپلومہ حاصل کیا آپکو عربی زبان سے بھی واقفیت ہے۔ اب ایم فل ابلاغ عامہ کر رہے ہیں۔[1]

شاعری[ترمیم]

ساتویں میں پڑھتے تھے کہ شعر کہنے لگ گئے۔ ابتدا میں علامہ سید ماجد الباقری سے اصلاح لی۔ ان کی وفات کے بعد جان کاشمیری سے مشورہ سخن کیا۔ نصاب میں شامل منظومات سے متاثر ہوکر شاعری کی جانب آ گئے۔ پہلا شعر یہ ہے۔

جو نخوت سے میری گلی میں وہ آیا
تو زخموں کا جنگل ہرا ہو گیا ہے

آتش، فانی بدایونی، فیض، ندیم، منیر نیازی، راشد، مجید امجد سے متاثر ہیں۔ متعدد ادبی جرائد مثلاً فنون، اوراق، معاصر وغیرہ میں آپکا کلام شائع ہوتا رھا،آپ نے ملکی و غیر ملکی ادب کے پُر شوق قاری ہیں،برطانیہ، فرانس، سعودی عریبیہ اور متحدہ عرب امارات کے یاد گار بین الاقوامی مشاعروں میں شرکت کی۔ ادبی تنقید اور لسانیات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ،ادبی تنقید پر آپ کے متعدد مقالے شائع ہو چکے ہیں ۔

تصنیفات[ترمیم]

3 شعری تصانیف ہیں۔

  • "برفاب" جسے ’’پین انٹرنیشنل ایوارڈ " انگلینڈ سے مل چکا ہے۔ شاہکار نظموں پر مشتمل پہلا مجموعہ کلام "برفاب" 2006 میں شائع ہوا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے چھ سالوں میں "برفاب" کے تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اور اس شاندار مجموعہ کلام پر درجنوں مقالے لکھے جا چکے ہیں۔
  • "چاک سے اترے وجود" جسے "پروین شاکر ایوارڈ" مل چکا ہے۔ آپکا دوسرا مجموعہ کلام 2009 میں منظر ِعام پر آیاجو نظموں اور غزلوں پر مشتمل ہے۔
  • ’’گرہ کھلنے تک‘‘ کو اسلام آباد کی ایک ادبی تنظیم نے ایوارڈ دیا۔

اعزازات[ترمیم]

  • 1 : PEN International Award
  • 2 : صوفی غلام مصطفٰی تبسم ایوارڈ
  • 3 : فیض امن ایوارڈ
  • 4 : ایوان ِ اقبال ایوارڈ دُبئی
  • 5 : پروین شاکر عکس خوشبو ایوارڈ 2009
  • اس کے علاوہ بہت ساری ادبی تنظیموں کی طرف سے لاتعداد اعزازی شیلڈز اور ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔[2]

نمونہ کلام[ترمیم]

ﺁﭖ ﺩﻝ ﺟﻮﺋﯽ ﮐﯽ ﺯﺣﻤﺖ ﻧﮧ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ، ﺟﺎﺋﯿﮟﺭﻭ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﻧﮧ ﺍﺏﺍﻭﺭ ﺭُﻻﺋﯿﮟ ، ﺟﺎﺋﯿﮟ
مجھ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﻠﻨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞﺁﭖ ﺁ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ مجھ ﺳﮯ ﻣﻼﺋﯿﮟ ، ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺣﺠﺮہء ﭼﺸﻢ ﺗﻮ ﺍﻭﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮱ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﺎﺁﭖ ﺗﻮ ﻣﺎﻟﮏ ﻭ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮨﯿﮟﺁﺋﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺍﺗﻨﺎ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻔﺎ ﮨﻮﮞﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﻮﮞ ﮔﺎﻟﻮﮒ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﮯ ﻧﮧ ﺍﺏ مجھﮐﻮ ﻣﻨﺎﺋﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺩﮐﺎﮞ ﮐﮭﻮﻝﮐﮯ لکھ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻧﺞﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ
آپ پھر لے کے چلے آئے ہیں دین و دنیااب مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے،جائیں جائیں
ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﭼﮭﯿﻨﭩﮯﮨﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻭﺭﺩ ﮐﺮﺍﺋﯿﮟ ﮐﮧﺑﻼﺋﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﺭﻣﺎﻥ _ﻣﺤﺒﺖ ﻟﮯ ﮐﺮﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯿﮟ، کوئی ﺯﺧﻢ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ، ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺁﻣﺪ ﻭ ﺭﻓﺖ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎئیں ﭘﮍﯼ ہیں ﻧﯿﺮﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺑﺎﺯﺍﺭﺑﻨﺎﺋﯿﮟ،ﺟﺎﺋﯿﮟ۔

حوالہ جات[ترمیم]