شیخ ابو الحجاج یوسف الشبربلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شیخ ابو الحجاج یوسف الشبربلی شیخ اکبر ابن عربی کے مشائخ میں سے ہیں۔ ابن عربی، شیخ یوسف الشبربلی کے بارے میں لکھتے ہیں:۔ آپ اشبیلیہ سے دو فرسخ (آٹھ کلومیٹر) کی دوری پر موجود ایک بستی شبربل سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا زیادہ وقت بیابانوں میں گزرتا۔ آپ نے ابوعبد اللہ ابن المجاہد کی صحبت اختیار کی، آپ محنت مزدوری کر کے گزر بسر کیا کرتے تھے۔ طریقت میں بلوغت سے قبل داخل ہوئے اور اپنی وفات تک اِسی پر قائم رہے۔

آپ کی پالتو بلی[ترمیم]

آپ نے ایک کالی بلی پال رکھی تھی جو آپ کے ساتھ سوتی تھی، نہ تو اِسے کوئی پکڑ سکتا تھا اور نہ ہی اِس پر (پیار سے ) ہاتھ پھیر سکتا تھا۔ آپ مجھ سے کہا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ نے اِس بلی میں میرے لیے اولیا اللہ کی پہچان رکھی ہے۔ تُو جو یہ اس کا بھاگنا دیکھتا ہے یہ بالکل بے معنی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اِسے اولیا کے ساتھ مانوس ہونے والی بنایا ہے۔ میں نے کئی مرتبہ اِسے دیکھا کہ جب آپ کے پاس کوئی شخص آتا تو وہ (بلی ) اپنا منہ اس کی ٹانگوں سے مس کرتی، اُس سے لاڈ کرتی۔ اور جب دوسرا شخص آتا تو اُس سے بھاگ جاتی۔ ہمارے مرشد – ابو جعفر العریبی جن کا ذکر میں نے سب سے پہلے کیا ہے – جب پہلی بار آپ سے ملنے آئے تو یہ بلی کسی دوسرے گھر میں تھی، یہ وہاں سے واپس آئی، اُس نے ہمارے شیخ ابو جعفر کو دیکھا – اُس وقت شیخ ابو الحجاج آپ کو بیٹھنے کا کہہ رہے تھے – اِس نے وہیں سے شیخ ابوجعفر کی طرف چھلانگ لگا دی اور اپنے اگلے پاؤں آپ کی گردن میں ایسے ڈال دیے جیسے کہ آپ سے بغل گیر ہو رہی ہے، پھر اپنا منہ آپ کی داڑھی میں لوٹ پوٹ کر دیا۔ (یہ دیکھ کر) ابو الحجاج اُٹھ کر آئے اور آپ کو بٹھایا مگر آپ سے (اس بارے میں) کچھ نہ بولے۔ (بعد میں) ابو الحجاج نے مجھے بتایا کہ میں نے اسے کبھی کسی کے ساتھ ایسا کرتے نہیں دیکھا۔ وہ بلی (اس وقت تک شیخ ابو جعفر ) کے پاس ہی بیٹھی رہی جب تک کہ آپ وہاں سے چلے نہ گئے۔

ایک کرامت[ترمیم]

ایک دفعہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا – میں بھی اس وقت آپ کے پاس بیٹھا تھا – اُس کی آنکھ میں شدید درد تھا جس کی وجہ سے وہ چِلّا رہا تھا، جیسے کوئی عورت بچہ جنتے وقت چیختی چِلّاتی ہے۔ جب وہ آپ کے پاس آیا تو لوگ اس کی چیخوں سے بہت تنگ ہوئے۔ یہ دیکھ کر شیخ کا چہرہ زرد ہو گیا اور آپ مضطرب ہو گئے، پھر آپ نے اپنا مبارک ہاتھ اُٹھایا اور اس کی دونوں آنکھوں پر رکھ دیا۔ ہاتھ کا رکھنا تھا کہ اُس کا درد جاتا رہا اور وہ ایسے لیٹ گیا جیسے کہ کوئی مردہ پڑا ہو۔ پھر اُٹھا اور لوگوں کے ساتھ (ایسے سکون سے ) چل پڑا کہ اُسے کوئی درد ہی نہ تھا۔ صالح مومن جنوں میں سے ایک جن آپ کا مصاحب تھا جو ہمیشہ آپ کے ساتھ ہی رہتا اور کبھی آپ سے جدا نہ ہوتا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. روح القدس از ابن العربی، شائع شدہ ابن العربی فاونڈیشن ۔