شیخ ابو بکر احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیخ ابو بکر احمد
(ملیالم میں: ശൈഖ് അബൂബക്ർ അഹ്‌മദ്‌ ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Sheikh Abubakr receiving an Award by OIC Today.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Aboobacker)،  (عربی میں: أبوبكر ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 22 مارچ 1931 (89 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (22 مارچ 1931–26 جنوری 1950)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک شافعی
رکن مرکز ثقافت سنیہ  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد 8   ویکی ڈیٹا پر (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
مفتی اعظم   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
24 فروری 2019 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png اختر رضا خان 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
مادر علمی باقیات صالحات عربی کالج[2]  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مفتی اعظم[3]،  چانسلر،  صدر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی،  ہندی،  اردو،  ملیالم،  تمل،  کنڑ زبان،  ہندوستانی انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت مرکز ثقافت سنیہ  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

شیخ ابو بکر احمد (انگریزی: Kanthapuram A. P. Aboobacker Musliyar) مفتی اعظم بھارت ہیں۔[4][5][6][7][8] وہ آل انڈیا سنی جمعیت العلما کے جنرل سکریٹری بھی ہیں۔[9] مرکز ثقافت سنیہ کے چانسلر اور روزمانہ سراج کے صدر نشین ہیں۔[10][11][12] اور اسلامک ایجوکیشنل بورڈ آف انڈیا کے صدر ہیں۔۔[13][14][15][16] وہ ایک عالم، ماہر تعلیم، ریفارمر، ماہر ماحولیات، امن کے حامی اور مقرر ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ان کی ولادت 22 مارچ 1931ء کو کانتاپورم میں ہوئی۔

مفتی اعظم[ترمیم]

مفتی اعظم بھارت ایک بہت برا عہدہ ہے جو عموما جنوبی ہند میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بھارت کے مسلمانوں کا سب سے بڑا عہدہ ہے۔ ان کا انتخاب متعدد تنظیموں نے مل کر کیا ہے۔[4][17] سابق مفتی اعظم اختر رضا خان کی وفات کے بعد انہیں مفتی اعظم منتخب کیا گیا۔[18][19][20] انہوں نے رام لیلا میدان دہلیمیں مفتی اعظم بننے کا حلف لیا۔[21][4][22] ان کی حلف برداری کے بعد مختلف ممالک سے تہنیتی پیغامات شروع ہو گئے جن میں متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، سلطنت عمان، ملائیشیا اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ بالخصوص ان کے آبائی وطن اور جانے پیدائش کوژیکوڈ ضلع میں جشن کا ماحول تھا۔ وہاں کیرلا مجلس قانون ساز کے اسپیکر سری پی سری راما کشنن، کیرلا وزیر ٹی پی راما کرشنن، کرناٹک وزیر یو ٹی قادر اور رحیم خان، تمل ناڈو حج کمیٹی، کوژیکوڈ کے میئر، کئی سیاسی، مذہبی اور ثقافتی تنظیموں نے وہاں تقریب میں حصہ لیا اور مفتی صاحب کو مبارکباد دی۔[23][24] پروگرام میں ٹی پی راماکرشنن نے حکومت کیرلا کے لیے مفتی صاحب کی تعریف کی۔

اعزازات[ترمیم]

جنوری 2008ء میں جدہ میں انہیں اسلامی ثقافت کے دفاع کے لیے اسلامی ثقافتی اعزاز سے نوازا گیا۔[25][26] 2016ء میں انہیں او آئی سی کی جانب سے جیویلز آف مسلم ورلڈ بز اعزاز سے نوازا گیا۔[27][28] انہیں بھارت کا ابن بطوطہ کہا جاتا ہے۔[29]

نظریات[ترمیم]

وہ اسلامی شدت پسندی کے مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگجو گروہ جیسے داعش اسلام کی شبیہ کو خراب کر رہے ہیں۔ وہ امن کے حامی اور وکیل ہیں اور برداشت اور صبر کو بڑھاوا دیتے ہیں۔[30][31] نومبر 2015ء میں انہوں نے جنسی مساوات پر تنقید کی اور کہا کہ جنسی مساوات ایک ایسا سراب ہے جو کبھی حقیقت نہیں بن سکتا ہے۔ یہ اسلام کے مخالف ہے، انسانیت کے مخالف ہے اور کوئی بھی عاقل سے قبول نہیں کر سکتا ہے۔[32][33][34]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://sheikhabubakrahmad.com/About
  2. https://timesofindia.indiatimes.com/city/kozhikode/kanthapuram-to-meet-jordans-king-visit-may-boost-de-radicalization-move/articleshow/63122488.cms
  3. https://timesofindia.indiatimes.com/city/kozhikode/kanthapuram-selected-grand-mufti-of-india/articleshow/68175547.cms — اخذ شدہ بتاریخ: 24 فروری 2019
  4. ^ ا ب پ "Kanthapuram selected Grand Mufti of India – Times of India". The Times of India. اخذ شدہ بتاریخ 27 فروری 2019. 
  5. "Kanthapuram elected as new Grand Mufti". Mathrubhumi (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 25 فروری 2019. 
  6. "കാന്തപുരം എത്തപ്പെടുന്നത് സുന്നി-സൂഫി മുസ്ലിം സമൂഹത്തിന്റെ ഇന്ത്യയിലെ പരമോന്നത നേതാവ്۔۔۔". www.marunadanmalayali.com. اخذ شدہ بتاریخ 25 فروری 2019. 
  7. "കാന്തപുരം എ۔പി۔ അബൂബക്കർ മുസ്‌ലിയാർ ഗ്രാൻഡ് മുഫ്തി". Mathrubhumi (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 25 فروری 2019. 
  8. "കാന്തപുരം എ പി അബൂബക്കര്‍ മുസ്ലിയാരെ ഗ്രാന്റ് മുഫ്തിയായി പ്രഖ്യാപിച്ചു". Jaihind TV (بزبان انگریزی). 2019-02-24. اخذ شدہ بتاریخ 25 فروری 2019. 
  9. "Muslim intellectuals denounce A P Aboobacker Musliyar's misogynistic remark". 
  10. "Abu Dhabi Police, Siraj Malayalam Daily sign MoU". Khaleej Times. اخذ شدہ بتاریخ 02 ستمبر 2019. 
  11. "Understanding between ADP and "Siraj" to enhance media communication with the Indian Community". www.adpolice.gov.ae. اخذ شدہ بتاریخ 02 ستمبر 2019. 
  12. "Kerala daily signs MoU with Abu Dhabi Police". Sify (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 02 ستمبر 2019. 
  13. "25 ألف طالب وأستاذ جامعي يشاركون في ختم القرآن الكريم على روح الشيخة حصة". 
  14. "The 500 Most Influential Muslims : 2011" (PDF). Gwu.edu. اخذ شدہ بتاریخ 26 نومبر 2013. 
  15. "HRD panel to oversee RTE rollout". The Times Of India. 26 جون 2010. 
  16. "Home | Muslim |". Manorama Online. 2013-11-13. اخذ شدہ بتاریخ 26 نومبر 2013. 
  17. "تعيين الشيخ أبوبكر أحمد مفتيا للهند" [Sheikh Abu Bakr Ahmed Elected as Grand Mufti of India]. العين الإخبارية (بزبان عربی). ISSN 2521-439X. اخذ شدہ بتاریخ 24 فروری 2019. 
  18. MuslimMirror (22 جولائی 2018). "Renowned Barelvi cleric Mufti Akhtar Raza Khan passed away, lakhs attend final journey". اخذ شدہ بتاریخ 30 جنوری 2019. 
  19. "अजहरी मियां के जनाजे में दिखा जो जनसैलाब، आपने कभी नहीं देखा होगा، देखें तस्वीरें". Rajasthan Patrika. اخذ شدہ بتاریخ 30 جنوری 2019. 
  20. "Noted Barelvi cleric Azhari Miyan dies". دی ٹائمز آف انڈیا. ISSN 0971-8257. 
  21. "Kanthapuram Grand Mufti of Sunnis in India". دی ہندو (بزبان انگریزی). Special Correspondent. 2019-02-27. ISSN 0971-751X. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2019. 
  22. "Kanthapuram elected as new Grand Mufti". Mathrubhumi (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2019. 
  23. "Grand Mufti calls for talks, not war, to resolve Indo-Pak issues". The Hindu (بزبان انگریزی). Special Correspondent. 2019-03-02. ISSN 0971-751X. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2019. 
  24. Mar 2، TNN | Updated:؛ 2019؛ Ist، 8:44. "Grant full membership to India: Kanthapuram to OIC | Kozhikode News – Times of India". The Times of India (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2019. 
  25. "Award for Kanthapuram". The Hindu. 
  26. "First Islamic Heritage Award". Indian Express. 
  27. "Kanthapuram AP Aboobacker Musliyar conferred with Jewel's of World Muslim Biz Award". Narada News. 
  28. "AP Ustad, 7 others conferred OIC Jewels of the Muslim World Award". Coastal Digest. 
  29. Oct 24، Stanley Pinto | TNN | Updated:؛ 2014؛ Ist، 20:32. "SSF silver jubilee convention on نومبر 2 | Mangaluru News – Times of India". The Times of India (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 11 ستمبر 2019. 
  30. "Ruthless activities of IS 'against Islamic principles'". arabnews.com. 
  31. Staff Reporter. "Kanthapuram calls IS enemy of Islam". The Hindu. 
  32. "Sunni Cleric Says Women Are Only Fit To Deliver Children, Calls Gender Equality Un-Islamic". indiatimes.com. اخذ شدہ بتاریخ 26 مئی 2016. 
  33. "Women only fit to deliver children: Indian Muslim leader". The Express Tribune (بزبان انگریزی). 2015-11-29. اخذ شدہ بتاریخ 22 مئی 2016. 
  34. "Kerala Muslim leader calls gender equality 'un-Islamic'". ہندوستان ٹائمز. 2015-11-29. اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2016.