شیخ ابو سعید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیخ ابو سعید
تفصیل=

سجادہ نشیں خانقاہ عارفیہ
چانسلر بانی جامعہ عارفیہ
Fleche-defaut-droite-gris-32.png مخدوم شاہ احمد صفی محمدی عرف شاہ ریاض احمد'
حسن سعید صفوی Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1957 (عمر 62–63 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش الٰہ آباد، ہندوستان
مذہب اسلام
اولاد حسن سعید صفوی ، حسین سعید صفوی ، علی سعید صفوی
Era 21ویں صدی
Region عالم اسلام
School of Tradition اہل سنت و جماعت ، صوفی

شیخ ابو سعید ایک عالم دین، داعی، صوفی اور خانقاہ عارفیہ کے صاحب سجادہ ہیں، جو ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے ضلع الٰہ آباد میں واقع ہے ۔

پیدائش[ترمیم]

شیخ ابو سعید 2 اگست 1957ء کو قصبہ سید سراواں میں ایک دینی و روحانی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ آپ نسباً عثمانی ہیں اور خلافت و سجادگی شاہ احمد صفی محمدی عرف شاہ ریاض احمدسے حاصل ہے۔

تعلیم[ترمیم]

ان کی ابتدائی تعلیم گھر کی چہار دیواری کے اندر ہوئی، بعد ازاں علی ظہیر عثمانی علیگ نے ان کو فارسی اور درویش نجف علیمی نے ابتدائی انگریزی کی کتابیں پڑھائیں۔ لالہ پور ضلع الٰہ آباد سے ہائی اسکول پاس کیا پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے 1975ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے پہلے P.U.C.پاس کیا پھر فارسی سے بی اے کرنے لگے-

خلافت و سجادگی اور ریاضت و مجاہدے[ترمیم]

حضرت کی تعلیم ا بھی جاری ہی تھی کہ شاہ احمد صفی محمدی عرف شاہ ریاض احمد نے جو زندگی کے آخری ایام سے گزررہے تھے، علی گڑھ سے ان کو بلوایا، شاہ عارف صفی محمدیکے عرس کے موقع پر 17؍ذی قعدہ 1398ھ/ 21؍اکتوبر 1978ء کو بعد نماز مغرب آپ کو بیعت اور بعد نماز عشا عرس کی تقریب کے دوران خلافت وسجادگی عطا کی- اس وقت ان کی عمر صرف اکیس سال تھی- [1] اس کے بعد ان کا دل تعلیم سے دور ہو گیا اور ذکر و اذکار و مراقبہ کی طرف توجہ بڑھ گئی۔ تقریباً ڈیڑھ سال اپنے شیخ کی خدمت میں رہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان پر جذب کی خاص کیفیت طاری ہوئی، اس دور میں انھوں نے بہت ریاضتیں اور مجاہدے کیے، خانقاہ کے ایک حجرے میں چٹائی بچھا کر سوتے اور سر کے نیچے اینٹ لگاتے، پھروہ مشائخ اور صوفی علما کی کتابوں کی طرف متوجہ ہوئے اور بحر معانی کی بھرپور غواصی کی۔ اس وقت ریاضت ومجاہدہ، خالص جذب، مطالعہ و تحقیق کے بعد پورے انہماک اور توجہ کے ساتھ ارشاد وہدایت کی طرف متوجہ ہیں۔

خدمات[ترمیم]

شیخ ابو سعید ایک عالم دین، داعی، مصلح اور صوفی و مربی ہیں اور ان کی خدمات کا دائرہ وسیع ہے۔

تعلیمی خدمات[ترمیم]

انھوں نے شریعت وطریقت کے جامع افراد تیار کرنے کے لیے نہایت منصوبہ بندی اور پلاننگ کے ساتھ1993ء میں خانقاہ عارفیہ کے احاطے میں جامعہ عارفیہ[2] کی بنیاد رکھی جو در اصل ایک علمی[3]، فکری، اصلاحی اور انقلابی وتعمیری مشن سے عبارت ہے-[4]

دینی و سماجی خدمات[ترمیم]

آپ جامعہ عارفیہ کی تعمیرو ترقی کے علاوہ خانقاہ عارفیہ سے مختلف دینی محافل[5] کا انعقاد کرتے ہیں، دیگر درجنوں مدارس کی سرپرستی، اعانت اور مشاورت بھی آپ کے کارناموں میں شامل ہیں- مختلف مقامات پر مساجد کی تعمیر وسرپرستی اور ائمہ ومدرسین کی تقرری سے بھی خاص شغف ہے- جگہ اور ماحول کے مطابق مختلف مقامات پر ائمہ و معلمین اور دعاۃ ومبلغین کو بھیجتے ہیں تاکہ ابتدائی اور بنیادی سطح پر تعلیمی ، تعمیری، اصلاحی اور دعوتی مشن کا میابی کے ساتھ آگے بڑھ سکے- آپ نے رفاہی، تعلیمی، دعوتی اور اصلاحی خدمات سے عوام الناس کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے 2004ء میں شاہ صفی میموریل ٹرسٹ [6] کے نام سے ایک غیر حکومتی تنظیم قائم کی۔اس وقت تنظیم کے تحت خانقاہ عارفیہ ویلفیئر سوسائٹی سمیت کئی ذیلی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔]]جامعہ عارفیہ[[اور اس کی مختلف شاخیں بھی اسی سوسائٹی کے زیر اہتمام چل رہی ہیں۔

علمی و ادبی خدمات[ترمیم]

انھوں نے 2008ء میں شاہ صفی اکیڈمی قائم کی، جس کا مقصد تحقیق و تدوین، تخریج وترجمہ اور تسہیل و تشریح کے ساتھ جدید طرز پرتصوف وسلوک کی قدیم کتابوں کی اشاعت اورجدیدعلمی وفکری اور عوامی و اصلاحی صوفیانہ لٹریچر کوعام کرناہے ۔

صوفی ادب[ترمیم]

  • نغمات الاسرار فی مقامات الابرار: یہ شیخ ابوسعید کی مثنوی ہے جو انھوں نے جذب کے زمانہ کے اپنی قلبی واردات قلم بند کی ہیں۔ اس مثنوی میں علمی نکات، فکری و اعتقادی اصول بھی ہیں اور سب سے بڑھ کر روحانی احوال، صوفیانہ فلسفوں اور روایتوں کو نہایت سلیقے سے بیان کر دیا گیا ہے۔ یہ مثنوی محمد ذیشان احمد مصباحی کی تشریح کے ساتھ شائع ہوئی۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]