شیخ خالد بغدادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ضیاءالدین شیخ خالد بغدادی نقشبندی مجددی ایک ولی کامل اور مرشد اکمل ذوالجناحین کے لقب سے مشہور ہیں انہیں شیخ خالد نقشبندی اور شیخ خالد کردی سے بھی یاد کیا جاتا ہے

ولادت[ترمیم]

خالد کر دی 1190ھ بمطابق 1779ء میں بمقام قرہ باغ پیدا ہوئے جو سلمانیہ عراق سے پانچ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔

تعلیم[ترمیم]

کم عمری میں ہی علوم و فنون میں کمال حاصل کیا اور اپنے مثال حافظہ اور فہم و فراست کی فراوانی سے اساتذہ کرام کو متاثر کیا آپ صرف، نحو۔ فقہ، منطق ،عروض، مناظرہ، بلاغت، بدیع و حکمت، علم کلام ،اصول و حساب، ہندسہ ،ہیئیت، علم حدیث اور تصوف میں یدی طولیٰ رکھتے تھے۔

اساتذہ گرام[ترمیم]

آپ کے اساتذہ کرام میں اس عہد کے جید ترین علما وفقہاء شامل ہیں جن میں سے چند ایک کے اسماء درج ذیل ہے

  • علامہ شیخ عبدالکریم برزنجی
  • عالم محقق ملا صالح
  • فضل اللہ ابراہیم البیادی
  • فاضل مدقق سید عبدالرحیم برزنجی
  • علامہ شیخ عبد اللہ الخریانی
  • عالم باعمل ملا عبدالرحمن جلی ان علما کرام کے علاوہ بھی مولانا خالد کردی نے اس دور کے اہل علم سے استفادہ کیا

درس و تدریس[ترمیم]

حصول علم کے بعد سند درس و تدریس کو رونق بخشی ہزاروں طلبہ کو ظاہری و باطنی علوم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ فرمایا

علمی اسفار[ترمیم]

شیخ خالد کر دی نے 1220ھ میں حج بیت اللہ اور روضہ خیرالانام علیہ الصلوۃ والسلام کی حاضری کے لیے نہایت عقیدت و احترام اور ذوق و شوق سے روانہ ہوئے اس سفر میں شام کے عالم اجل شیخ محمد الکوبری سے بھی ملاقات فرمائی جنہوں نے سند حدیث اوراجازت سے نوازا سلیمانیہ واپس پہنچ کر کمال استعداد اور وسعت ظرف کے تقاضوں نے جوش مارا اور کسی صاحب حال پیشوائے طریقت کی طلب ہوئی آخر ایک ہندوستانی سیاح مرزا عبدالرحیم المشہور درویش محمد عظیم آبادی مرید اورخلیفہ شاہ غلام علی دہلوی کی تحریک پر اس کے پیرومرشد مجدد عصر شاہ غلام علی دہلوی کی ملاقات کا شوق پیدا ہوا اور طلب فیض تحصیل سلوک کے لیے عازم ہندوستان ہوئے کابل پشاور لاہور سے ہوتے ہوئے دہلی پہنچے

بیعت و خلافت[ترمیم]

شاہ غلام علی دہلوی نے پہلے ہی خدام کو اشارہ فرمادیا کہ ایک فاضل اجل حصول فیض و نسبت کے لیے تشریف لا رہے ہیں شیخ طریقت کی خدمت میں پہنچ کر نذرانہ عقیدت منظوم قصائد و مناقب کی صورت میں پیش کیا اور ان کی خوشنودی اور خاص توجہ حاصل کی پانچ ماہ کے قلیل عرصہ میں صاحب حضور مشاہدہ ہوئے خانقاہ عالیہ میں تقریباً نو ماہ مقیم رہے اور پانی بھرنے کی خدمت سر انجام دیتے رہے پیر روشن ضمیر کی توجہ سے اعلیٰ مدارج تک پہنچے شیخ طریقت نے آپ کو پانچ سلاسل نقشبندیہ قادریہ سہروردیہ کبرویہ اور چشتیہ میں خلافت مطلقہ عطا کی ا نہی کے ارشاد کی تعمیل میں میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے بھی اپنی سند حدیث مع اجازت روایت کی اجازت دی

عراق واپسی[ترمیم]

پیرومرشدکے خلافت اور کلاہ کے ساتھ وطن واپس ہوئے مرشد نے اقلیم کردستان کے قطب ہونے کا بھی اشارہ فرمایا یا شاہ غلام علی فرمایا کرتے تھے مولانا خالد جامی وقت اور خسرو عہد ہیں

شجرہ طریقت[ترمیم]

آپ کا شجرہ طریقت نقشبندیہ اس ترتیب سے امام ربانی مجدد الف ثانی تک پہنچتا ہے شاہ غلام علی ،مظہر جان جاناں سید نور محمد بدایونی خواجہ سیف الدین خواجہ محمد معصوم اور امام ربانی مجدد الف ثانی مولانا خالد کی وساطت سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کو بلا د روم، عراق، کردستان شام اور حجاز مقدس میں بہت فروغ حاصل ہوا آپ خود لکھتے ہیں ایک ہزار عالم متبحر داخل طریقہ ہو کر میرے سامنے دست بدستہ کھڑے ہیں اور ایک لاکھ افراد مجھ سے بیعت ہو چکے ہیں [1]

شاعری[ترمیم]

مولانا عربی و فارسی کے علاوہ کردی زبان میں بھی شعر کہتے فارسی دیوان ترکی سے طبع ہو چکا ہے

کرامات[ترمیم]

ان کے بارے میں ایک یہ بھی ہے کہ اگر کوئی مولانا خالد کردی کا نام بے ادبی سے زبان پر لاتا تو بیہوش ہو کر گر پڑتا تھا شیخ عبدالوہاب ان کے مرید اور خلیفہ تھے اور صاحب کرامات اور مجموعہ کمالات ہو گئے تھے شیطان نے وسوسہ اندازی کی تو وہ اپنا مقام مرشد سے بڑھ کر خیال کرنے لگے یہ خیال آتے ہی ان کی نسبت باطل ہوگی اور اپنے ساتھیوں میں ذلیل ہو کر رہ گئے آخر حضرت شاہ ابو سعید مجددی کی توجہ سے نسبت حاصل ہوئی

وفات[ترمیم]

مولانا خالد کا انتقال 1242ھ 1826ء میں طاعون کی وبا کے دوران میں ہوا نماز جنازہ علامہ ابن عابدین شامی نے پڑھائی۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مقامات مظہری صفحہ 149
  2. تحفہ نقشبندیہ ترجمہ حدیقۃ الندیہ صفحہ 10 دار الاخلاص مرکز تحقیق اسلامی ریلوے روڈ لاہور