شیخ دین محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیخ دین محمد 1759 میں پٹنہ میں پیدا ہوا جب ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان پر قبضہ جما رہی تھی۔ اس زمانے میں پٹنہ بنگال کا حصہ تھا اب یہ بہار کا حصہ ہے۔ دین محمد (Dean Mahomet) نے انگریز افواج کے ساتھ جو سفر کیئے اسکا سفرنامہ 1794 میں شائع کیا۔ یہ پہلی کتاب ہے جو کسی ہندوستانی نے انگریزی زبان میں چھپوائی تھی۔

Sake Dean Mahomed by Thomas Mann Baynes (c. 1810)

دین محمد کے باپ دادا ترکی سے تعلق رکھتے تھے اور سترھویں صدی میں ایران کے رستے ہندوستان آئے تھے تاکہ مغل دربار میں اچھی نوکری کر سکیں۔ دین محمد کے زمانے میں مغلوں کی حکومت زوال پذیر ہو چکی تھی۔ اسکے سفر نامے میں شاہ عالم دوّم، الٰہ باد اور دہلی کا بڑی تفصیل سے ذکر ہے۔
دین محمد کا باپ اور بھائی ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم تھے۔ دین محمد کی عمر صرف گیارہ سال تھی جب اسکے باپ کا انتقال ہو گیا ۔ دین محمد انگریزوں سے بڑا متاثر تھا اور فوجی زندگی گزارنے کا خواہش مند تھا اس لیئے اپنی ماں کی مخالفت کے باوجود انگریزی فوج میں بطور خدمت گار شامل ہو گیا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کیپٹن ایوان بیکر نے دین محمد کو اپنے پاس رکھ لیا۔ دین محمد نے اپنے سفر نامے میں کیپٹن بیکر کو اپنا بہترین دوست قرار دیا۔
بارہ سال تک بیکر اور شیخ دین محمد کا کام برطانوی فوج کے لیئے روزمرہ کا ضروری سامان فراہم کرنا تھا۔ اس کے لیئے نزدیکی گاوں دیہات کے لوگوں کو دھونس دھمکی دیکران سے کھانے پینے کا سامان، گوشت کے لیئے مرغیاں اور بکریاں اور نقل و حمل کی ضروریات کے لیئے بیل گھوڑے اور اونٹ ہتھیا لیئے جاتے تھے۔

1782 میں گورنر جنرل ہیسٹنگز نے بیکر کو تین قتل کے مجرم گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔ بعد میں بیکر کے خلاف دیہاتیوں نے شکایت کی کہ اُس نے پورے گاوں کو گرفتار کر لیا اور رقم وصول کر کے چھوڑا۔ہیسٹنگز نے بیکر کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا۔ بنارس کے کمپنی ریزیڈنٹ نے تحقیقات کے بعد بیکر کو بے قصور قرار دیا مگر بیکر نے، جو ہندوستان میں 15 سال گزار چکا تھا، بنگال آرمی کی نوکری چھوڑنے کا ارادہ کر لیا اور 27 نومبر 1783 کو استعفاء دے دیا۔ (غالباً اس کا جرم چھپانے کے لیئے اس سے استعفاء بھی لے لیا گیا اور اسے بے قصور بھی قرار دیا گیا)۔ قواعد کے مطابق نوکری چھوڑنے سے ایک سال پہلے استعفاء دینا ضروری تھا۔1784 میں جب بیکر کمپنی کی ملازمت سے فارغ ہوا تو دین محمد بھی نوکری چھوڑ کر 25 سال کی عمر میں بیکر کے ساتھ آئر لینڈ چلا گیا ۔
یہ بات حیران کن ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے سابقہ ملازم ہونے کے باوجود کیپٹن بیکر اور صوبیدار دین محمد نے آئرلینڈ جانے کے لیئےایسٹ انڈیا کمپنی کے جہاز میں سفر نہیں کیا بلکہ ایک ڈنمارک کے جہاز Christians borg میں سفر کیا حالانکہ ڈنمارک کی کمپنی برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی حریف تھی۔ اس سے شک ہوتا ہے کہ ان کے پاس ایسا سامان تھا جسے وہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے چھپانا چاہتے تھے۔ یہ جہاز پہلے جنوب مغربی انگلینڈ کی بندرگاہ Dartmouth پہ رکا جو اسمگلنگ کا اڈہ تھی۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ بیکر اور دین محمد نے اپنا کچھ سامان چھوٹی کشتیوں میں Cork بھجوا دیا۔ بیکر کا باپ Cork کی بندرگاہ کا ہاربر ماسٹر (Water Bailiff) تھا۔

تین سال بعد بیکر کا انتقال ہو گیا۔ دین محمد نے آئرش لڑکی سے شادی کرنے کے لیئے اسلام ترک کر کے عیسائیت اختیار کی اور باقی عمر برطانیہ میں گزاری (حوالہ درکارہے)۔ 92 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوا۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]

ایسٹ انڈیا کمپنی

بیرونی ربط[ترمیم]

دین محمد کا سفر نامہ۔ 1794