شیخ عبد المجید سندھی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیخ عبد المجید سندھی
شیخ عبد المجید سندھی

معلومات شخصیت
پیدائش 7 جولا‎ئی 1889  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ٹھٹہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 24 مئی 1978 (89 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
حیدرآباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ صحافی،  وسیاست دان،  ومؤرخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل تحریک خلافت،  وتحریک پاکستان،  وادارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

شیخ عبد المجید سندھی (انگریزی: Shaikh Abdul Majeed Sindhi)، (پیدائش: 7 جولائی، 1889ء - وفات: 24 مئی، 1978ء) پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور سیاستدان، مصنف اور صحافی تھے۔ انہوں نے ریشمی رومال تحریک میں حصہ لینے کے پاداش میں تین سال اور تحریک خلافت میں انگریزوں کے خلاف تقریر کرنے کے الزام میں 2 سال قید کاٹی۔ 1937ء میں سندھ اسمبلی کے پہلے آزاد انتخابات میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں بھی رہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

شیخ عبد المجید سندھی 7 جولائی، 1889ء کو سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹہ میں ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئے[1][2][3]۔ ان کا نام جیٹھ آنند تھا۔ 20 سال کی عمر میں انہوں جناب عبد الرحیم کے ہاتھ اسلام قبول کیا جنہوں نے ان کا عبد المجید رکھا[2]۔ ہندوؤں کے احتجاج پر انہیں کچھ عرصے کے لیے لدھیانہ بھیج دیا گیا۔ جہاں سے وہ جلد کراچی لوٹ آئے۔ کراچی کے حالات سازگار نہ پا کر وہ حیدرآباد منتقل ہو گئے۔[1]

صحافت و سیاسی خدمات[ترمیم]

شیخ عبد المجید سندھی نے اپنی صحافت کی ابتدا سکھر سے نکلنے والے سندھی ہفت روزہ الحق کی۔ 1918ء میں انہوں نے ریشمی رومال تحریک میں حصہ لینے کے پاداش میں 3 سال اور 1920ء میں تحریک خلافت میں انگریزوں کے خلاف تقرریر کرنے کے الزام میں 2 سال قید کاٹی۔ 1924ء میں انہوں نے سندھی روزنامہ الوحید جاری اور اس کے ذریعے سندھی مسلمانوں میں سیاسی شعور پیدا کرتے رہے۔ سندھ سے بمبئی کی علاحدگی کے بعد انہوں نے الوحید کا سندھ آزاد نمبر شائع کیا، یہ تاریخی نمبر 16 جون، 1936ء کو شائع ہوا۔[2]

شیخ عبد المجید سندھی نہ صرف سندھ اور انڈیا، بلکہ بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کی سیاسی پیشن گوئیاں ہمیشہ سچ ثابت ہوتی تھیں۔ اس حوالے سے ان کا مطالعہ اتنا وسیع تھا کہ سندھ کے نامور سیاست دان ان کو اپنا رہنما مانتے تھے۔ وہ انتخابی سیاست کی روح سے بھی بخوبی واقف تھے اور ان کے انتخابی فیصلے ہمیشہ کامیاب ہوتے تھے۔ انہوں نے ایسا ہی ایک فیصلہ کیا اور وہ سر شاہ نواز بھٹو کے خلاف سندھ اسمبلی کے 1937ء انتخابات میں حصہ لینا تھا۔ لاڑکانہ میں سر شاہ نواز بھٹو کے خلاف انتخابات لڑنا ایک انقلابی فیصلہ تھا۔ شیخ صاحب کا تعلق عوام سے تھا اور ان کا انداز بھی عوامی تھا۔ ان کی انتخابی مہم بیل گاڑیوں پر چلائی گئی، جب کہ سر شاہ نواز بھٹو کے حمایتی ان کی مہم جیپوں پر چلا رہے تھے[1]۔ سندھ اسمبلی کے اس انتخاب میں شیخ عبد المجید سندھی آزاد سندھ پارٹی کے ٹکٹ پر رکن منتخب ہوئے۔ کچھ عرصہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں بھی شامل رہے۔ 1949ء میں انہوں نے آل پاکستان عوامی پارٹی قائم کی۔[2]

قیام پاکستان کے بعد شیخ عبد المجید سیاسی طور پر معتوب ٹھہرے۔ وہ شخص جس نے ہندو سے مسلمان ہونے کے بعد جس جوش و جذبے سے ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کے لیے نہ صرف آواز اٹھائی، بلکہ عملی طور پر بھی جدوجہد کی، ان کی ان تمام خدمات کا صلہ دینے کی بجائے انہیں سیاسی اچھوت قرار دے دیا گیا۔[1]

تصانیف[ترمیم]

  • تاریخی جواہر (تاریخ)
  • اسپین کی فتح (تاریخ)
  • المرتضیٰ (سوانح)
  • حضرت عمر بن عبد العزیز (سوانح)

وفات[ترمیم]

شیخ عبد المجید سندھی 24 مئی، 1978ء کو حیدرآباد، پاکستان میں وفات پا گئے۔ انہیں مکلی کے قبرستان میں مرزا عیسیٰ ترخان کے مقبرے کے قریب دفن کیا گیا۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت سندھ کے عوامی سیاست دان: عبد المجید 'جیٹھانند' سندھی، اختر بلوچ، ڈان نیوز ٹی وی، 19 جون 2015ء
  2. ^ ا ب پ ت عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 462
  3. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، لاہور، اردو سائنس بورڈ، لاہور، 2006ء، ص 532