يوسف القرضاوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شیخ یوسف القرضاوی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
يوسف القرضاوی
(عربی میں: يوسف القرضاوي خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Qardawi.JPG 

معلومات شخصیت
پیدائش 9 ستمبر 1926 (93 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
صفط تراب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Qatar.svg قطر[1]
Flag of Egypt.svg مصر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
اولاد عبد الرحمان یوسف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الازہر (1944–1958)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
استاذ حسن البنا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ الٰہیات دان،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل اسلامی الٰہیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ قطر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
عالمی شاہ فیصل اعزاز  (1994)
دبئی بین الاقوامی قرآن مقدس اعزاز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

یوسف القرضاوی (پیدائش: 9 ستمبر 1926) عالم اسلام کے ممتاز ترین عالم دین، اخوانی فکر کے حامل، صدر عالمی اتحاد برائے مسلم علماء۔ شیخ یوسف قرضاوی 9 ستمبر 1926ء کو مصر میں پیدا ہوئے۔ وہ دو برس کے تھے کہ ان کے والد انتقال کر گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے چچا کے ہاں پرورش پائی۔ ان کے خاندان والے انہیں دکان دار یا بڑھئی بننے کو کہتے تھے۔ تاہم وہ اس دوران میں قرآن مجید حفظ کرتے رہے۔ نو برس کی عمر میں حفظ مکمل کر لیا۔ یوسف القرضاوی مشہور عالم اسلام اور اکیسویں صدی کے مجدد امام سید ابوالاعلیٰ مودودی اور اخوان المسلمون کے بانی امام حسن البنا کے عقیدت مند ہیں ان کا یہ تعلق جوانی میں بھی برقرار رہا۔ اخوان المسلمون کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر انہیں پہلی بار 1949 میں جیل بھی جانا پڑا۔ ان کی بعض تصانیف نے مصری حکومت کو مشتعل کر دیا چنانچہ ان کو قید و بند کا سلسلہ جاری رہا۔ وہ جامعۃ الازہر میں بھی زیر تعلیم رہے۔ بعد ازاں وہ مصری وزارت مذہبی امور میں کام کرتے رہے۔ پھر ہو قطر چلے گئے جہاں مختلف مختلف یونیورسٹیوں میں تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اسی طرح وہ الجزائر کی یونیورسٹیوں میں مختلف ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔

ایک طویل عرصہ تک وہ اخوان المسلمون میں سرگرم رہے اسی دوران میں انہیں اخوانی قیادت نے مختلف مناصب کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انہیں قبول نہیں کیا۔ یوسف القرضاوی یوپین کونسل فا فتاویٰ اینڈ ریسرچ کے سربراہ ہیں۔ انہیں عرب دنیا میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے۔ وہ اسلام آن لائن ڈاٹ نٹ پر بھی لوگوں کے سوالات کے جوابات اور فتاویٰ جاری کرتے ہیں۔ مسلمان کی اکثرت انہیں معتدل قدامت پسند قرار دیتی ہے۔ ان کے خیال میں یوسف القرضاوی عصر حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ بعض لوگ انہیں سخت گیر اسلام پسند قرار دیتے ہیں جو عالمگیر انسانی حقوق، جمہوریت کے بعض بنیادی اصولوں کو مسترد کرتے ہیں۔

یوسف القرضاوی فلسطینیوں کے اسرائیلیوں پر حملوں کے زبردست حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف خودکش دھماکے جائز ہیں کیونکہ وہ قابض اور غاصب ہیں۔ وہ انہیں اشتہادی حملے قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خود کش حملے صرف اس وقت جائز ہوں گے جب اپنے دفاع کا کوئی دوسرا راستہ نہ بچے۔ ان کے بارے میں یک تاثر یہ ہے کہ وہ عام اسرائیلی شہریوں کے خلاف حملوں کے بھی حق میں ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی شہری جو فوج خدمات بھی سر انجام دیتے ہیں، عام شہری کی تعریف میں نہیں آگے۔ شیخ یوسف کے اس موقف کی بنا پر ایک طبقہ انہیں دہشت گردی کا حامل قرار دیتا ہے۔ تاہم شیخ القرضاوی کا کہنا ہے کہ وہ اس قسم کے حملے صرف اسرائیلی اہداف کے خلاف جائز ہیں۔ اس ک علاوہ کہیں بھی ان کی اجازت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 20 مارچ 2005ء کو دوحہ، قطر میں کار بم دھماکا ہوا تو انہوں نے اس کی شدید مذمت کی تھی۔ اس واقعے میں ایک برطانوی شہری جان ایڈمز مارا گیا تھا۔ شیخ کا کہنا تھا کہ اس قسم کے واقعات ایسے لوگ کرتے ہیں جو اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ دشمنوں کے ہاتھوں کھیل رہے ہوتے ہیں۔

2006ء میں اسرائیل حزب اللہ جنگ شروع ہوئی تو ایک مسلمان سکالر عبد اللہ بن جبیرین نے فتوی جاری کیا کہ مسلمانوں کے لیے حزب اللہ جیسے دہشت گرد گروہ کی حمایت جائز نہیں کیونکہ یہ شیعہ ہیں۔ تاہم شیخ یوسف القرضاوی نے کہا کہ مسلمانوں پر اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی مدد لازم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اسلام کے بنیادی اصولوں پر متفق ہیں۔ اختلاف صرف فروعی مسائل پر ہیں۔ اسی طرح انہوں نے عراق کے سنیوں اور شیعوں سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ خانہ جنگی ختم کریں۔

14 اپریل 2004ء کو اسلام آن لائن پر ایک فتوی جاری کیا کہ تمام مسلمان امریکی اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں کیونکہ وہ ان مصنوعات کے بدلے حاصل ہونے والی رقم سے معصوم فلسطینی بچوں کے جسم چھلنی کرنے کے لیے گولیاں اور دیگر اسلحہ خریدتے ہیں۔ اسرائیلیوں کی مصنوعات خریدنا دشمن کی وحشت و جارحیت میں مدد کرنے کے مترادف ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم دشمنوں کو کمزور کریں۔ اگر ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے وہ کمزور ہوتے ہیں تو ہمیں ایسا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا دوسرا اسرائیل بن چکا ہے۔ امریکا اسرائیل کو رقم، اسلحہ سمیت سب کچھ فراہم کر رہا ہے تاکہ فلسطینیوں کو نیست و نابود کر دے۔

شیخ یوسف القرضاوی کا کہنا ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو گرین وچ ٹائم کی بجائے مکہ مکرمہ کے ٹائم کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ وہ تصویر کشی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ وہ عالم اسلام میں جمہوریت کے قیام کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی میں سیاسی اصطلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ ڈنمارک کے ایک کارٹونسٹ نے پیغمبر اسلام کے حوالے سے توہین آمیز کارٹون بنائے تو شیخ قرضاوی نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے جواب میں تشدد کرنا جائز نہیں۔ نائن الیون کے واقعہ کی خبر سنتے ہیں شیخ قرضاوی نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ زخمیوں کے لیے خون کے عطیات دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام صبر و تحمل کا دین ہے۔ وہ انسانی جان کی حفاظت پر زور دیتا ہے۔ معصوم انسانوں پر حملے گناہ عظیم ہے۔

شیخ قرضاوی کا کہنا ہے کہ عراق میں جانے والے سارے امریکی ’’حملہ آور‘‘ متصور ہوں گے۔ ان کے درمیان میں فوجی یا سویلین کی کوئی تفریق نہیں۔ اس لیے ان کے خلاف جہاد فرض ہے تاکہ عراق سے انخلا پر مجبور ہو جائیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں جہاد یعنی ’’جدوجہد‘‘ کا لفظ استعمال کر رہا ہوں ’’قتل ‘‘ کا نہیں۔

ان کی اب تک 50 سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں ’’اسلام میں حلت و حرمت‘‘، ’’اسلام : مستقبل کی تہذیب ‘‘، ’’اسلامی تحریکوں کی ترجیحات’’ اور ’’اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ ‘‘ بھی شامل ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.theguardian.com/world/gallery/2011/feb/18/egypt-protest-day-of-victory
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12205173g — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ