شیریں رتناگر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیریں رتناگر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1950 (عمر 68–69 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی ساورتی بائی پھالے پونہ یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ماہر انسانیات،  مصنفہ،  ماہر آثاریات،  تاریخ دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
نوکریاں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر

شیریں ایف رتناگر ایک بھارتی ماہر آثار قدیمہ ہے جن کا کام وادیٔ سندھ کی تہذیب پر مرکوز ہے۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

کیریئر[ترمیم]

رتناگر کی تعلیم دکن کالج، پونے، پونے یونیورسٹی سے ہوئی۔ انہوں نے قدیم عراقی تہذیب کے آثار قدیمہ کا مطالعہ آثار قدیمہ انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی کالج لندن سے کیا۔[2]

وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی کے تاریخی مطالعہ مرکز میں آثار قدیمہ اور قدیم تاریخ کی پروفیسر تھی۔ وہ 2000ء میں ریٹائر ہوئی اور وہ اس وقت ممبئی میں رہنے والی ایک آزاد محقق ہے۔ انہیں وادیٔ سندھ کی تہذیب کے خاتمے میں معاون عوامل پر تفتیش کے لیے جانا جاتا ہے۔[3]

مطبوعات[ترمیم]

ایودھیا تنازع[ترمیم]

شیریں رتناگر ماہر آثار قدیمہ ڈی منڈل نے 2003ء میں ایک مکمل دن صَرف کر کے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی بابری مسجد کے انہدام کے مقام پر کی گئی کھدائیوں کا جائزہ لیا۔ یہ کارروائی سنی وقف بورڈ کی ایما پر کی گئی تھی۔ اس کے بعد ان دو محققین نے اے ایس آئی کی کھدائیوں پر ایک انتہائی تنقیدی مواد Ayodhya: Archaeology after Excavation کے عنوان سے لکھا۔ 2010ء میں یہ دونوں الہ آباد ہائی کورٹ کے روبہ رو سنی وقف بورڈ کے گواہ کے طور پر حاضر ہوئے۔[4]

اپنے فیصلے میں ہائی کورٹ نے کئی گواہوں کے رول کی شدید نکتہ چینی کی، جن میں رتناگر بھی شامل تھی اور جسے یہ مجبورًا حلفیہ قبول کرنا پڑا کہ اسے آثار قدیمہ کی بھارت میں کھدائیوں کا کوئی عملی تجربہ نہیں ہے۔[5] رتناگر اور ان کے حامیوں نے بعد میں اس کی پیش کردہ روداد کا دفاع کیا کیونکہ وہ بھارت کے باہر کئی آثار قدیمہ کی کھدائیوں کا حصہ رہی ہے جیساکہ تل الریمہ، عراق، 1971ء۔[6]۔ اسی طرح رتناگر ترکی اور خلیج میں بھی مشاہدہ کر چکی ہے۔[7]

اس سے قبل اس مقدمے میں شیریں رتناگر کو توہین عدالت کی نوٹس جاری ہوئی تھی کہ اس نے ایک عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے جس کے ذریعے زیر دوران مقدمے پر اپنے خیالات کا عوام کے روبرو اظہار پر روک لگی تھی۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. وی آئی اے ایف - آئی ڈی: https://viaf.org/viaf/79211537 — اخذ شدہ بتاریخ: 25 مئی 2018 — اجازت نامہ: Open Data Commons
  2. "Shereen Ratnagar"۔ Harappa.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-12-25۔
  3. "Shereen Ratnagar: A past to mirror ourselves" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Topoi.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-12-25۔
  4. "Trench warfare: Writing on the Wall"۔ Times of India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-12-25۔
  5. How Allahabad HC exposed experts espousing Masjid-cause، Times of India, اکتوبر 9, 2010, 03.07am IST
  6. Iraq Vol. 34, No. 2 (Autumn, 1972)، pp. 77-86. Published by: British Institute for the Study of Iraq
  7. Publisher's statement on Shereen Ratnagar, Trading Encounters (اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2006)
  8. Babri witnesses get HC contempt notice، Indian Express, Thu مئی 20, 2010, 04:18 hrs