شیر احمد خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیر احمد خان
تفصیل= فوجی وردی میں ملبوس کرنل سردار شیر احمد خان

صدر آزاد کشمیر
مدت منصب
22 جون 1952 – 31 مئی 1956
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1902  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پلندری  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 23 جنوری 1972 (69–70 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
راولپنڈی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
رشتے دار سردار حیدر خان پلندری (والد)

سردار شیر احمد خان جو کرنل شیر احمد خان کے نام سے بھی مشہور ہیں 1902ء کو پلندری، ضلع پونچھ، جموں و کشمیر (موجودہ، سدھنوتی، آزاد کشمیر) میں پیدا ہوئے۔

صدر آزاد کشمیر[ترمیم]

شیر احمد خان 22 جون 1952ء سے 31 مئی 1956ء تک آزاد کشمیر کے صدر بھی رہے۔

اعزازات[ترمیم]

  • ان کی بہاردی کی وجہ سے انہیں شیرِ جنگ (جنگ کا شیر) کا خطاب بھی عطا کیا گیا۔
  • پاکستانی اعزاز ہلال جرات کے برابر کشمیری اعزاز فخرِ کشمیر سے بھی نوازا گیا۔
Fakhr-i-Kashmir

4 سدھن بریگیڈز کی بنیاد[ترمیم]

18 جون 1947 آئین تقسیم ہند کے اعلان کے بعد ریاست جموں کشمیر سے انگریز حکومت ہند کا معاہدہ امرتسر ختم ہونے کے ایک ماہ بعد کشمیری مسلمانوں کی نمائندہ جماعت مسلم کانفرنس نے 19جولائی 1947ء قرار داد الحاق پاکستان منظور کر کے مہاراجہ کشمیر سے الحاق پاکستان کا مطالبہ کیا تو مہاراجہ کشمیر نے مسلم کانفرنس کے ممبران کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور مسلم کانفرنس کے سینکڑوں کارکنوں کو قید و بند کر کے درجنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا باقی بچے کھچے مسلم کانفرنسیوں نے اس وقت کے برطانوی ہندوستان موجودہ پاکستان بھاگ کر پناہ لی مگر مہاراجہ کشمیر کی ان کارروائیوں میں تیزی اس وقت آئی جب 14 اگست 1947 پاکستان کی آزادی کا اعلان اور پاکستان مراض وجود میں آیا تب مہاراجہ کشمیر نے اپنی فوج کی نفری اور طاقت بڑھانے کے لئے مہاراجہ پٹیالہ کی فوج کو بھی کشمیر میں بولا کر پونچھ اور سدھنوتی میں دفاع 144 لگا کر لوگوں کو خوف و ہراس کرنے کے لئے مسلمانوں کے گھر جلانا شروع کر دئیے مہاراجہ کشمیر کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے پاکستان کے ہامی لوگ مسلم کانفرنسیوں کی طرح پاکستان ہجرت کر جائیں گے یوں کشمیر میں ہندو آبادی کو اکثریت بھی حاصل ہو جائے گی اور ان کا یہ شخصی رج بھی ہمشیہ قائم و دہام رہے گا ان دردناک اور سنگین حالات میں پونچھ اور سدھنوتی کے انگریز آرمی سے ریٹائر مقامی فوجیوں نے اپنی مدد آپ مسلح بریگیڈز اور یونٹیں بنا کر مہاراجہ کشمیر سے مسلح جہدوجہد آزادی شروع کی تو کرنل شیر احمد خان نے 18ستمبر 1947 کو 1500 برطانوی فوج سے ریٹائر فوجیوں کو اپنے ساتھ ملا کر 4 سدھن بریگیڈز کی بنیاد رکھی اس بریگیڈ نے سہنسہ کوٹلی چکسواری نکیال اور مہنڈر محاذ جیسے مضبوط مورچے توڑے اور ان سارے علاقوں کو فتح کر کے کرنل شیر احمد خان شیر جنگ اور غازی کشمیر کہلائے

حوالہ جات[ترمیم]