شیر شاہ سید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈاکٹر شیر شاہ سید
پیدائش 26 مارچ 1952(1952-03-26)ء
کراچی، پاکستان
قلمی نام شیر شاہ سید
پیشہ ماہرِ طب ، افسانہ نگار مصنف
زبان اردو
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف طب، افسانہ نگاری
ویب سائٹ
http://koohigothhospital.org/

ڈاکٹر شیر شاہ سید مشہور افسانہ نگار اور گائنی ڈاکٹر ہیں۔ پاکستان میں گائنی کے شعبے کے لیے انکی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ کوہی گوٹھ ہاسپٹل کا منصوبہ اور تکمیل ڈاکٹر شیر شاہ سید کی طبی خدمات میں نمایا ں ترین کارنامہ ہے۔[1] نیز ملیر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا قیام بھی ڈاکٹر شیر شاہ سید اور ان کے خاندان کی مخلصانہ کوششوں سے ہی ممکن ہوا ہے ۔[2]

حالاتِ زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر شیر شاہ سید 26 مارچ،1952ء کو ابوظفر آزاد[3] اور عطیہ سید المعروف ڈاکٹر عطیہ ظفر سید کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد بنگال سے تھے۔ ان کی والدہ نے شادی کے بعد بھی تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے ایم بی بی ایس کیا اور اپنے آٹھ بچوں کو بھی اسی شعبے میں تعلیم دلوائی۔ والد نے عطیہ اسپتال کے پاس میڈیکل اسٹور کھولا اور غریبوں کو مفت دوائیں دینے اور ان کے روزمرہ کے مسائل حل کرنے لگے۔ لہٰذا سماجی خدمت اور مسیحائی ڈاکٹر شیر شاہ سید کو ورثے میں ملی۔ ڈاکٹر شیر شاہ سید نے ڈاؤ میڈیکل کالج سندھ سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کی اور بیرون ملک اسپشلائززیشن کے لیے چلے گئے۔ گائنی کے شعبے میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی اور پاکستان آ کر اس اس شعبے میں خاص طور پر فسٹولا کے علاج کے لیے بہت عملی اقدامات کیے۔ کوہی گوٹھ پراجیکٹ اور پھر کوہی گوٹھ ہسپتال کی تکمیل پر کام کیا ۔

ادبی خدمات اور دیگر تصنیفات[ترمیم]

ڈاکٹر شیر شاہ سید ایک بہترین افسانہ نگار بھی ہیں۔ اب تک ان کے کئی افسانوں کے مجموعے اور ناول شائع ہو چکے ہیں۔ نیز گائنی کے شعبے میں بھی انہوں نے بہت سی رہنمائی کتب اردو میں تحریر کی ہیں۔ ان کے ناول اور افسانوں کے مجموعے درج ذیل ہیں۔

1۔ دل کی وہی تنہائی 2۔ جس کو دل کہتے ہیں
3۔ دل کی بساط 4۔ دل میرا بالا کوٹ
5۔ دل ہے داغ داغ 6۔ دل نے کہا نہیں
7۔ غبار 8۔ چاک ہوا دل
9۔ دل ہی تو ہے 10۔ کون دلاں دیاں جانے
11۔ وہ صورت گر کچھ خوابوں کا 12۔ جو دل نکلے تو دم نکلے

دیگر کتب کی تفصیل حسبِ ذیل ہے ۔

1۔ علم وآگہی کا سفر 2۔ آگہی کے چراغ 3۔ آگہی کے نشان[4]
4۔ مڈوائفری با تصویر 5۔ نرسنگ کی تدریس کے عملی طریقے 6۔ رہنما کتاب برائے میڈیکل ٹیکنیشنز
7۔ انگلش اردو میڈیکل ڈکشنری[5]

ان کتب سے حاصل شدہ آمدنی بھی کوہی گوٹھ ہسپتال کے مریضوں کے علاج پر خرچ کی جاتی ہے۔ پاکستان میں 2002ء کے زلزلے اور 2010ء کے سیلاب میں ڈاکٹر شیر شاہ سید نے متاثرہ علاقوں میں اپنے ساتھی ڈاکٹروں کے ہمراہ دن رات کام کیا اور بہت سی قیمتی جانوں کو بچانے میں کامیاب رہے ۔

حوالہ جات[ترمیم]