شینا زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شینا سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
شینا
Shina
200px
مقامی  پاکستان، بھارت
علاقہ گلگت بلتستان، چترال
مقامی متکلمین
(500,000 cited 1981–1998)e18
عربی رسم الخط
زبان رموز
آیزو 639-3 کوئی ایک:
scl – Shina
plk – کوہستانی شینا
گلوٹولاگ shin1264  Shina[1]
kohi1248  کوہستانی شینا[2]
Shina language.png
اس مضمون میں بین الاقوامی اصواتی ابجدیہ کی صوتی علامات شامل ہیں۔ موزوں معاونت کے بغیر آپ کو یونیکوڈ حروف کی بجائے سوالیہ نشان، خانے یا دیگر نشانات نظر آسکتے ہیں۔ بین الاقوامی اصواتی ابجدیہ کی علامات پر ایک تعارفی ہدایت کے لیے معاونت:با ابجدیہ ملاحظہ فرمائیں۔

شینازبان ایک قدیم زبان ہے۔ وادیٔ سندھ سے آریائی تہذیب کے ایک قبیلہ ’’درد‘‘ اپنے ساتھ اس زبان کو لے کر وادیٔ سندھ سے ہجرت کرکے شمالی مشرق کی طرف کوچ کرگیا۔ زمانے کے ہاتھوں دھکے کھاتے کھاتے اوربھٹکتے بھٹکتے یہ قبیلہ آخرکار دردستان (شمالی علاقہ جات) میں پھیل گیا۔ دورانِ سفر اس کا بہت سارے لوگوں سے ملنا جلنا ہوا ہوگا اور آہستہ آہستہ کچھ لوگ تو نئے لوگوں میں ہی گھل مل گئے ہوں گے اور جو بچے کھچے شمالی علاقہ جات میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے وہاں پر نئے سرے سے زندگی شروع کی۔ اس دوران انہیں اپنی زبان کوتحریری طور محفوظ رکھنے کا خاص خیال نہیں رہا اور یہ زبان سے بولی بن کر رہ گئی۔ حالانکہ یہ زبان کافی اہم اور مشہور زبان ہے۔ اس میں سنسکرت اور فارسی کے اکثر الفاظ موجود ہیں جس سے اندازہ ہوتاہے کہ اس زبان میں سنسکرت کا اثر زیادہ رہا ہوگا۔ چونکہ قدیم زمانے میں سنسکرت ہی زیادہ مشہورزبان رہی ہے اور اس کے بعد فارسی کا دور دورہ شروع ہوا۔ شینا زبان اب زیادہ تر شمالی علاقہ جات میں ہی رائج ہے  ۔ یہ قوم سندھ سے ہجرت کے بعد دریائے سندھ کے بالائی حصوں ،اس کے معاون دریائوں کے کناروں ،کشن گنگا ،دراس، استور، گلگت، ہنزا، نگر میں آباد ہوئے۔ شینا کا تمام علاقہ بشمول گلگت ،ہنزا، نگر، دریل ،استور، اسکردو وغیرہ پاکستان کے زیر انتظام ہیں۔ کشن گنگا، دراس، تلیل ،گریز اور لداخ کے بروکشت قبیلے ہندوستان کے زیر انتظام ہیں۔ ڈاکٹر بدرس کے مطابق ڈوماکی (سازندوں کی زبان)کی تکمیل وتشکیل میں بھی ایک ایسی ہی زبان استعمال ہوئی ہے جو اب صفحۂ ہستی سے مٹ چکی ہے۔ ان کے بقول شینا اور بروشکی دونوں میں اس معدوم زبان کے الفاظ کا ذخیرہ موجود ہے۔ ڈاکٹر گریرسن پساچ کی زبان کو درد اقوام کے آبا واجداد کی زبان قرار دیتاہے۔ ڈاکٹر بدرس کے بقول شینا زبان کے ذخیرہ الفاظ کا ستّرفیصد سنسکرت سے ماخوذ ہے ۔

کس قدر بیدار اور ذہین تھے وہ لوگ جنہوں نے دو اڑھائی ہزارسال پہلے اپنی زبان کو حروف کالباس پہنایا کہ  ان زبانوں نے ارتقائی منزلیں طے کیں اورر فتہ رفتہ یہ اقوام صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں لیکن اپنے آثار اورنقوش ،طرز معاشرت اور عقائدکے بارے میں چھوڑے گئے ان آثارکے ذریعہ دنیا کو اُن کے بارے میں علم ہوا۔ آج وہ قومیں جن کا کوئی فرددنیا میں موجود نہیں اور وہ زبانیں جنہیں بولنے والا کوئی شخص بقیدِ حیات نہیں،اُن کی وسیع وعریض سلطنتیں اور حکومتیں فنا ہوئیں لیکن یہ کیا کم ہے کہ انہوں نے فناہوتے ہوتے اپنی زبان اور اپنے فکر وفن کو نوشتوں کی وساطت سے ایک بے حد ترقی یافتہ مستقبل تک پہنچایا اور آنے والی نسلوں کو مطلع کیا اورثابت کر دیا کہ ماضی کبھی مرتا نہیں۔ اگر وہ بھی بس کھانے پینے، سونے جاگنے، دولت سمیٹنے کو ہی زندگی کا مقصد وغایت گردانتے اور علوم وفن کی طرف متوجہ نہ ہوتے تو ان کا دوربھی کئی دیگر ہم عصر تہذیبوں اور قوموں کی طرح فنا اور بے نام ونشان ہوتا۔ قومیں مٹتی ہیں مگر آنے والی نسلوں کے فکر وفن ،معاشرے اور سوچ میں اثر انداز ہوجاتی ہیں۔ ان کے زبان وادب کی باقیات نئی زبانوں میں مدغم ہو کرایک نیا روپ دھارلیتی ہیں ۔

موجودہ دورمیں شینا زبان بھی اپنی آخری سانس لے رہی ہے۔ اگر شینازبان سے وابستہ ذی ہوش افراد اب بھی نہ جاگے تو آنے والی نسلیں انہیں شاید کبھی معاف نہیں کریں گی۔ اس ضمن میں دراس میں ہمارے چند نوجوان قلم کاروں نے شینا زبان میں لکھنا شروع کیاہے اور انشاء اللہ آنے والے چند مہینوں میں شینا قاعدہ اور گرائمر بھی منظر عام پر لانے کی بھر پور کوشش جاری ہے۔ شینا زبان کے ساتھ تعلق رکھنے والے اور اس زبان میں لکھنے کا شوق رکھنے والے حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنا کچھ وقت شینا زبان کی خدمت کے لیے بھی وقف کریں تاکہ اس زبان کو باقاعدہ تحریر میں لایا جاسکے۔ "شنا” صوتیات میں بہت سی آوازیں ایسی ہیں جن کا اظہار اردو ،عربی اور فارسی حروف سے ممکن نہیں۔ لفظ” شنا "پر ہی غور کر لیں۔ پہلے حرف ش سے جو آواز نکلتی ہے ،اصل تلفظ سے مختلف ہے۔ اسی طرح ترازو ،بارش ،آبشار ،سر ،انڈا اور گدھا جیسے الفاظ کے لیے "شنا” میں جو لفظ استعمال ہوتے ہیں۔ انہیں بول تو سکتے تھے مگر لکھتے ہوئے اردو سے حروف مستعار لیتے تھے۔ مذکورہ بالا تینوں اہلِ قلم اور ان کے علاوہ بھی "شنا "لسانیات کے ماہرین نے ان مخصوص اصوات کے لیے حروف وضع تو کیے تھے مگر ایک دوسرے سے مختلف ہونے کی وجہ سے "شنا” لکھنے پڑھنے کا چلن عام نہیں ہو سکا تھا۔ مگر2017کا سال "شنا” کے لیے خوش بختی کا پیغام لے کر آیا ہے۔ پہلے قانون ساز اسمبلی میں مادری زبانوں کے تحفظ کے لیے اسے تدریس میں شامل کرنے کی قرارداد منظور کی گئی۔ پھر حکومت اور انتظامیہ کی سر پرستی میں دو روزہ قومی ادبی میلہ بھی منعقد ہوا۔ زبان و ثقافت اور فنونِ لطیفہ کے فروغ کے لیے گلگت، بلتستان لینگویج ،کلچر اینڈ آرٹ اکیڈ می کے قیام کا اصولی فیصلہ بھی ہوا۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق اس کا پی سی ون بھی منظور ہوا ہے۔ ان کے علاوہ مادری زبانوں کے تحفظ اور ترقی کے لیے ایک ریجنل لینگویجز کمیٹی بھی قائم کی گئی۔ جس نے نہایت اہم اور موثر کا م بھی کیا ہے۔ جی بی کی پانچ بڑی زبانوں کے اہلِ قلم اور ماہرینِ لسانیات اس میں شامل ہیں۔ ابتدا ئی چندنشستوں کی بحث و تمحیص کے بعد تمام زبانو ں کے لیے ایک قابل قبول ،مانوس اور بہت حد تک مشترک حروفِ تہجی کی تشکیل پر اتفاقِ رائے ہوا۔

شینا حروف تہجی

شینا کے مخصوص حروف جو اردو میں نہیں ہیں۔

  1. ݜ برائے /ʂ/ /ݜَہ/ چھہ
  2. ڙ برائے /ʐ/ /ڙاٰ/ بھائی
  3. څ برائے /ts/ /څک دےْ/ ٹھر جا
  4. ڇ برائے /ʈʂ/ /ڇکےْ/ دیکھو
  5. ݨ برائے /ɳ/ /ہݨےٗ/ انڈا
  6. ڱ برائے /ŋ/ /کھڱَر/ تلوار

اور نون غنہ جب درمیان میں آئے تو؛

  1. ن٘ برائے /◌̃/ /آن٘ݜۆ/ آنسو

[3]

شینا ترجمہ قرآن

قرآنِ مجید کا تاریخ میں پہلی بار شینا میں ترجمہ ہوا ہے،مترجم جناب شاہ مرزا صاحب گلگت کے علاقہ جلال آباد سے ہیں،جن کو خدا نے توفیق دی کہ پہلی بار شینا ترجمہ کرنے کا۔کلامﷲ کا ترجمہ کرنا اول تو اردو جیسی بڑی زبانوں میں مشکل ہوتا ہے تو ایک زبان جس کے ابھی ابھی قاعدے لکھ رہے ہوں اور ذخیرہ الفاظ کی کمی ہو مشکل تر ہے۔ [4]

کتابیں

جمو و کشمیر انڈیا میں طبع شدہ شینا کتابیں:

  1. احمد جوان کی کتاب حمد، نعت اور قصائد کا مجموعہ "ڇلو" 1989 میں شائع ہوئی؛
  2. رضا امجد کے دو شعری تصنیفات جلے زہراؑ اور چناٗلو تکیاٗر، منظر عام پر آئیں؛
  3. رضا امجد کی کتاب ”جموں و کشمیر میں درد ݜیݨ“ شائع ہوئی؛
  4. شفیع ساگر نے امین ضیاء کے حروف تہجی کو دراسی لہجے میں استعمال کرکے ایک کتابچہ شائع کیا؛
  5. شفیع ساگر کی کتاب "ݜیݨا لوک ادب " منظر عام پر آئی جس میں اہم لوک گیت و ادب شامل ہے؛
  6. مختار زاہد بڈگامی کی ایک اہم کتاب "تاریخ ݜیݨا زبان و ادب“ شائع ہوئی؛
  7. چکٹ صاحب کی کتاب "گلستان ݜیݨا" شائع ہوئی؛
  8. پُݜوٰں بآغ گلستان سعدی کا ترجمہ مسعود ساموں نے چھاپی۔
  9. شیخ غلام احمد شیخ  کی کہاؤتوں کی کتاب  ”مَلیکہ“ شائع ہوئی؛
  10. مسعود سموں کی کتاب ”شںا محاؤرآے گہ مثالے“   2016 میں شائع ہوئی؛
  11. مسعود سموں کی گریزی شینا گرائمر کی کتاب 2018 میں شائع ہوئی؛
  12. محمد رمضان صاحب نے شینا زبان کے گریزی لہجہ میں آسان شینا قاعدہ شایع کیا۔

اسی طرح گلگت ریجن میں شینا زبان کے متعلق اردو اور شینا میں جو کتابیں شائع ہوئیں ان مین سر فہرست:

  1. ڈاکٹر محمد شجاع ناموس کی صغیم کتاب ”گلگت اور شینا زبان“ جو 1956 میں شائع ہوئی؛
  2. محمد امین ضیاء کا شعری مجموعہ ”سان“ جو 1974 میں شائع ہوا؛
  3. محمد امین ضیاء کی کہاؤتوں کی کتاب ”سوینو موریئے“ جو  1978جو میں شائع ہوئی؛
  4. محمد امین ضیاء کی کتاب  ”شینا قاعدہ اور گرائمر“  1976جو میں شائع ہوئی؛
  5. محمد امین ضیاء کی کتاب ”شینا اُردو لُغت“  2010 میں شائع ہوئی؛
  6. اکبر حسین اکبر کی کتاب ”سومولو رسول“ جو 1980 میں شائع ہوئی؛
  7. گلزار اہلبیتؑ،شینا کے پرانے قصیدے،مرثیے،اور نوحوں کا مجموعہ،فضل علی فرفوحی نے 1988 میں شایع کی؛
  8. اکبر حیسن اکبر کی کتاب ”اُردو اور شینا کے مشترکہ الفاظ“  1992میں شائع ہوئی؛
  9. عبدالخالق تاج کا گلگتی شینا زبان کا قاعدہ ”شینا قاعدہ“  1989میں شائع ہوا؛
  10. نصیر الدین چھلاسی کا شعری مجموعہ ”ذاد سفر“ شائع ہو (اشاعت تاریخ نہیں)؛
  11. رحمت عزیز چترالی کا ”شنا قاعدہ“ جو غالباً ِ2017 یا کچھ اس سے قبل شائع ہو؛
  12. شکیل احمد شکیل نے ددی شلوکے دو جلدیں،شینا ورک بک،الکھانوں بڙوٗن،شینا قاعدہ،شینا اردو انگریزی بول چال شایع کی؛

انڈس کوہستان میں شایع شدہ کتابیں:

  1. مولانا ضیاء المرسلین کوہستانی مرحوم نے ”قاعدہ کوہستانی مصدر حروف“ کا کتابچہ شائع کیا؛
  2. رازول کوہستانی/رُتھ لیلی شمٹ نے ”شینا متلہ“ 1998 میں کوہستانی شینا کہاؤتیں شائع کیں؛
  3. رازول کوہستانی/رُتھ لیلی شمٹ نے ”شینا متلہ“ رسم الخط کی تبدیلی اور اضافہ کےساتھ 2018 میں اشاعت دوم کے لیے کتاب مکمل کی؛ 
  4. رازول کوہستانی/رُتھ لیلی شمٹ نے کوہستانی شینا زبان کا ”شینا قاعدہ“  1996 میں شائع کیا؛
  5. رازول کوہستانی ”بُنیادی شینا کوہستانی اردو لُغت“ 1999 میں شائع ہوئی؛
  6. رازول کوہستانی ”شینا کوہستانی اُردُو لُغت“ جو تین جلدوں میں ہے 2018 میں چار نقطوں والی اضافی علامات اور مصوّتی اعراب کے ساتھ مکمل کی جو اشاعت کے لیے تیار ہے؛
  7. رازول کوہستانی ”کوستان دہ ادویاتی گوڑیو روایتی استعمال“  1998 میں شائع کی؛
  8. رازول کوہستانی نے ملک عبدالرؤف مرحوم کی تبلیغی کتاب ” شینا کوہستانی تبلیغى کتابچہ“ 2018 میں مکمل کیا۔[5]

حوالہ جات

  1. ہرالڈ ہیمر اسٹورم؛ رابرٹ فورکل؛ مارٹن ہاسپلمتھ (ویکی نویس.)۔ "Shina"۔ گلوٹولاگ 3.0۔ یئنا، جرمنی: میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار دی سائنس آف ہیومین ہسٹری۔
  2. ہرالڈ ہیمر اسٹورم؛ رابرٹ فورکل؛ مارٹن ہاسپلمتھ (ویکی نویس.)۔ "کوہستانی شینا"۔ گلوٹولاگ 3.0۔ یئنا، جرمنی: میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار دی سائنس آف ہیومین ہسٹری۔
  3. ویبلاگ
  4. شینا بیاک،14 جنوری 2018
  5. ویبلاگ،
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔