مندرجات کا رخ کریں

شیو سدھانت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

شیو سدھانت (سنسکرت نقل حرفی: شَیوَسِدّھانْتَ)[1][2] (تمل: சைவ சித்தாந்தம்) جنوبی ہند اور سری لنکا میں رائج شیو مت کا ایک مختلف تصور جو دویت (ثنویت پسند) فلسفہ کا داعی ہے۔ اس فلسفے کے مطابق کسی بھی وجود کا حتمی اور مثالی مقصد شیو کے فضل و کرم کے نتیجہ ميں نجات یافتہ روح بننا ہے۔[3] یہ فلسفہ اصلاً پانچویں سے نویں صدی عیسوی کے دوران میں شیو کے معتقد سنتوں کے تخلیق کردہ تمل بھکتی گیتوں سے ماخوذ ہے، جن کا مجموعہ "ترومورئے" کہلاتا ہے۔ تیرھویں صدی عیسوی کے مفکر میکنڈار اس دبستان کے پہلے باقاعدہ فلسفی تسلیم کیے جاتے ہیں۔[4] شیو سدھانت کے طے شدہ رسوم و رواج اور کونیات و الہیات دراصل آگَموں اور ویدک صحیفوں کے امتزاج پر مبنی ہیں۔[5][6]

کہا جاتا ہے کہ یہ روایت کسی زمانے میں پورے ہندوستان میں رائج تھی،[7] لیکن شمالی ہند پر مسلمانوں کے غلبے کے بعد شیو سدھانت کا دائرہ جنوب تک محدود ہو گیا،[8] اور وہاں یہ فلسفہ تمل شیو تحریک (جو نینماروں[9] کی بھکتی شاعری میں نمایاں تھی) میں مدغم ہو گیا۔ یہ تحریک دراصل ناستک فلسفوں کے خلاف پہلا شدید رد عمل تھی۔[حوالہ درکار] آج کے دور میں شیو سدھانت کے پیروکار زیادہ تر جنوبی ہند اور سری لنکا میں پائے جاتے ہیں،[9] جب کہ انڈونیشیا میں اس کی ایک ایسی شکل رائج ہے جو تنتریان کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکی ہے (جسے "سیوا سدھانت" کہا جاتا ہے)۔[10]

عقیدت مندانہ گیتوں کا تمل مجموعہ ترومورئے، شیو آگم اور "میکنڈ" یا "سدھانت" شاستر،[11] تمل شیو سدھانت کے مذہبی صحیفوں کا مستند ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں۔

وجہ تسمیہ

[ترمیم]
نٹراج، پنچ کریتیہ (پانچ اعمال) کو سنبھالتے ہوئے؛ سدھانت مت کی برتر ہستی۔

مونیئر ولیمز نے لفظ "سدھانت" کے معنی کسی بھی موضوع پر "مستند یا مسلمہ یا مستند نصابی کتاب یا مروجہ سائنسی مقالے" کے بتائے ہیں... جیسے کہ برہم سدھانت، سوریہ سدھانت وغیرہ۔

کیرن پیچیلس (Karen Pechilis) نے شیو سدھانت کی تعریف یوں کی ہے: "شیو کے علم کی انتہا جو اس کی معراج کی علامت ہے"۔ جس طرح ویدانت ویدوں کا نقطۂ کمال ہے، اسی طرح شیو سدھانت یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ شیو کے علم کی حتمی اور مستند تشریح ہے۔[12]

تاریخ

[ترمیم]

آغاز اور ابتدائی اثرات

[ترمیم]

شیو سدھانت کی اصل شکل کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ بعض ناقدین کا ماننا ہے کہ اس کا آغاز ایک وحدۃ الوجودی نظریے کے طور پر ہوا، جس کی ترویج شمالی ہند کے کشمیری شیومت کے ماننے والوں نے کی (جس کا زمانہ نامعلوم ہے)۔ ایک اور نظریہ جنوبی ہند کو اس کا جائے آغاز قرار دیتا ہے، جہاں یہ سب سے زیادہ رائج تھا۔ تاہم دوسروں کے نزدیک یہ بات زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ ابتدائی شیو سدھانت ہندوستان کے کسی حصے میں ایک ایسے مذہب کی شکل میں پروان چڑھا جس کی بنیاد رسمِ بیعت (Initiation) کے تصور پر تھی جو نجات کا باعث بنتی ہے۔ نجات بخش بیعت کا یہ تصور غالباً ایک پشوپت روایت سے مستعار لیا گیا ہے۔[13] اس مکتبِ فکر کی الہیات کی ابتدائی تشکیل کے وقت وحدت الوجود یا ثنویت کا سوال، جو بعد کی الہیاتی بحثوں کا مرکز بن گیا، ابھی تک ایک اہم مسئلہ کی شکل ميں نہیں ابھرا تھا۔

کشمیری اثرات یا جائے آغاز

[ترمیم]

سنسکرت میں سدھانت الہیات کی باقاعدہ ترتیب کا سہرا سدیو جیوتی (تقریباً ساتویں صدی عیسوی[14]) جیسے سدھوں کے سر جاتا ہے۔ سدیو جیوتی نے، جنھوں نے اپنے گرو اگر جیوتی سے بیعت کی تھی، سدھانت کے فلسفیانہ نظریات پیش کیے جو "رَورَوتَنتر" اور "سوایمبھو وَسوتر سنگراہ" (स्वायम्भुवसूत्रसङ्ग्रह) میں ملتے ہیں۔ وہ کشمیر سے تعلق رکھتے تھے یا نہیں اس پر اختلاف ہے، لیکن اگلے مفکرین جن کی تصنیفات آج بھی محفوظ ہیں، وہ دسویں صدی عیسوی میں سرگرمِ عمل ایک کشمیری سلسلے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں رام کنٹھ اول، ودیا کنٹھ اول، شری کنٹھ، نارائن کنٹھ، رام کنٹھ دوم اور ودیا کنٹھ دوم قابل ذکر ہیں۔ ان میں سے آخری چار مفکرین کے مقالات آج بھی دستیاب ہیں۔ بعد ازاں گجرات کے راجا پرمار بھوج (تقریباً 1018ء) نے سدھانت کے ضخیم مذہبی متون کو "تتو پرکاش" نامی ایک مختصر مابعد الطبیعیاتی رسالے میں سمو دیا۔

تمل بھکتی (ساتویں تا نویں صدی عیسوی)

[ترمیم]

پانچویں سے آٹھویں صدی عیسوی کے دوران میں تمل ناڈو میں بدھ مت اور جین مت فروغ پا چکے تھے، جس کے بعد شیو بھکتی کی ایک طاقتور تحریک اٹھی۔ ساتویں اور نویں صدی عیسوی کے درمیان سمبندر، اپر اور سندرار جیسے سیاح سنتوں اور 63 نینماروں نے شیو کی عظمت کے گیتوں کے ذریعے بدھ مت اور جین مت کے تصورات کی تردید کی۔ مانک واچاکر کے اشعار، جنھیں تیرو واچکم کہا جاتا ہے، وجدانی تجربات، عشقِ الہیٰ اور سچائی کی تڑپ سے لبریز ہیں۔ ان چار سنتوں کے گیت اس مجموعے کا حصہ ہیں جسے ترومورئے کہا جاتا ہے۔ ترومورئے کو اب ویدوں، شیو آگموں اور میکنڈ شاستروں کے ساتھ تمل ناڈو میں شیو سدھانت کی دستاویزی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ امکان موجود ہے کہ جب ترومورئے کا عقیدت مندانہ ادب تخلیق کیا جا رہا تھا، اس وقت اسے شیو سدھانت کے مذہبی قانون (Canon) کا حصہ نہیں سمجھا گیا،[15] کیونکہ ان حمدیہ گیتوں میں بذاتِ خود ایسا کوئی دعویٰ نہیں ملتا۔

تقریباً آٹھویں صدی عیسوی میں قدیم عہدِ سنگم کے ویدک رشی اگستیہ کے رفیقِ خاص تیرومولر نے اپنی شاہکار تصنیف میں اصطلاح "سدھانت" اور اس کے اساسی اصولوں کی متعارف کروایا؛ اور اسی بنا پر انھیں اس نظریے کا اولین شارح تسلیم کیا جاتا ہے۔[حوالہ درکار]

بھکتی تحریک کو طبقاتی جدوجہد کے طور پر پیش کرنا مبالغہ آرائی ہوگی؛ اس کے باوجود اس میں معاشرے کے سخت ڈھانچوں کے خلاف ایک توانا احساس موجود ہے۔[16]

تشکیل و تنظیم (بارھویں تا پندرھویں صدی عیسوی)

[ترمیم]

شیو سدھانت کی الٰہیات کی باقاعدہ ترتیب و تدوین کا نقطۂ کمال دسویں صدی عیسوی میں کشمیر میں دکھائی دیتا ہے، جہاں کشمیری مصنفین بھٹ نارائن کنٹھ اور بھٹ رام کنٹھ کی تشریحی تصانیف اس مکتبِ فکر کے افکار کا نہایت نفیس اور مدلل اظہار بن کر ابھریں۔[17] ان کے علمی کاموں کے حوالے بارھویں صدی عیسوی کے جنوبی ہند کے مصنفین، مثلاً اگھور شیو اور تریلوچن شیو کی تحریروں میں ملتے ہیں جنھوں نے ان کی پیروی کی۔[18] وہ جس الہیات کی وضاحت کرتے ہیں، اس کی بنیاد تانترک صحیفوں کے اس مجموعے پر ہے جسے سدھانت تنتر یا شیو آگَم کہا جاتا ہے۔ روایتی طور پر اس مجموعے میں اٹھائیس صحیفے شامل مانے جاتے ہیں، مگر ان کی فہرستوں میں اختلاف پایا جاتا ہے،[19] اور کئی نظریاتی طور پر اہم صحیفے، جیسے مرگیندر،[20] اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ شیو سدھانت کی رسومات کی باقاعدہ ترتیب میں کشمیری مفکرین کا اثر نسبتاً کم دکھائی دیتا ہے: وہ رسالہ جس نے شیو رسومات پر اور درحقیقت شیو فرقہ وارانہ دائرے سے باہر کی رسومات پر بھی (کیونکہ اس کے نقوش اگنی پران جیسی تصانیف میں ملتے ہیں) سب سے گہرے اثرات مرتب کیے، وہ ایک رسوماتی دستور العمل ہے جسے گیارھویں صدی عیسوی کے اواخر میں شمالی ہند میں سوم شمبھو نامی شخص نے مرتب کیا تھا۔[21]

بارھویں صدی عیسوی میں چدمبرم میں آمَردَک سلسلے کی ایک ذیلی خانقاہ کے سربراہ اگھور شیو نے شیو سدھانت کی ازسرِ نو تشکیل کا بیڑا اٹھایا۔ انھوں نے سدھانت کی وحدت الوجودی تشریحات کی پرزور تردید کرتے ہوئے شیو کے تصور میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کی۔ انھوں نے پہلے پانچ اصولوں یا تتوں (ناد، بِندو، سداسیو، ایشور اور شدھ ودیا) کو "پاشا" (بندھن) کے زمرے میں دوبارہ شامل کیا اور یہ استدلال پیش کیا کہ یہ کسی علت کے معلول ہیں اور فطرتاً غیر شعوری مادے ہیں؛ یہ ان روایتی تعلیمات سے صریح انحراف تھا جن میں ان پانچوں کو خدا کی الوہی فطرت کا حصہ مانا جاتا ہے۔

اگھور شیو قدیم آگَمک روایت کی رسومات کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے۔ آج تک موروثی مندروں کے تقریباً تمام پجاری (شیواچاریہ) اگھور شیو کے سدھانت فلسفے کی پیروی کرتے ہیں اور آگَموں پر ان کی تحریریں پوجا کا معیاری رہبر بن چکی ہیں۔ ان کی تصنیف "کریا کرم دیوتِکا" ایک ضخیم تصنیف ہے جو شیو سدھانت کی رسومات کے تقریباً تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے، مثلاً شیو کی روزانہ عبادت، وقتاً فوقتاً ادا کی جانے والی رسومات، بیعت کی رسومات، تدفین کی رسومات اور تہوار وغیرہ۔ شیو سدھانت کی اس "اگھور پدھتی" پر کونگو ناڈو کے قدیم گرھستھ آدی شیو مٹھ[22] اور جنوبی ہند کے استھانِک شیواچاریہ پجاری عمل پیرا ہیں۔

میکنڈار (تیرھویں صدی عیسوی) اس مکتبِ فکر کے پہلے باقاعدہ فلسفی تھے جنھوں نے اسے ثنویت پسند دویت ویدانت کے تناظر میں پیش کیا۔[23] نیز تیرھویں صدی عیسوی میں ارول نندی شیواچاریہ اور اماپتی شیواچاریہ نے بھی اس فلسفے کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔ میکنڈار کی بارہ اشعار پر مشتمل "شیو گیان بودھم" اور اس کے بعد دیگر مصنفین کے کاموں نے (جو سب کے سب تیرھویں اور چودھویں صدی عیسوی کے بتائے جاتے ہیں) میکنڈار سمپردائے (سلسلے) کی بنیاد رکھی۔ یہ سلسلہ ایک ایسی تکثیری حقیقت پسندی پیش کرتا ہے جس میں خدا، روحیں اور کائنات ایک ساتھ موجود ہیں اور ازلی ہیں اور شیو ایک علتِ فاعلی (Efficient cause) ہے نہ کہ علتِ مادی (Material cause)۔ ان کے نزدیک شیو میں روح کا ضم ہونا ایسا ہی ہے جیسے پانی میں نمک؛ ایک ایسی ابدی وحدت جس میں ثنویت بھی برقرار رہتی ہے۔

گیارھویں سے پندرھویں صدی عیسوی کے درمیان شری کنٹھ کا تحریر کردہ برہم سوتر بھاشیہ شروت ویدک ویدانت اور شیو ادویت کے تناظر میں اس فلسفے کی ایک اور آگَمک اور فلسفیانہ بنیاد فراہم کرتا ہے۔[24]

عہدِ جدید کا ابتدائی دور

[ترمیم]

سری لنکا

[ترمیم]

سری لنکا کے سنہالی معاشرے میں راجا راجا سنہا اول (دورِ حکومت: 1581ء تا 1592ء) نے شیو سدھانت کو قبول کر لیا اور اپنے عہدِ حکومت میں اسے سرکاری مذہب قرار دیا،[25] جب کہ اس سے قبل راجا دیوانم پی تسا کے قبولِ مذہب کے بعد سے وہاں طویل عرصے تک تھیرواد بدھ مت کا غلبہ تھا۔ سنہالی شیو سدھانت کے اس دور میں بدھ مت کو اگلی دو صدیوں تک زوال کا سامنا کرنا پڑا، تاوقتیکہ یورپی اقوام کی مدد سے جنوب مشرقی ایشیائی مذہبی سلسلوں نے اسے دوبارہ زندہ نہ کر دیا، تاہم اس دور کے نقوش آج بھی سنہالی معاشرے میں موجود ہیں۔

شاہ راجا سنہا نے اپنے تمل وزیر منم پیروما موہوٹالا کی شادی ایک نئی ملکہ کی بہن سے کروائی، جو "آہنی بیٹی" کے نام سے معروف تھی۔ اس وزیر نے بھی شیو سدھانت قبول کر لیا تھا۔[26] یہ روایت ملتی ہے کہ راجا نے اہم بودھی مقامات مثلاً آدم کی چوٹی وغیرہ پر براہمن آدی شیواؤں اور تمل کے شیو نواز ویلالروں کو آباد کیا۔ یہ "ویلالا گرو کل" راجا کے مذہبی اتالیق تھے اور ان مراکز پر شیو سدھانت کو مستحکم کرنے میں مصروف رہے۔ منم پیروما موہوٹالا کے مشورے پر راجا نے بدھ مت کی کئی عبادت گاہوں کو زمین بوس کر دیا۔ بدھ مت اس وقت تک زوال کا شکار رہا جب تک بالترتیب پرتگیزیوں اور ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی کے تعاون سے سیام نکایا اور امرپور نکایا تشکیل نہیں پا گئے۔

اس عہد کے آثار سیتا واکا میں بیرنڈی کویل (بھیرو آندی کویل) جیسے مندروں اور سنہالیوں کی دیگر شیو دیوتاؤں کی عبادت کے آثار ناتھا دیویو، سیلا کترگاما وغیرہ میں نظر آتے ہیں۔

براعظم ایشیا کے جنوب مشرق کی رامائنوں میں پھرا ایسوان (جو تمل زدہ سنسکرت لفظ "ایشورن" سے ماخوذ ہے)[27] کو دیوتاؤں میں برتر مانا جاتا ہے، جب کہ تھیرواد بدھ مت وہاں کا غالب فلسفیانہ مذہب ہے۔ یہاں شیو سدھانت عملی مذہب کے طور پر موجود ہے، جب کہ تھیرواد بدھ مت ایک فلسفیانہ چھتری کی حیثیت رکھتا ہے۔ نُسانتَر کے سیوا سدھانت میں سیوا کو بدھ کے ساتھ ایک تنتریانی شکل میں ضم کر دیا گیا ہے، جسے "سیوا بُد" کہا جاتا ہے۔[10] اسی طرح کی صورت حال ویت نام کے چام لوگوں میں دیکھی جاتی ہے جہاں کا معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے؛ شیو سدھانت کے پیروکار بالامون بن گئے اور تنتریانی آچاریہ (چامی زبان: اچار) "بنی چام" مسلمان کہلائے۔[28] اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کے بھکتی دور کا فلسفہ اور اس کے بعد بدھ مت کے خلاف شاہی شیو سدھانت کا رد عمل جنوب مشرقی ایشیا تک اس طرح نہیں پہنچ سکا جس طرح تھیرواد بدھ مت، تنترایان بدھ مت[29] اور بعد ازاں اسلام نے وہاں فلسفیانہ شیو سدھانت کا خلا پُر کیا۔[30]

تمل ناڈو

[ترمیم]

دریں اثنا تمل ناڈو میں کلابھر عہد کے خاتمے کے بعد پانڈیہ اور پلو ریاستیں دوبارہ ابھریں اور انھوں نے مقامی مذاہب شیو مت اور ویشنو مت کا احیا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ شیو سنت سمبندر نے علمی بحثوں میں بودھ نام رکھنے والے آٹھ ہزار شرمنوں کو شکست دی تھی۔ جب انھوں نے علم بغاوت بلند کیا تو مدورئی کے قریب سامنتھم میں کون پانڈین نے انھیں میخوں سے چھید کر سزائے موت دے دی۔ مہندر ورمن اول نے شیو سنت اپر کے زیرِ اثر شرمنوں کے زیرِ قبضہ یادگاروں کو واگزار کرایا اور مت ولاس پرہسن تحریر کیا، جو اس وقت کے بدھ مت سمیت غیر ویدک فرقوں پر ایک طنزیہ ڈراما تھا۔ اسی دور میں بودھایان کے بھگودجوکیم نے ہندو مت کے اندر ہی شرمن فرقوں یعنی سنیاسیوں کا مذاق اڑایا۔ ان واقعات کو ہندوستان میں بھکتی تحریک کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ناستک مذہب بدھ مت کا خاتمہ اور ہندوستان میں جین مت قریب قریب فنا ہو گیا۔

جنوب مشرقی ایشیا

[ترمیم]

انکور کے سلطنتِ خمیر (802ء تا 1431ء) میں شیو سدھانت اس وقت تک پھلتا پھولتا رہا جب تک تھیرواد بدھ مت کو شاہی سرپرستی حاصل نہ ہوئی اور اس کے نتیجے میں سلطنت کے "شاہ خدا" (God-king) اور سدھانت کے طبقاتی نظام کا زوال نہیں ہوا۔[31]

چام معاشرے (ویت نام) میں شیو سدھانت اور تنتریان کی تفریق کے نتیجے میں معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا؛ شیو کے ماننے والے بالامون ہندو بن گئے اور تنتریانیوں نے "بنی چام" مسلمان بن کر اسلام قبول کر لیا۔[حوالہ درکار]

مجاپہت نُسانتَر (جاوا) میں سیوا سدھانت تنتریان کے "سیوا بد" میں ضم ہو گیا جس کی عکاسی نگرکرت گام میں ملتی ہے۔ یہ آج بھی بالینی ہندو مت میں زندہ ہے۔[10] اس اشتراک کا اظہار کاکوِن سُت سوم سے ماخوذ انڈونیشیا کے قومی نعرے بھنیک تنگل اک (کثرت میں وحدت) سے بھی ہوتا ہے۔

استعماری عہد - امتیاز پسند تمل اصلاحی شیو سدھانت

[ترمیم]

امتیاز پسند تمل اصلاحی شیو سدھانت کے پیروکار ایک ایسے معاشرہ میں زندگی بسر کر رہے تھے جو شدید قوم پرستانہ نظریات کی زد میں تھا۔ اسی وجہ سے ان کے مذہبی اور سیاسی عقائد ایک دوسرے میں پیوست ہو کر رہ گئے۔ مثال کے طور پر مرئی ملئی اڈیگل (1876ء-1950ء) اور ان کے شیو سدھانت سے متعلق مذہبی عقائد پر تمل قوم پرستی اور خاص طور پر "شیواسٹک ریوائیولسٹ" (شیو مت کے احیا پسند) پارٹی کے گہرے اثرات تھے، جس کی تشکیل میں وہ اور ان کے اتالیق شریک رہے۔ اڈیگل کے نظامِ عقائد میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح وہ شیو سدھانت، جس پر ان کے بنیادی عقائد کی بنیاد ہے، احیا پسندوں کے کلیدی سیاسی نظریات کے ساتھ مل کر ایک منفرد تمل شیو سدھانت روایت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگرچہ شیو سدھانت بذاتِ خود برہمن مخالف نہیں ہے، مگر اڈیگل نے اسے اسی میلان کے مطابق پروان چڑھایا۔ اس طرح شیو سدھانت کی ان کی مذہبی تعلیمات ان کے تمل نواز اور شیو مت نواز رویے کو تقویت دیتی، اس سے انھیں اور احیا پسندوں کو "خالص تمل" کا تصور قائم کرنے میں مدد ملتی اور ایک ایسی مذہبی روایت قرار پاتی ہے جو پرانی روایات سے وابستگی کی محتاج نہیں رہتی، بلکہ خود کو قدیم ترین روایت کے طور پر پیش کرتی ہے۔[32]

اس استعماری عہدِ نو کی تحریک کی بنیاد تمل پرست قوم پسند مرئی ملئی اڈیگل نے رکھی تھی۔ اس مکتبِ فکر کی پیروی عہد استعمار میں قائم ہونے والے جدید مٹھ کرتے ہیں، جیسے کوئمبتور کا "پیرور آدھینم" (تقریباً 1895ء میں اس وقت کے ارسو پلی ذات کی سربراہی میں میلم بوما پورم لنگایت آدھینم کے بیعت یافتہ) جو لنگایت مت کو شیو سدھانت کی قدیم ترین شکل قرار دیتا ہے۔ یہ جدید سمپردائے (سلسلہ) شیو سدھانت کو اُن دو سابقہ روایات سے پاک کرنے کا عزم رکھتا ہے جو ویدک اور آگَمک متون اور آدی شیواؤں کی پیروی کرتی ہیں اور اس طرح دراوڑی تحریک سے وابستہ تمل قوم پرستانہ رنگ کے ذریعے شیو سدھانت کی تطہیر کا خواہاں ہے۔

آج کا شیو سدھانت

[ترمیم]

شیو سدھانت جنوبی ہند اور سری لنکا کے شیو نوازوں میں خاصا مقبول ہے بالخصوص جنوبی ہند کی آدی شیو، کونگو ویلالر،[22] ویلالر اور نگرتھار برادریوں کے ارکان میں اس کا گہرا اثر پایا جاتا ہے۔[33] تمل ناڈو میں اس کے ماننے والوں کی تعداد 50 لاکھ سے زائد ہے اور یہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تمل مہاجرین کے درمیان بھی مقبول ہے۔[حوالہ درکار] تمل ناڈو اور دنیا کے ان حصوں میں جہاں تمل آبادی بڑی تعداد میں مقیم ہے، اس کے ہزاروں مندر بھی موجود ہیں۔[حوالہ درکار] مزید برآں اس میں متعدد راہبانہ اور زاہدانہ روایات بھی پائی جاتی ہیں جن کے ساتھ پجاریوں کی اپنی ایک برادری "آدی شیو" بھی موجود ہے، یہ آگَم پر مبنی شیو مندروں کی رسومات انجام دیتے ہیں۔

"انسائیکلوپیڈیا آف شیو ریلیجن" جو 2013ء میں شائع ہونے والی دس جلدوں پر مشتمل ایک شیوائی اشاعت ہے، شیو سدھانت کے 990 اداروں کی دستاویزی تفصیلات فراہم کرتی ہے۔ اگرچہ ان میں سے بہت سے ادارے انیسویں صدی عیسوی کے بعد قائم ہوئے، لیکن سولھویں اور سترھویں صدی عیسوی میں قائم ہونے والے روایتی مراکز جیسے "تھیروا وڈوتھورئی آدھینم"، "دھرم پورم آدھینم" اور "ترُپّندال کاشی مٹھ" آج بھی اپنا بڑا حلقۂ اثر رکھتے ہیں۔[34]

تمل شیو نواز شاعر کمر گرو پر دیسیکر کا کہنا ہے کہ شیو سدھانت ویدانت کے درخت کا پکا ہوا پھل ہے۔ اینگلیکن تمل اسکالر جی۔ یو۔ پوپ لکھتے ہیں کہ شیو سدھانت تمل دانش کا بہترین اظہار ہے۔[35]

مابعد استعمار اور عصرِ حاضر کی بعض تحریکیں مثلاً بودھی ناتھ ویلن سوامی کا شیو سدھانت چرچ وغیرہ عہدِ استعمار سے قبل کے کٹر شیو سدھانت کی اصلاح پر زور دیتی رہی ہیں۔ یہ تحریکیں ان لوگوں کو بھی اس سلسلے میں شامل کر لیتی ہیں جو پیدائشی شیو نواز نہیں ہیں، ان میں ہندوستانی اور مغربی باشندے دونوں شامل ہیں۔ یہ تحریک سدھانت کے ویدک اور آگَمک صحیفوں میں مذکور جانوروں کی قربانی کے تصور کو بھی مسترد کرتی ہے۔

متون

[ترمیم]

خالص شیو سدھانت بنیادی طور پر پانچویں سے نویں صدی عیسوی کے درمیان شیو نواز سنتوں کے تحریر کردہ تمل عقیدت مندانہ گیتوں سے ماخوذ ہے، جن کا مجموعہ "ترومورئے" کہلاتا ہے۔

جنوبی شیو سدھانت میں جن متون کو مقدس مانا جاتا ہے ان میں وید، اٹھائیس شیو آگَم، شیو پران اور دو اتہاس شامل ہیں[36] اور یہی متون اس روایت کی رسوماتی بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔ مزید برآں تمل شیو قانون کی بارہ کتب جنھیں "ترومورئے" کہا جاتا ہے اور جن میں نینماروں کا کلام شامل ہے، "اگھور پدھتی" جو مذکورہ بالا تمام متون کی ایک ضابطہ بند شکل ہے اور میکنڈار فرقے کے لیے "شیو سدھانت شاستر" بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔[37]

تمل شیو سدھانت کا ایک شعر جسے کثرت سے نقل کیا جاتا ہے اور جسے کلاسیکی درجہ حاصل ہے، ویدوں، آگَموں اور تمل ادب کے مابین تعلق کو یوں بیان کرتا ہے:[38]

وید گائے کی مانند ہیں؛ سچے آگَم اس کا دودھ ہیں؛ چار سنتوں [ترومورئے کی پہلی آٹھ کتابیں یعنی تیوارم اور تھرو واسگم کے مصنفین] کے گائے ہوئے تمل گیت اس کا گھی ہیں؛ اور مشہور مقام وینّے کے باشندے میکنڈار کی تحریر کردہ تمل کتاب [یعنی شیو گیان بودھم] کا جوہر علم عظیم سے نکلے ہوئے اسی گھی کا ذائقہ ہے۔

عقائد

[ترمیم]

وجودیاتی مباحث

[ترمیم]

شیو سدھانت تین مختلف وجودی زمروں پر یقین رکھتا ہے جو ایک دوسرے سے جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں:[39]

  1. "پتی" (آقا یا رب): یہ خود شیو کی ذات ہے جو کائنات کے ظہور، بقا و فنا، پردہ پوشی اور فضل و کرم کی علت ہے۔
  2. "پشو" (روح): یہ انفرادی روح ہے، جو شیو سے جدا ہے، لیکن آلائشوں کی وجہ سے بندھن میں جکڑی ہوئی ہے۔
  3. "پاش" (بندھن): یہ تین طرح کی آلائشیں ہیں جن میں "آنوا" (انا)، "کرم" (عمل) اور "مایا" (وہم یا فریب) شامل ہیں۔

روح اپنے افعال (رسوم) کے ذریعے تجربہ حاصل کرتی ہے اور تجربہ سے یہ تینوں آلائشیں دور ہو جاتی ہیں، لیکن نجات کا حصول صرف بھگوان شیو کے فضل و کرم سے ہی ممکن ہوتا ہے۔[39]

چار مراحل

[ترمیم]

شیو سدھانت کے متون کے مطابق موکش کے حصول کی راہ میں "شیو بھکتی" کے چار ارتقائی مراحل ہیں:[40]

  1. "داس مارگ": شیو کے معتقدین کی مختلف طریقوں سے خدمت کرنا، جیسے مندر کی صفائی کرنا، شیو کی مورتی کے لیے پھولوں کے ہار بنانا اور بھگوان شیو کی حمد و ثنا کرنا۔
  2. "ست پتر مارگ": ایک سچے بیٹے کا راستہ، جس میں پوجا کی تیاری اور مراقبہ کے ذریعے ذاتی عقیدت پیش کی جاتی ہے۔
  3. "سہ مارگ": یوگا کی مشق کے ذریعے عقیدت کا اظہار کرنا۔
  4. "سن مارگ": حق اور حقیقت کا راستہ جو اعلیٰ ترین درجہ ہے؛ اس میں خدا کی معرفت کے ذریعے عقیدت پیش کی جاتی ہے، نجات کی مسرت کا تجربہ کیا جاتا ہے اور بندہ خدا کی ذات میں مدغم ہو جاتا ہے۔

چھ مستند درشنوں کے اثرات

[ترمیم]

اگرچہ شیو سدھانت بنیادی طور پر ایک آگمک اور توحیدی روایت ہے، لیکن نویں اور تیرھویں صدی عیسوی کے درمیان اس کی علمی و کلامی ترقی ہندو فلسفے کے چھ کلاسیکی دبستانوں ("شڈ درشن") نیائے، ویشیشک، سانکھیہ، یوگا، میمانسا اور ویدانت کے ساتھ گہرے رشتے کو بیان کرتی ہے۔ سدیو جیوتی، اگھور شیواچاریہ اور میکنڈار جیسے الہیات دانوں نے ایک مضبوط مابعد الطبیعیاتی ڈھانچہ وضع کرنے اور سدھانت نظام کی علمیاتی بنیادوں کو بہتر بنانے کی غرض سے ان فلسفیانہ روایات سے اخذ و استفادہ کیا تھا۔[41]

راہبانہ سلسلے

[ترمیم]

شیو سدھانت کی پورے ہندوستان میں ترویج و اشاعت میں تین راہبانہ سلسلوں نے کلیدی کردار ادا کیا؛ "آمَردَک" سلسلہ جس کی شناخت شیو مت کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک اجین سے ہے، "مت مَیور" سلسلہ جو چالوکیہ خاندان کے دار الحکومت میں قائم تھا اور وسطی ہندوستان کا "مدھومتیہ" سلسلہ۔ بعد میں ان تینوں کے ذیلی سلسلے بھی وجود میں آئے۔ سدھانت کے راہبوں نے شاہی سرپرستوں کے اثر و رسوخ کو ہمسایہ ریاستوں، بالخصوص جنوبی ہند میں ان تعلیمات کو پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ مت مَیور سلسلہ سے تعلق رکھنے والے راہبوں نے ان علاقوں میں خانقاہیں قائم کیں جو اب مہاراشٹر، کرناٹک، آندھرا پردیش اور کیرلا میں شامل ہیں۔

آج کے تمل ناڈو میں قدیم گرھستھ آمردک سلسلے کی "اگھور پدھتی" کے آدی شیو مٹھ اور غیر آدی شیو سنیاسیوں کے "میکنڈار سمپردائے" کے آدھینم (راہبانہ مراکز) دونوں موجود ہیں۔ آدی شیو مٹھوں کی تعداد تقریباً 40 ہے جو عموماً کونگو ناڈو میں ہیں،[22] جب کہ 18 آدھینم "ٹونڈائی ناڈو"، "چولا ناڈو" اور "پانڈیا ناڈو" میں واقع ہیں۔[42]

سری لنکا کے سنہالی علاقوں میں "تمل ویلالا گرو کل" یا تو واپس لوٹ گئے یا پھر پجاریوں کی "کاپورالا" ذات میں مدغم ہو گئے، تاہم انھوں نے اپنے تمل خاندانی نام برقرار رکھے جن میں سے چند ایک "سیلا کتار گاما" جیسی جگہوں پر اب بھی موجود ہیں۔ انڈونیشیا میں "سیوا سدھانت" تنتریان کے ساتھ مدغم ہو کر بالینی ہندو مت کی شکل میں اب بھی زندہ ہے۔ ہند چینی خطے میں شیو سدھانت کسی ادارے کے بغیر شیو کی عبادت ایک آبائی "دیوتاؤں کے دیوتا" پھرا ایسوان (تمل: ایشورن) کے روپ میں موجود ہے، جب کہ ویت نامی چام لوگوں میں یہ "بالامون" طبقے کے اندر پھل پھول رہا ہے۔[43]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Xavier Irudayaraj,"Saiva Siddanta," in the St. Thomas Christian Encyclopaedia of India, Ed. George Menachery, Vol.III, 2010, pp.10 ff.
  2. Xavier Irudayaraj, "Self Understanding of Saiva Siddanta Scriptures" in the St. Thomas Christian Encyclopaedia of India, Ed. George Menachery, Vol.III, 2010, pp.14 ff.
  3. Flood, Gavin. D. 2006. The Tantric Body. P.122
  4. "Shaiva-siddhanta | Hindu philosophy". Encyclopedia Britannica (بزبان انگریزی). Retrieved 2021-08-05.
  5. Flood, Gavin. D. 2006. The Tantric Body. P.120
  6. Flood 2005, p. 120
  7. Hilko Wiardo Schomerus (2000). Śaiva Siddhānta: An Indian School of Mystical Thought : Presented as a System and Documented from the Original Tamil Sources (بزبان انگریزی) (Reprint ed.). Delhi: Motilal Banarsidass Publishers. pp. 5–7. ISBN:978-81-208-1569-8.
  8. Flood, Gavin. D. 2006. The Tantric Body. P.34
  9. ^ ا ب Flood, Gavin. D. 1996. An Introduction to Hinduism. P.168
  10. ^ ا ب پ I Made Suastika; Luh Putu Puspawat (Nov 2023ء). "The Actualization Of Bairawa –Tantric Values In Indonesia" (PDF). International Journal of Academic Multidisciplinary Research (بزبان انگریزی). باولنگ گرین، کینٹکی. 7 (11): 269–276. ISSN:2643-9670. OCLC:1102647543.
  11. S. Arulsamy, Saivism - A Perspective of Grace, Sterling Publishers Private Limited, New Delhi, 1987, pp.1
  12. Karen Pechilis Prentiss (1996ء)۔ "A Tamil Lineage for Saiva Siddhānta Philosophy"۔ History of Religions۔ ج 35 شمارہ 3: 231–257۔ ISSN:0018-2710۔ JSTOR:1062814
  13. ملاحظہ فرمائیے الیکس سینڈرسن کی تحریر The Lākulas: New evidence of a system intermediate between Pāñcārthika Pāśupatism and Āgamic Śaivism. Ramalinga Reddy Memorial Lectures, 1997. مطبوعہ: The Indian Philosophical Annual 24 (2006ء)، صفحات 143-217۔
  14. ملاحظہ فرمائیے الیکس سینڈرسن، "The Date of Sadyojyotis and Brhaspati." مطبوعہ Cracow Indological Studies 8 (2006ء)، صفحات 39–91۔ (حقیقی تاریخِ اشاعت 2007ء)۔
  15. ڈومینک گڈال، The Parākhyatantra. A Scripture of the Śaiva Siddhānta, پانڈیچیری، French Institute of Pondicherry اور Ecole française d'Extrême-Orient، 2004ء، صفحات xxix-xxxiv۔
  16. Flood, Gavin. D. 1996. An Introduction to Hinduism. P. 170
  17. الیکس سینڈرسن، "The Saiva Exegesis of Kashmir"، صفحات 242-248، بشمول Tantric Studies in Memory of Hélène Brunner، مرتبہ ڈومینک گڈال اور آندرے پیڈو، پانڈیچیری، فرنچ انسٹی ٹیوٹ آف پانڈیچیری اور ایکول فرانسیس ڈی ایکسٹریم اورینٹ، 2007ء۔
  18. ڈومینک گڈال، Problems of Name and Lineage: Relationships between South Indian Authors of the Shaiva Siddhanta، جرنل آف دی رائل ایشیاٹک سوسائٹی، سیریز 3، 10.2 (2000ء)۔
  19. موجودہ فہرستیں ڈومینک گڈال نے Bhatta Ramakantha's Commentary on the Kiranatantra کے ضمیمہ III میں پیش کی ہیں، پانڈیچیری، فرنچ انسٹی ٹیوٹ آف پانڈیچیری، 1998ء، صفحات 402-417۔
  20. یہ دسویں صدی عیسوی سے قبل کے ان چند شیو سدھانت صحیفوں میں سے ایک ہے جس کا مکمل ترجمہ یورپی زبان میں ہوا ہے: Michel Hulin، Mrgendragama. Sections de la doctrine et du yoga، پانڈیچیری، فرنچ انسٹی ٹیوٹ آف پانڈیچیری، 1980ء اور ہیلین برنر-لاچوکس، Mrgendragama. Section des rites et sections du comportement، پانڈیچیری، فرنچ انسٹی ٹیوٹ آف پانڈیچیری، 1985ء۔
  21. اس دستور العمل کو، جسے "کریا کنڈ کرماولی" یا "سوم شمبھو پدھتی" کہا جاتا ہے، ہیلین برنر نے مدون کرکے ترجمہ کیا تھا۔ یہ ترجمہ فرنچ انسٹی ٹیوٹ آف پانڈیچیری سے 1963ء، 1968ء، 1977ء اور 1998ء میں چار جلدوں میں شائع ہو چکا ہے۔
  22. ^ ا ب پ "Saivacharyas honoured"۔ www.tamilartsacademy.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-12-17
  23. "Shaiva-siddhanta | Hindu philosophy". Encyclopedia Britannica (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2017-03-18. Retrieved 2021-08-05.
  24. Sarvepalli Radhakrishnan. Sarvepalli Radhakrishnan - Brahma Sutra, The Philosophy of Spiritual Life (بزبان انگریزی). Sabyasachi Mishra.
  25. "گணින්ናන්සේලා කියවිය යුතු සංඝරජ වැලවිට සරණංකර චරිතය"۔ 2017-01-20 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-01-20
  26. Mayadunne and Rajasinha I دی آئی لینڈ - 20 مئی 2011ء
  27. S Singaravelu (Mar 1982ء). "The Rama Story in the Thai Cultural Tradition" (PDF). Journal of the Siam Society (بزبان انگریزی). بینکاک، تھائی لینڈ: Siam Society. 70: 50–70. ISSN:2651-1851. OCLC:969730045. Archived (PDF) from the original on 2024-04-18.
  28. Dr Uday Dokras (1 جنوری 2022)۔ "Shaivite landscapes of "India" and South East Asian Countries and the conflict between the followers of Shiva and Vishnu"۔ INAC
  29. Alexis Sanderson (2009ء)۔ The Śaiva Age— The Rise and Dominance of Śaivism During the Early Medieval Period
  30. Alexis Sanderson (2003ء)۔ "The Śaiva Religion among the Khmers (Part I)"۔ Bulletin de l'École Française d'Extرême-Orient۔ ج 90: 349–462۔ DOI:10.3406/befeo.2003.3617
  31. Alexis Sanderson (2003ء)۔ "The Śaiva Religion among the Khmers (Part I)"۔ Bulletin de l'École Française d'Extrême-Orient۔ ج 90: 349–462۔ DOI:10.3406/befeo.2003.3617
  32. Vaitheespara, Ravi. 2010. Forging the Tamil caste: Maraimalai Adigal (1876-1950) and the discourse of caste and ritual in colonial Tamilnadu.
  33. "Kongu Vellalar Sangangal Association"۔ www.konguassociation.com۔ 2021-08-03 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-08-03
  34. Klöber 2017, p. 193
  35. "The Shaiva Siddhanta"۔ shaivam.org۔ 2021-04-19 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-08-05
  36. "Vaidhika Shaiva Siddhanta"۔ shaivam.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-09-16
  37. Flood, Gavin. D. 1996. An Introduction to Hinduism. P. 169
  38. Klöber 2017, p. 201
  39. ^ ا ب Gavin D. Flood (1996ء)۔ An introduction to Hinduism۔ New York, NY: Cambridge University Press۔ ص 163۔ ISBN:0-521-43304-5۔ OCLC:50516193
  40. Klostermaier, Klaus K. (5 جولائی 2007ء)۔ A survey of Hinduism۔ SUNY Press۔ ص 193۔ ISBN:978-0-7914-7081-7۔ OCLC:70251175
  41. Bhairav, R. "The Integration of Darshanas in Saiva Siddhanta." Indian Philosophical Review, Vol. 42, 2002.
  42. "The adheenams - spiritual torchbearers" (PDF)۔ 2023-05-24 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا
  43. "Leaps of faith". BusinessLine (بزبان انگریزی). 19 May 2017ء. Retrieved 2024-10-25.

مآخذ

[ترمیم]

بیرونی روابط

[ترمیم]