صاحبزادہ پیر محمد عامر صدیقی السیفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

صاحبزادہ پیر محمد عامر صدیقی السیفی مدظلہ العالی بن خواجہ پیر صوفی غلام سرور صدیقی نقشبندی مدظلہ العالی بن صوفی محمد دین چشتی صابری سراجی (عرف حاجی محمد دین) رحمتہ اللہ علیہ بن صوفی نظام الدین قادری گرداسپوری رحمتہ اللہ علیہ

آپ حضرت خواجہ پیر صوفی غلام سرور صدیقی نقشبندی مدظلہ العالی (خلیفہ مجاز آستانہ عالیہ نیریاں شریف) و سجادہ نشین آستانہ عالیہ نقشبندیہ صدیقیہ سروریہ ، کالج روڈ، ڈسکہ المعروف بابا جی سرکار و خلیفہ صاحب سرکار و صوفی صاحب سرکار المشہور بسطامی مارکیٹ والے کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ آپ سلسلہ سیفیہ سے وابستہ ہیں اور آخوندزادہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حمید جان السیفی مدظلہ العالی کے سند یافتہ خلیفہ مطلق ہیں۔

آباواجداد[ترمیم]

آپ کے آباواجداد کا تعلق ضلع گرداسپور، انڈیا سے ہے۔ راجپوت سلہریا خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ آپ کے داد جان حاجی محمد دین چشتی صابری سراجی 1947ء میں اپنی فیملی کیساتھ ہجرت کر کے پاکستان تشریف لائے تھے۔

پیدائش[ترمیم]

آپ بروز پیر 26 رمضان المبارک 1404 ھجری بمطابق 25 جون 1984 کو شہر ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ اپکے والد گرامی صوفی صاحب سرکار نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے نام محمد عامر صدیقی رکھا۔

ابتدائی دور[ترمیم]

آپ کو بچپن میں ہی گھر کے اندر دینی ماحول میسر ہوا۔ اور بزرگان دین کی محبت خون میں شامل تھی ۔ آپ اور آپ کے برادر اصغر صاحبزادہ محمد عمر بسطامی اپنی دادی جان مائی صاحبہ نصیباں بی بی رحمتہ اللہ علیہا کے لاڈلے تھے۔ جو انتہائی عبادت گزار خاتون تھیں۔ درود پاک ہر وقت ان کی زبان بارک پر جاری رہتا تھا۔ آپ کے والد گرامی بابا جی سرکار فرما تے ہیں کہ مجھے کئی صاحب حال بزرگوں نے فرمایا کہ صوفی صاحب یہ بچہ (صاحبزادہ محمد عامر صدیقی) آپ ہمیں دے دیں۔ ڈسکہ کے ایک مشہور مجذوب سائیں اقبال صاحب تو عرصہ تین سال تک یہی بات فرماتے رہے۔مگر آپ کے والد گرامی یہی کہتے یہ ابھی بچہ ہے ۔ سائیں اقبال صاحبزادہ پیر محمد عامر صدیقی صاحب سے بہت پیار فرما تے تھے۔ اور صاحبزادہ صاحب بھی اکثر ان کے ساتھ اپنا وقت گزارتے تھے۔ آپ اپنے والد گرامی قبلہ صوفی صاحب کے ساتھ اکثر ختلف مزارات پر حاضری دیا کرتے تھے۔ آپ کو نوجوانی سے ہی حضور سیدنا غوث الاعظم شیخ عبد القادر رضی اللہ تعالی عنہ اور قلندر لاہوری حضرت علامہمحمد اقبال سے بے حد عقیدت ہے۔

آپ جہاں کہیں بھی کسی محفل ذکر یا محفل نعت کا پتہ چلتا وہاں لازمی حاضر ہوتے۔ کسی سفر میں گئے ۔ جہاں کہیں مزار مبارک نظر آتا حاضری دیتے تھے۔ اولیاء اکرام سے والہانہ محبت رکھتے ہیں ۔ صاحبزادہ صاحب فرما تے ہیں شروع میں اسکول کے دنوں کی بات ہے ۔ مجھے تاریخی ناول پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ جو والد گرامی کیوجہ سے دینی کتب بالخصوص تصوف و روحانیت کی کتب پڑھنے کی طرف مائل ہو گیا۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

قرآن مجید و فرقان حمید کی تعلیم آپ نے جامع مسجد نور ڈسکہ اور اس کے بعد جامع مسجد اویس ڈسکہ میں علامہ قاری حبیب صاحب سے حاصل کی۔ کچھ عرصہ علامہ قاری خالد محمود صاحب نقشبندی سے بھی پڑھتے رہے۔ پھر خلاصہ کیدانی، بہار شریعت اور ابتدائی فقہ کی کتب پڑھیں۔ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈسکہ سے فارغ ہوئے۔ تو حضرت خواجہ علامہ پیر علاؤ الدین صدیقی رحمتہ اللہ علیہ کے حکم پر آستانہ عالیہ نیریاں شریف اپنے تین صاحبزادوں،صاحبزادہ محمد عامر صدیقی، صاحبزادہ محمد عظیم سرور، صاحبزادہ محمد عمر بسطامی کو نیریاں شریف تعلیم کے لیے بھیج دیا جہاں محی الدین اسلامی یونیورسٹی، و محی الدین اسلامی کالج اور اسکول قائم تھا۔ یہ صاحبزادگان اس پاکیزہ اور دین دار ماحول میں پروان چڑھنے لگے۔

پانچ وقت نماز باجماعت کی پابندی تھی۔ اکثر با وضو رہا کرتے تھے۔ اور روزانہ مزار پر انوار حضرت ِخواجہ غلام محی الدین سرکار پر حاضری دیتے۔ آپ کو اکثر حضرت پیر صدیقی صاحب کی خدمت میں تنہا صحبت کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ صدیقی صاحب کی طرف سے کچھ اورادو و وظائف بھی عطا کیے گئے۔صاحبزادہ محمد عامر صدیقی سیفی نے پانچ سال کا عرصہ وہاں گزارا ۔ استاذہ کا بہت احترام کرتے تھے۔ دنیاوی تعلیم کی ساتھ ساتھ آپ علم دین بھی حاصل کرتے رہے ۔ مگر 2005 زلزلہ کے باعث ناسازگار حالات کی وجہ سے اپ مکمل نہ کر سکے اور واپس آ گئے۔

ڈسکہ واپس آ کر آپ کچھ عرصہ اپنے والد گرامی کے ساتھ کپڑے کا کاروبار سیکھنے لگے ۔ مگر طبیعت مائل نہ ہو سکی۔اسی دوران پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا۔اسی دوران آپ کی شادی حضور ِخواجہ پیر علاؤ الدین صدیقی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے حکم سے لاہور کے ایک خاندان میں ہوئی ۔ آپ کا نکاح خود حضرت پیر صدیقی صاحب نے اپنے آستانہ عالیہ ڈھوک کشمیریاں راولپنڈی میں پڑھایا ۔ خلفاء و سالکین کی کثیر تعداد موجود تھی۔اور فرمایا کہ آج عرصہ دراز کے بعد اس پاکیزہ کام کو کسی خانقاہ میں کیا گیا ہے۔جو آج کہ اس پر فتن دور میں ختم ہو چکا ہے۔ پھر فرمایا نکاح کہ اس مقدس تقریب میں اولیاء اللہ کی ارواح بھی موجود ہیں۔ مجھے اس نیک اور سعادت مند بچے کا نکاح پڑھاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ اور دعاوں دے نوازہ، اس موقع پر حضرت پیر صدیقی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے کچھ تحائف سے بھی نوازا۔ جن میں ایک جائے نماز ، اپنی ایک تسبیح ،قلم اور ایک قیمتی انگوٹھی تھی

لاہور آمد[ترمیم]

ازدواجی زندگی کی شروعات ہوتے ہی لاہور تشریف لے آئے ۔ کچھ عرصہ اعظم مارکیٹ میں اندرون کشمیری گیٹ الرحیم سنٹر میں کپڑے کی اپنی دو دوکانین چلاتے رہے جو تھوڑے ہی عرصے میں پیر خانے کی ضرورت کی وجہ سے آپ کے والد گرامی نے بیچ دی۔

سلسلہ سیفیہ میں بیعت و خلافت[ترمیم]

کچھ عرصہ بعد آپ اپنے عزیز دوست علامہ پیر صاحبزادہ عمادالدین صاحب سجادہ نشین آستانہ عالیہ غوثیہ نقشبندیہ سیفیہ شریف گجر خان "فاضل بھیرہ شریف کی ترغیب پر مرکزی آستانہ عالیہ نقشبندیہ سیفیہ میں حاضر ہونے لگے ۔ آپ کی پہلی حاضری 2003 میں ہوئی۔ اپ نیریاں شریف پڑھتے تھے اور قبلہ پیر صدیقی صاحب کی اجازت سے سلسلہ سیفیہ کے بانی حضور آخوند زادہ پیر سیف الرحمن مبارک کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے۔ مگر تعلیمی مصروفیت کی بنا پر پابندی سے حاضری نہ ہو سکی۔حضور مبارکہ کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے و محبوب خلیفہ اور قائم مقام شیخ الحدیث محمد حمید جان سیفی کی جو ایک باعمل عالم دین اور کامل ولی اللہ ہیں کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔ پھر 2013 کے شروع میں باقاعدی سے حاضر ہونے لگے۔اور قریب دو سال کے قلیل عرصہ میں آپ کا ذوق و شوق دیکھ کر مرشد گرامی نے خصوصی توجہات سے نوازہ روحانی فیض کے ساتھ ساتھ احادیث کا درس بھی لینے لگے۔ مکتوبات امام ربانی بھی اپ نے اپنے شیخ کامل سے پڑھی اور آپ کو اخوند زادہ شیخ الحدیث مولانا محمد حمید جان السیفی مدظلہ العالی کی طرف سے سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ سیفیہ میں بروز جمعرات 5 جمادی اول 1435 ھجری بمطابق 6 مارچ 2014 کو خلافت و اذن حاصل ہوا اور شیخ نے محفل و توجہ کے لیے خصوصی طور پر ارشاد فرمایا۔ سند (خط ارشاد) بھی عطا فرمایا۔ اور کچھ عرصے بعد اپ کو سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ اور سلسلہ عالیہ قادریہ شریف اور سلسلہ عالیہ سہروردیہ مبارکہ میں خلافت عطا فرمائی پھر محفل گیارہویں شریف اور وظائف و تعویزات کی اجازت عنائت فرمائی آپ فرماتے ہیں میرے مرشد گرامی نے خاکسار کو فرمایا ہم نے روحانی فیض کے معاملے میں آپ پر سخاوت کی ہے۔ آپ اپنے پیرو مرشد کے منظور نظر مرید و خلیفہ مطلق ہیں۔

آپ اپنے مرشد گرامی کے حکم سے ماہانہ محفل گیارہویں شریف کرواتے ہیں ۔ ختم خواجگان، ذکر و نعت کی محآفل سجاتے رہتے ہیں ۔ ذکر خفی جو نقشبندی مجددی اور سلسلہ سیفیہ کا طریقہ ہے اس پر سختی سے کاربند ہیں۔ اپ کو ذکر اسم ذات اور درود پاک سے بہت لگاو ہے۔ آپ دین کی خدمت میں شب و روز مصروف ہیں ۔ اللہ عزوجل آپ کے علم و عمل میں برکتیں عطا فرمائے اور آپ کو عمر خضری عطا کرے۔امین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم

اسفار[ترمیم]

صاحبزادہ پیر محمد عامر صدیقی السیفی فرما تے ہیں۔ میں الحمد للہ آذاد کشمیر کے تمام اضلاع میں گیا ہوں ۔ اور جہاں کہیں بھی کسی بزرگ کے مزار کا پتہ چلتا ضرور حاضری دیتا تھا۔ بالخصوص میاں صاحب کے مزار مبارک کھڑی شریف تو اکثر حاضری رہی۔ فرماتے ہیں مری میں کافی مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا۔ موہڑہ شریف حاضری لازمی ہوتی۔ گھوڑا گلی اور اس کے گردو نواح میں پہاڑوں کے درمیان ،اوپر کافی بزرگوں کے مزارات ہیں۔ جن پر حاضری ہوئی۔ پہاڑی علاقوں اور پنجاب کے دور دراز علاقوں میں سفر کر کے مزارات پر جانا اپ کی محبت و عقیدت کی دلیل ہے۔ آپ افغانستان، ایران، عراق میں زیارات کے لیے جا چکے ہیں ۔ آپ اولیاء اللہ سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے ہیں ۔ تھوڑا عرصہ پہلے آپ 2016 میں عمان کے وزٹ ویزہ پر صرف اس لیے گئے ۔ کہ وہاں انبیا اکرام علہم السلام اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین و اولیاء رحمتہ اللہ علیھم اجمعین کے مزارات و نشانیاں ہیں۔ آپ فرماتے ہیں صوفیا کے مزارات پر حاضری سے روح کو غذا ملتی ہے۔ اور کوئی فرد بھی خالی واپس نہیں آتا۔

شجرہ طیبہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ سیفیہ[ترمیم]

( صدیقیہ، طیفوریہ، خواجگانیہ، نقشبندیہ، احراریہ، مجددیہ، سیفیہ)

1۔ محبوب رب العالمین سید الکونین ،خاتم النبییں، رحمتہ اللہ العالمیں، امام الانبیاء والمرسلین ابو القاسم حضور سیدنا و مولانا محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم

خلیفة الرسول، امیر المومینین حضرت سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ (سلسلہ صدیقیہ)

3۔ حضرت سیدنا سلمان بن اسلام فارسی رضی اللہ تعالی عنہ۔ تابعی روح اللہ صحابی رسول اللہ

4۔ حضرت سیدنا امام قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ

5۔ امام المتقین حضرت سیدنا ابو محمد امام جعفر الصادق الطاہر شہید رضی اللہ تعالی عنہ

سلطان العارفین حضرت خواجہ طیفور بن عیسی بایزید بسطامی خراسانی رضی اللہ تعالی عنہ۔ (سلسلہ طیفوریہ)

7۔ قطب مدار حضرت خواجہ ابو الحسن علی بن احمد خرقانی رحمتہ اللہ علیہ المعروف خواجہ ابوالحسن خرقانی

8۔ شاہ خراسان حضرت خواجہ ابو علی فضل فارمدی طوسی رحمتہ اللہ علیہ

9۔ غوث یزدانی حضرت خواجہ ابو یعقوب محمد یوسف ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ

10۔ خواجہ خواجگان حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی مالکی۔ رحمتہ اللہ علیہ۔ (سلسلہ عالیہ خواجگان)

11۔ رفیع الدین حضرت خواجہ محمد عارف ریوگری۔ رحمتہ اللہ علیہ

12۔ قطب العارفین حضرت خواجہ محمود انجیر فغنوی رحمتہ اللہ علیہ

13۔ عارف کامل و اکمل حضرت خواجہ عزیزان علی رامیتنی۔ رحمتہ اللہ علیہ

14۔ آفتاب ولایت حضرت خواجہ محمد بابا سماسی۔ رحمتہ اللہ علیہ

15۔ حضرت خواجہ شمس الدین سید امیر کلال۔ رحمتہ اللہ علیہ

16۔ شاہ نقشبند امام طریقہ حضرت خواجہ سید بہاالدین محمد بن محمد البخاری۔ رحمتہ اللہ علیہ۔ (سلسلہ عالیہ نقشبندیہ)

17۔سلطان المشائخ حضرت خواجہ سید علاو الدین عطار محمد بن محمد البخاری۔ رحمتہ اللہ علیہ

18۔ سراج العارفین حضرت خواجہ مولانا یعقوب چرخی افغانی رحمتہ اللہ علیہ

19۔ ناصر الدین حضرت خواجہ عبید اللہ احرار الصدیقی سمرقندی۔ رحمتہ اللہ علیہ۔ (سلسلہ احراریہ)

20۔ جمال الدین حضرت خواجہ مولانا محمد زاہد وخشی۔ رحمتہ اللہ علیہ

21۔۔ قطب عالم حضرت خواجہ درویش محمد خوارزمی رحمتہ اللہ علیہ

22۔ شاہ اہل تصوف حضرت خواجہ مولانا مقتدی امکنگی رحمتہ اللہ علیہ

23۔۔ قدوة الکاملین موئد الدین حضرت خواجہ سید محمد باقی باللہ افغانی۔ المعروف خواجہ بیرنگ رحمتہ اللہ علیہ

24۔۔ امام ربانی محبوب سبحانی، غوث صمدانی، قیوم زمانی، مجدد الف ثانی ، بدرالدین حضرت خواجہ سیدنا الشیخ احمد الفاروقی سرہندی۔ رحمتہ اللہ علیہ ( سلسلہ عالیہ مجددیہ)

25۔ قیوم زماں حضرت خواجہ عروة الوثقی محمد معصوم اول الفاروقی رحمتہ اللہ علیہ

26۔۔ قطب دوراں، غوث زماں حضرت خواجہ الشاہ محمد صبغتہ اللہ فاروقی۔ رحمتہ اللہ علیہ

27۔۔امام العارفین حضرت خواجہ شاہ محمد اسماعیل الفاروقی رحمتہ اللہ علیہ

28۔۔ قطب الاقطاب حضرت خواجہ شاہ غلام محمد معصوم ثانی الفاروقی رحمتہ اللہ علیہ

29۔۔ امام المحدیثین قدوة اولیاء حضرت خواجہ شاہ غلام محمد الفاروقی رحمتہ اللہ علیہ

30۔ قیوم زماں حضرت خواجہ حاجی محمد صفی اللہ رحمتہ اللہ علیہ

31۔۔ غوث العالمین حضرت خواجہ شاہ محمد ضیاء الحق شہید الفاروقی المعروف ایشاں شہید رحمتہ اللہ علیہ

32۔۔ ضیاء الدین حضرت خواجہ حاجی شاہ ضیاء الفاروقی المعروف میاں جی صاحب۔ رحمتہ اللہ علیہ

33۔۔ شمس الدین حضرت خواجہ مولانا شمس الحق کوہستانی الفاروقی۔ رحمتہ اللہ علیہ

34۔۔ جمال الدین حضرت خواجہ مولانا شاہ رسول طالقانی رحمتہ اللہ علیہ

35۔۔ جلال الدین حضرت خواجہ مولانا محمد ہاشم سمنگانی رحمتہ اللہ علیہ

36۔۔ تاجدار سلسلہ سیفیہ، امام خراسان، قیوم زماں، محبوب سبحاں، خواجہ خواجگان حضرت خواجہ آخوند زادہ مولانا پیر سیف الرحمن المبارک رحمتہ اللہ علیہ۔ (سلسلہ سیفیہ)

37۔۔ جگر گوشہ و جانشین امام خراسان، قطب دوراں،سلطان طریقت، بحر حقیقت، قاسم فیضان مجدد الف ثانی ، شیخ الحدیث حضرت آخوند زادہ مولانا الشیخ محمد حمید جان السیفی مدظلہ العالی سجادہ نشین مرکزی آستانہ عالیہ نقشبندیہ سیفیہ ،لاہور

38۔۔ پیر طریقت، رہبر شریعت، واقف رموز حقیقت، منظور نظر جانشین امام خراسان و قطب دوراں حضرت صاحبزادہ پیر محمد عامر صدیقی السیفی مدظلہ العالی آستانہ عالیہ نقشبندیہ، صدیقیہ ،سروریہ شریف ،بسطامی روڈ، کالج روڈ ،ڈسکہ، ضلع سیالکوٹ،پاکستان