صادق محمد خان سوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صادق محمد خان سوم
مناصب
نواب ریاست بہاولپور (7 )   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
19 اکتوبر 1852  – 20 فروری 1853 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد بہاول خان سوم 
فتح محمد خان  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 1861  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نواب صادق محمد خان سوم (سعادت یار خان) (وفات 1861ء) ریاست بہاولپور کے ساتویں نواب تھے۔ آپ محمد بہاول خان سوم کے بیٹے تھے۔ آپ کو نواب نے اپنی زندگی میں ولی عہد نامزد کیا تھا۔ آپ نے صرف چار ماہ حکمرانی کی اس کے بعد آپ کو صاحبزادہ حاجی خان (نواب فتح محمد خان) نے معزول کر کے قید کر لیا تھا۔

سلسلہ نسب[ترمیم]

نواب آف بہاولپور عباس بن عبد المطلب کے خاندان سے ہیں ان کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے

ولی عہدی[ترمیم]

بورڈ آف کنٹرول کے ارکان مسٹر Hansel اور مسٹر جان لارنس کی دعوت پر نواب محمد بہاول خان سوم، صاحب زادہ سعادت یار خان، مبارک خان، محمد خان اور ریاست کے دیگر امرا کے ہمراہ (1100 پیدل، 400 سواروں اور 2 توپوں سمیت ) ملتان کے دورے پر آیا۔ 31 دسمبر 1851ء کو لارڈ ڈلہوزی سے ملاقات کی جس میں ملتان مہم میں خدمات انجام دینے پر نواب محمد بہاول خان سوم کا شکریہ ادا کیا گیا۔ اس ملاقات میں نواب نے ایک خریطہ پیش کیا جس میں چار درخواستیں کی گئی تھیں

  1. صاحبزادہ حاجی خان کی بجائے سعادت یار خان کو اس کا وارث تسلیم کیا جائے
  2. نواب محمد بہاول خان سوم کو ایک لاکھ روپے سالانہ وظیفے کی بجائے زمین بطور جاگیر دی جائے
  3. قبل ازیں انواب محمد بہاول خان سوم کو رنجیت سنگھ سے اجارہ میں ملنے والے علاقے (دریاؤں کے پار) اسے پٹے پر دیے جائیں ۔
  4. نواب محمد بہاول خان سوم کو عطا کردہ کوٹ سبزل علاقے کو روہڑی تک توسیع دی جائے گی جیسا کہ جزل نیپیر نے وعدہ کیا تھا۔

18 جنوری کو لارڈ ڈلہوزی نے اپنے جواب میں سعادت یار خان کو ولی عہد مان لیا اور اسے 21 خلعتوں سے نوازا۔

دستار بندی[ترمیم]

چونکہ مرحوم نواب محمد بہاول خان سوم نے سعادت یار خان کو ولی عہد مقر کیا تھا اورحکومت ہند نے اس کی نامزدگی کوتسلیم کیا تھا اس لیے وہ نواب محمد بہاول خان سوم کی وفات کے بعد کسی مسئلے کے بغیرتخت بر بیٹھ گیا۔ نئے نواب کی دستار بندی مورخہ 5 محرم الحرام بمطابق 19 اکتوبر 1852ء کو ہوئی۔ 28 محرم (11 نومبر 1852ء) کو اُچ کے گیلانی مخدوم (گنج بخش)، بخاری مخدوم نو بہار اور چاچڑاں شریف کے خدا بخش نے دراوڑ میں نئے نواب کے سر پر دوسری دستار باندھی۔ صاحبزادہ سعادت یار خان نے نواب صادق محمد خان سوم کا نام اپنایا۔

کابینہ[ترمیم]

نواب صادق محمد خان سوم نے درج ذیل تقرریاں کیں۔

  • وزیر اعظم : منشی چوکاس رائے
  • توشہ خان کا نگران : لالہ سلامت رائے
  • میر منشی : لال خان چند
  • دیوان کا چیف : ملا جیون
  • ناظم خان پور : معزالدین خاکوانی

زوال کے اسباب[ترمیم]

نواب صادق محمد خان سوم کا طرز عمل جلد ہی اس کے زوال کا سبب بن گیا۔

  1. نواب صادق محمد خان سوم نے اپنے باپ کی زندگی میں ہی صاحب زادہ حاجی خان (نواب فتح محمد خان) کو دین گڑھ قلعے میں نظر بند کروادیا تھا اور اپنی دستار بندی کے اگلے دن ہی اس نے اسے دراوڑ سے 18 میل جنوب کی طرف فتح گڑھ بھجوا دیا اور نہایت سخت رویہ اپنایا۔ اسے زندہ رہنے کے لیے روزانہ صرف ایک بہاولپوری روپیہ اور بارہ چھٹاک آٹا دیا جاتا تھا۔ صرف ایک خادم اس کی خدمت پر مامور تھا اور ایک محافظ ہر وقت ننگی تلوار لیے اس کے سر پرپہرہ دیتا رہتا۔ اس سلوک نے داؤد پوتروں میں نفرت کی آگ کو ہوا دی۔
  2. صاحبزادہ حاجی خان کے دیگر بھائیوں کو بھی محصور اور زیرنگرانی رکھا گیا۔
  3. 11 محرم کونواب صادق محمد خان سوم نے متعدد حکام کو برطرف کیا جن میں کیپٹن ہول بھی شامل تھا جس نے ملتان میں ریاست کے لیے بہت اچھی خدمات انجام دی تھیں اور ان میں جمعدار احمد خان ملیزئی ( نواب محمد بہاول خان چہارم کا وزیر) بھی شامل تھا۔ موخر الذکر کو اہل خانہ سمیت وطن بدر کر دیا گیا۔
  4. نواب صادق محمد خان سوم نے فقیر سراج الدین کو بھی صاحبزادہ حاجی خان کے ساتھ مل کر سازش کرنے کا الزام دیا۔ فقیر سراج الدین گرفتاری سے بچنے کی خاطر یکم ربیع الثانی کو ریاست چھوڑ کر چلا گیا۔
  5. سر ہنری لانس نے نواب صادق محمد خان سوم کو اخراجات کم کرنے کی ہدایت کی تھی جس پر عمل کرنے کی وجہ سے متعدد گھوڑ سوار فارغ کر دیے گئے اور چند ایک خادم ہی نواب کے پاس رہ گئے۔ داؤد پوتروں اور دیگر کوتخت نشینی کے موقع پر دیے جانے والے تحائف گھٹادیے گئے اور حقوق یا دعووں سے صرف نظر کیا گیا۔

ان اقدامات کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان میں کافی بے چینی پیدا ہوئی۔ کیٹین ہول، سراج الدین اور دیگر پناہ گزینوں نے آدم واہن کو لما کے امیروں اور داؤد پوتروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا گڑھ بنایا۔ ان سب کا مقصد یہ تھا کہ عقیل خان، سردار خان اور احسن خان کی مدد سے صاحبزادہ حاجی خان کو تخت پر بیٹھایا جائے۔

صاحبزادہ حاجی خان کی رہائی[ترمیم]

نواب صادق محمد خان سوم کے خلاف سازش کرنے والوں نے بنگل خان، بہرام خان چوندیا، علی بخش دستی، احمد خان دستی، خدا بخش خان ہالانی، اللہ بچایا خان، محمد یار خان اور خان محمد خان کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور سب سازشیوں نے قرآن پر حلف لیا کہ شہزادہ حاجی خان کو بچائیں گے۔ چنانچہ 29 ربیع الثانی 1269ھ کو وہ ایک سو داؤد پوتروں کو لے کر فتح گڑھ کے لیے روانہ ہوئے اور رات کے وقت قلعے کے پھاٹک میں نقب لگانا شروع کی۔ قلعے کی فوج نے خوف زدہ ہو کر دروازے کھول دیے۔ داؤد پوتروں کے داخل ہونے پر ایک ہندو نے صاحبزادہ حاجی خان کو ہلاک کرنے کی کوشش کی لیکن علی بخش دستی نے اس کی کوشش ناکام بنا دی۔ علی بخش دستی حملہ آور سے چھینی ہوئی تلوار کا وار کر کے اسے مار ہی ڈالتا لیکن شہزادے نے مداخلت کر کے بچا لیا۔ سازشی شہزادے کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر تین میل تک لے گئے۔ اس کے بعد اونٹ پر سوار کر کے خان پور پہنچایا جہاں سراج الدین، کیپٹن ہول اور غلام محمد خان ملیزئی ( جمعدار احمد خان کا بھائی) بھی ان سے آملے۔ دیگر داؤد پوترے اور لما کے چھوٹے موٹے امیر بھی آئے۔

بغاوت کے منصوبے[ترمیم]

صاحبزادہ حاجی خان کی رہائی کی خبر 9 فروری کو نواب صادق محمد خان سوم تک پہنچی اور اسے مشورہ دیا گیا کہ فوراً حاجی خان کے تعاقب میں روانہ ہو جائے لیکن اس نے تمام مشوروں کو رد کرتے ہوئے خان پور کے حکام کو ہی احکامات جاری کرنے پر ہی اکتفا کیا کہ شہزادے کو حراست میں لے لیا جائے۔ نواب کا یہ حکم کوئی کارروائی عمل میں لانے کے قابل نہیں ہوا کیونکہ حاجی خان اس جگہ پر پہلے ہی ایک نیا کمانڈر تعینات کر چکا تھا۔ جب صاحبزادہ حاجی خان کافی رسد، توپ خانے اور اسلحے کے ساتھ پانچ ہزار آدمیوں کی فوج جمع کر چکا تھا تب نواب نے محمد خان غوری کو اپنی افواج کا قائد بنایا اور جمعدار معز الدین خان خاکوانی کو اسی ہزار روپے دیے تا کہ سپاہیوں کو اکٹھا کیا جائے نیز حاجی خان کے ساتھیوں کو ورغلانے کے لیے سرفراز خان کو بھی اتنی ہی رقم دی گئی۔ تین دن بعد ساری فوج کی کمان معز الدین کو سونپی گئی اور فتح محمد کو کچھ دستوں کے ہمراہ احمد پور ایسٹ (شرقیہ) میں تعینات کر دیا گیا۔ حاجی خان نے سعادت یار خان کے افسروں کو خطوط بھیجے اور زیادہ تر کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ صرف احمد پور ایسٹ (شرقیہ) کا تھانہ دار اور منشی سلامت رائے نے قاصدوں کو قید کر لیا۔ ان خطوط نے نواب کو شک میں مبتلا کر دیا کہ اس کے تمام افسران کو ورغلایا گیا ہو گا۔ نواب نے سلامت رائے کو مشن سونیا کہ اُبھا کے داؤد پوتروں کے ساتھ اتحاد کو مزید تقویت دی جائے لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ فوج میں جمعدار معز الدین، شیرعلی شاہ، یوسف علی شاہ جبکہ دربار ہوں میں راجن بخش، سید خدا بخش، علی گوہر خان اور محمد رضا خان نے صاحبزادہ حاجی خان کو خفیہ طور پر یقین دہانی کروائی کہ اگر وہ احمد پور ایسٹ (شرقیہ) میں داخل ہوا تو کوئی مدافعت نہیں کی جائے گی۔

حاجی خان کی بغاوت[ترمیم]

12 فروری 1853ء کو نواب کی افواج گوٹھ چی پہنچیں جہاں انہیں احمد خان دشتی اور بہرام خان چانڈیا کی زیر قیادت ایک بڑی فوج مخالفت کے لیے تیاری ملی۔ نواب کے سپہ سالاروں نے ہدایات مانگیں کہ آیا رکاوٹ ڈالیں یا انتظار کرنے کی پالیسی کے ذریعے دشمن پر ہیبت طاری کریں۔ جواب میں نواب نے معز الدین اور سردار خان لکوزئی کو حکم بھیجا کہ ہر سپاہی کو ایک گریجوئیٹی دیں اور یوں انہیں دشمن پر غلبہ پانے کی ترغیب دلائیں لیکن نواب کے احکامات ایمان داری سے آگے نہ پہنچائے گئے کیونکہ سرفراز خان نے کیولری کو ان کی گریجوئیٹی تو ادا کر دی لیکن انفنٹری کو کچھ بھی نہ ملا تو انہوں نے نواب کی مخالفت کا حلف اٹھایا۔ 15 فروری کو فقیر سراج الدین، علی گوہر خان اور احمد خان چونڈیا نے چار ہزار آدمیوں کے ہمراہ گوٹھ چینی کی طرف مارچ کیا اور نواب کی افواج کو مختلف وعدوں کے ذریعے بہانے پھسلانے لگے۔ نتیجتاً 17 فروری کو جھانسے میں آئے ہوئے سپاہی پانچ توپوں سمیت حاجی خان کے پاس چلے گئے جبکہ ان کے افسران (جن میں سے کچھ ایک پہلے ہی اس کی طرف مائل ہو چکے تھے ) اپنے گھروں کی طرف نکل گئے۔ 18 فروری کو حاجی خان خان پور کے معاملات سلجھانے کے بعد چودھری کے مقام پر پہنچا۔ راستے میں ملنے والے لوگوں نے اظہار اطاعت کیا۔ 19 فروری کو غروب آفتاب کے وقت وہ احمد پور ایسٹ (شرقیہ) میں داخل ہوا۔ شہر میں چراغاں کیا گیا اور سلامی کی توپیں فائز ہوئیں ۔ یہاں حاجی خان نے نواب فتح محمد خان کا خطاب اختیار کیا۔ 20 فروری کو قلعہ دراوڑ کی فوج نے نئے نواب کو پیغام اطاعت بھیجا۔ اس نے فقیر سراج الدین کو اپنی افواج کا کمان دار تعینات کرتے ہوئے حکم دیا کہ دراوڑ پر قبضہ کیا جائے ۔ اس کے وہاں پہنچنے پر قلعے کی فوج اس کے ساتھ مل گئی اور قلعہ بغیر مدافعت کے فتح ہو گیا

نواب کی گرفتاری[ترمیم]

منشی چوکس رائے اپنے اہل خانہ سمیت قلعے سے فرار ہوتے ہوئے پکڑا گیا اور اس کے قبضے سے دس ہزار طلائی مہریں اور زیور برآمد ہوئے۔ صلح نامہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لاہور جا کر انگریزوں سے مدد مانگنا چاہتا تھا۔ دراوڑ کی تسخیر کے بعد نواب صادق محمد خان سوم کو غلے کے ایک گودام میں قید کر لیا گیا اور اس کے حامیوں کو بیڑیاں ڈال دی گئیں۔ نیا نواب 22 فروری کو دراوڑ میں فاتحانہ داخل ہوا اور سعادت یار خان کی جان بخش دی۔

معزول نواب کے متعلق احکامات[ترمیم]

دستار بندی کے بعد نواب فتح محمد خان نے معزول نواب صادق محمد خان سوم کو بھانڈا (غلے کا گودام) سے نکال کر ایک راحت بخش مکان میں زیر حراست رکھا گیا۔ معزول نواب نے اپنے زیر قبضہ تاج اور زیور نواب فتح محمد خان کو بھیج دیے۔ نواب فتح محمد خان نے کمال فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف وہ سب واپس بھیج دیا بلکہ مزید کئی تحائف بھیجے اور بہت سے خادم بھجوائے نیز یقین دلایا کہ اس کے ساتھ رویے میں کوئی فرق نہیں آئے گا ماسوائے اس کے کہ وہ نظر بند رہے گا۔ نواب فتح محمد خان نے معزول نواب کے دیگر بھائیوں کو بھی رہا کر دیا اور ان کے ساتھ مہربانی سے پیش آئے۔

ملتان منتقلی[ترمیم]

5 مارچ 1853ء کو مقامی پولیٹکل ایجنٹ پیر ابراہیم خان نے نواب کو پنجاب کے چیف کمشنر سر جان لارنس کی طرف سے آیا ہوا ایک خط پیش کیا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ معزول نواب کو اہل خانہ سمیت ملتان بھیج دیا جائے۔ نواب نے جواب میں لکھا کہ اسے برطانوی حکومت کا حکم ماننے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں لیکن بہ امر حقیقت اس نے تخت پر بالکل جائز حق جتایا تھا اور وہ سعادت یار خان (نواب صادق محمد خان سوم) کا جانی دشمن نہیں تھا نیز اگر برطانوی حکام معزول نواب کو لاہور یا جالندھر بھیج دے تو اسے کوئی اعتراض نہ ہو گا لیکن برطانوی حکام کو نواب فتح محمد خان کو بہاولپور کا حکمران تسلیم کرنا ہو گا۔ ملتان کا کمشنر مسٹر پی ایم ایجورتھ 30 مارچ کو بہاولپور پہنچا۔ نواب نے کمشنر سے درخواست کی کہ سعادت یار خان کو برطانوی حکام کے حوالے کر دینے کے لیے وہ تیار ہے بشرطیکہ وہ اپنے دعووں سے دست بردار ہو جائے اور اس سلسلے میں ایک باقاعدہ معاہدے پر دستخط کرے۔ چنانچہ سعادت یار خان کو یکم اپریل کو بہاولپور لایا گیا۔ مسٹر ایجورتھ نواب فتح محمد خان کی خواہش پر پیر ابراہیم خان کے ساتھ معزول نواب کے کیمپ میں گیا اور اسے بتایا کہ برطانوی حکام کی ہدایات کے مطابق اسے درج ذیل شرائط پر رہا کیا جاسکتا ہے

  1. اسے ریاست کے خزانے سے 1600 روپے ماہانہ بطور پنشن ملیں گے
  2. وہ لاہور یا جالندھر میں رہنے کا انتخاب کر سکتا ہے۔

معزول نواب نے یہ شرائط قبول کر لیں لیکن درخواست کی کہ اس کے بھائی اور ماں کو ساتھ ہی رہنے دیا جائے۔ شروع میں تو نواب فتح محمد خان نے اس درخواست پر اعتراض کیا لیکن انجام کارمسٹرایجورتھ کی سفارش پر راضی ہو گیا۔

  • عوامی دربار2 اپریل کو دوبارہ منعقد ہوا۔ ملتان کے کمشنر نے معزول نواب کی رہائی کی شرائط پڑھ کر سنائیں۔ اس کی دست برداری کا معاہدہ دستخط کروانے کے بعد فتح محمد خان کو دیا اور ایک نقل اپنے پاس رکھ لی۔ اسی دن شام کو سعادت یار خان اور اس کے اہل خانہ کو 100 سواروں کے محافظ دستے کے ہمراہ ملتان بھیجا گیا۔ بہاولپور شہر میں اس رات چراغاں ہوا اور سلامی کی توپیں فائر کی گئیں۔ برطانوی حکومت نے نئے نواب کوخلعت بھی بھیجی۔

داؤد پوتروں کے نام خط[ترمیم]

لاہور کے قلعے میں نظر بند سعادت یار خان کو دست برداری پر پچھتاوا ہوا کیونکہ اب اس کا نصف الاونس معطل کر دیا گیا۔ اس نے جیل سے ہی ایک خط داؤد پوتروں کے نام لکھا جونواب تک پہنچ گیا۔

وفات[ترمیم]

نواب صادق محمد خان سوم نے لاہور میں نظر بندی کی حالات میں ہی 1861ء میں وفات پائی۔ نواب کی تدفین لاہور میں ہی کی گئی۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. گزیٹر آف ریاست بہاولپور 1904ء مولف محمد دین اردو مترجم یاسر جواد صفحہ 231
  2. گزیٹر آف ریاست بہاولپور 1904ء مولف محمد دین اردو مترجم یاسر جواد صفحہ 93 تا 101