صادق محمد (کرکٹ کھلاڑی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صادق محمد ٹیسٹ کیپ نمبر61
Sadiq Muhammad.jpeg
کرکٹ کی معلومات
بلے بازیبائیں ہاتھ کے بلے باز
گیند بازیلیگ بریک گوگلی بولر
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ
میچ 41 19
رنز بنائے 2579 383
بیٹنگ اوسط 35.81 21.27
100s/50s 5/10 0/2
ٹاپ اسکور 166 74
گیندیں کرائیں 33.2 6.2
وکٹ 0 2
بولنگ اوسط n/a 13.00
اننگز میں 5 وکٹ 0 0
میچ میں 10 وکٹ 0 n/a
بہترین بولنگ n/a 2/20
کیچ/سٹمپ 28/0 5/0
ماخذ: [1]، 4 جنوری 1981

صادق محمدانگریزی:Sadiq Mohammad(پیدائش:3مئی 1945ءجوناگڑھ، گجرات، بھارت) پاکستانی کے کرکٹ کھلاڑی ہیں اور مشتاق محمد اور حنیف محمد کے چھوٹے بھائی ہیں[1]انہوں نے 41 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی جبکہ 19 ایک روزہ بین الاقوامی میچز بھی کھیل چکے ہیں۔ پانچ محمد بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور نرم بولنے والا صادق محمد ہی تمام بھائیوں میں بائیں ہاتھ سے کھیلنے والا تھا، جس کے لیے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی تھی کیونکہ باقی چاروں دائیں ہاتھ والے تھے۔ اس کے قدرتی دائیں ہاتھ کا مطلب تھا کہ وہ ایک مضبوط کلائی والا آف سائیڈ کھلاڑی تھا، لیکن وہ ایک مضبوط کھینچنے والا بھی تھا کیونکہ اسے تیز رفتار مردوں سے مقابلہ کرنا پسند تھا۔ اپنے زیادہ مشہور بھائیوں حنیف محمد اور مشتاق محمد کی طرح صادق محمد بھی متاثر کن کھیل پیش کرنے والے تھے اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ صادق محمد کی ٹیم میں جگہ ان کے خاندانی روابط کی وجہ سے بنتی رہی، لیکن مشکل وقت میں اوپنر کے طور پر اس کا ریکارڈ بتانے کے لیے کافی ہے کہ وہ انہی صلاحیتوں کا مالک تھا جس سے اس کے دوسرے بھائی مزین تھے۔

کھیلوں سے محبت ورثے میں ملی[ترمیم]

صادق محمد کو کھیلوں سے محبت ورثے میں ملی ان کی والدہ امیر بی سابقہ ہندوستان میں بیڈ منٹن چیمپئین تھیں جبکہ ان کے والد کھیلوں سے بھرپور شغف رکھتے تھے صادق محمد نے 50ء کی دہائی میں جب وہ ابھی بچپن کی حدود کراس کر رہے تھے تو انہوں نے پہلا کرکٹنگ آٹوگراف مشہور برطانوی کھلاڑی ڈینس کامپٹن کا لیا تھا جب وہ کراچی میں تھے کیونکہ ان کے طیارے کو کسی خرابی کی وجہ سے ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔اسی طرح صادق محمد نے بتایا تھا کہ انہوں نے پہلی بار کرکٹ میدان میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 1976-77ء کی سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میں گیند بلے باز کے بلے کو لگ کر دوسری سلپ کے آس پاس ہمارے وکٹ کیپر وسیم باری کے ہاتھوں کیچ ہو گئی۔ اینڈی رابرٹس بلے باز تھے انہوں نے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ نہیں کیا اور امپائر نے بھی انگلی نہیں اٹھائی تھی۔ میں نے رابرٹس سے چند الفاظ کہے۔ میں نے اس سے کہا، "یہ صریح دھوکہ ہے" صادق محمد کی کرکٹ میں اپنے پسندیدہ کھلاڑی نیل ہاروے سے 1972-73ء میں پاکستان کے دورہ آسٹریلیا کے دوران ملاقات کی جس پر ان کو ہمیشہ فخر رہا۔

ٹیسٹ ڈیبیو سے ایک رات قبل[ترمیم]

ان کا ٹیسٹ ڈیبیو 1969ء میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ تھا، جو اس لحاظ سے ایک اہم واقعہ بھی تھا کہ اس نے اپنے بھائی حنیف محمد کے ساتھ اننگ کا آغاز کرنا تھا کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو میں صادق محمد نے بتایا تھا کہ اپنے پہلے ٹیسٹ میچ سے ایک رات پہلے۔ میں نے سوچا کہ بھائی حنیف محمد کے ساتھ بلے بازی کرنا بہت مشکل ہو گا اور میں نے سوچا کہ اگر میں اچھا نہیں کروں گا تو انگلیاں اٹھیں گی۔ کرکٹ کا پہلا مشورہ مجھے میرے بھائی مشتاق محمد کی طرف سے تھا۔ انہوں نے کہا: وکٹ پر رہنے کی کوشش کریں رنز آئیں گے۔ صرف اس مخصوص گیند کو زندہ رہنے کے لیے توجہ کے قابل سمجھیں جو آپ کو پیویلین بجھوا سکتی ہے انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ 1981ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھے ٹیسٹ میں کھیلا۔ انہوں نے گلوسٹر شائر کے لیے کاؤنٹی کرکٹ کھیلی[2]

ٹیسٹ کیرئیر[ترمیم]

صادق محمد نے 1969ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا۔ نیوزی لینڈی کی ٹیم پاکستان کے دورہ پر تھی۔ صادق محمد اپنے ہوم گرائونڈ کراچی میں میدان میں اترے۔ پہلی اننگ میں 69 اور دوسری اننگ میں 37 رنز کی باریاں دیکھنے کو حیران کرگئیں۔ لاہور کے دوسرے ٹیسٹ میں 16 اور 17 اور ڈھاکہ کے تیسرے ٹیسٹ میں 21 اور 3 کے ساتھ انہوں نے سیریز کا اچھا اختتام کیا۔ کراچی کے پہلے ٹیسٹ میں جب وہ اوپننگ کیلئے اپنے بھائی حنیف محمد کے ساتھ میدان میں اترے تو ان کا شمار ان چند کھلاڑیوں میں ہونے لگا جب دو بھائیوں نے کسی ایک اننگ میں کھیل کا آغاز کیا ہو۔ انہوں نے پہلی وکٹ پر 55 رنز اور دوسری وکٹ پر یونس احمد کے ساتھ 56 رنز کی شراکت قائم کی۔ انہوں نے دوسری اننگ میں ایک بار پھر حنیف محمد کے ساتھ 75 رنز کی شراکت مہیا کی۔ یہ ٹیسٹ ڈرا ہوگیا تھا۔ اس سیزن کے بعد 2 سال کے انتظار کے بعد انہیں انگلستان کے دورے پر 1971ء میں جانے والی قومی ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ لارڈز کے تیسرے ٹیسٹ میں انہوں نے دوسری اننگز میں 91 رنز سکور کئے۔ اگرچہ انگلستان یہ ٹیسٹ میچ 25 رنز سے جیت گیا تاہم نوجوان صادق محمد نے دوسری اننگ میں 220 بالوں پر 241 منٹ میں 91 رنز بنائے۔ ظہیر عباس 0' مشتاق محمد 5' سعید احمد 5۔ اگر وکٹ پر قیام کرتے تو پاکستان اس ٹیسٹ میں یقینی شکست سے بچ جاتا۔ اگلے ہی سیزن میں جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا کے دورے پر پہنچی تو صادق محمد کیلئے یہ ایک اچھا دورہ ثابت ہوا۔ ایڈیلیڈ کے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 81 رنز بنا کر انہوں نے اپنے فارم میں آنے کا عندیہ دے دیا تھا۔ اسی لئے میلبورن کے دوسرے ٹیسٹ میں انہوں نے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری 137 بنا ڈالی۔ انہوں نے سعید احمد کے ساتھ پہلی وکٹ پر 128 رنز کی سنچری شراکت میں بھی شرکت کی اور پاکستان کا سکور 8 وکٹ پر 574 رنز رہا۔ ماجد خان نے 158 رنز سکور کئے۔ صادق محمد دوسری اننگز میں صرف 5 رنز بنا سکے جبکہ سڈنی کے ٹیسٹ میں بھی وہ 30 اور 6 تک محدود رہے۔ اس دورے کے بعد پاکستان کی اگلی منزل نیوزی لینڈ تھی جہاں ولنگٹن کا تیسرا ٹیسٹ ہی ان کے کیریئر کا نکتہ عروج ثابت ہوا۔ صادق محمد نے 362 منٹ میں 166 رنز کی بے مثال اننگ کھیلی۔ ماجد 79 اور آصف اقبال 39 کی مدد سے پاکستان نے 357 کا بڑا ہدف بنا لیا۔ دوسری اننگ میں صادق محمد ایک بار پھر کریز پر طویل قیام کا ارادہ رکھتے انہوں نے 161 منٹ میں 7 چوکوں کی مدد سے 68 رنز کی اننگ کھیلی۔ ڈونیڈن کے دوسرے ٹیسٹ میں انہوں نے واحد اننگ میں 61 رنز بنائے جبکہ آکلینڈ کے آخری ٹیسٹ میں 33 اور 38 کی باریاں کھیل ڈالیں۔ 1973ء میں ہی انگلستان کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ لاہور کے پہلے ٹیسٹ میں صادق محمد نے ایک بار پھر تیسرے ہندسے تک رسائی حاصل کی۔ 370 منٹ میں 14 چوکوں کی مدد سے 119 رنز بنائے۔ دوسری طرف آصف اقبال نے بھی 102 رنز بنا کر پاکستان کے سکور کو 422 تک لے جانے میں مدد کی تاہم دوسری اننگ میں وہ صرف 9 رنز کی بنا سکے۔ حیدر آباد سندھ کے ٹیسٹ میں 30 رنز پر ہی پویلین لوٹ گئے تاہم کراچی کے تیسرے ٹیسٹ میں انہوں نے 248 منٹ میں 9 چوکوں کی مدد سے 89 سکور کئے تھے۔ ماجد خان 99 اور مشتاق محمد 99 کے ساتھ تینوں اس لحاظ سے بدقسمت رہے کہ وہ سنچریاں نہ کرسکے۔ 1974ء میں پاکستان ایک بار پھر انگلستان کے دورے پر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کیلئے گیا جس میں صادق محمد کی کارکردگی ملی جلی رہی۔ 28,12' 40,43' 21,4 ہی ان کے بلے سے نمودار ہونے والے رنز تھے۔ 1975ء میں پاکستان کا دورہ کرنے والی ویسٹ انڈیز کے خلاف انہیں کراچی کے ٹیسٹ میں ایک بار پھر اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملا۔ انہوں نے پہلی اننگ میں 27 لیکن دوسری باری میں آئوٹ ہوئے بغیر 98 رنز بنا کر ایک بار پھر سنچری سے دوری اختیار کی۔ 1976ء میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تو انہوں نے حیدر آباد سندھ کے ٹیسٹ میں 103 ناقابل شکست رنز بنا کر اپنی صلاحیتوں کا خوبصورت اظہار کیا۔ اسی طرح 1977ء میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کا دورہ کیا تو صادق محمد نے میلبورن کے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے خلاف 105 رنز کی خوبصورت اننگ کھیلی۔ اس طرح ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف سپین میں 81 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا۔ مجموعی طور پر ویسٹ انڈیز کے خلاف ان کی کارکردگی ملی جلی رہی۔ اسی سیزن میں انگلستان کے خلاف ہوم سیریز میں وہ کوئی خاص بڑی اننگ کھیلنے میں کامیاب نہیں ہوئے تاہم 1978ء میں پاکستان نے انگلستان کا دورہ کیا تو انہوں نے برمنگھم میں 79 اور لیڈز کے تیسرے ٹیسٹ میں 97 رنز پر آئوٹ ہوکر ایک بار پھر سنچری سکور کرنے کا سنہری موقع ضائع کردیا۔ 1978ء میں فیصل آباد کے ٹیسٹ میں بھارت کے خلاف 41 اور 16 اگرچہ اتنی اچھی پرفارمنس نہ تھی مگر انہیں پھر بھی سال کے آخر میں بھارت کا دورہ کرنے والی قومی ٹیم کا حصہ بنا دیا گیا۔ کانپور کے پہلے ٹیسٹ میں 47 اور چنائی کے دوسرے ٹیسٹ میں 46 رنز بنانے کے باوجود کولکتہ کے تیسرے ٹیسٹ میں بھی ٹیم میں شامل رکھا گیا تاہم وہ کوئی قابل ذکر اننگ ترتیب نہ دے سکے[3]

1980ء ویسٹ انڈیز کے خلاف آخری سیریز[ترمیم]

1980ء میں جب ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم نے کلائیو لائیڈ کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا تو صادق محمد آخری بار ہمیں پاکستان کی نمائندگی کرتے نظر آئے۔ لاہور میں پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے جاوید میانداد کی قیادت میں 369 رنز سکور کئے۔ صادق محمد صرف 19 رنز تک محدود رہے تاہم عمران خان 123' وسیم راجہ 76 اور سرفراز نواز 55 کی مدد سے یہ ہدف مقرر ہوا۔ صادق محمد نے لاہور ٹیسٹ میں 19 اور 28 تک ہی پہنچ پائے جبکہ کراچی کے دوسرے ٹیسٹ میں دوسری اننگ میں 36 رنز سے آگے نہ بڑھ سکے جبکہ ملتان کے تیسرے ٹیسٹ میں جو ان کے ٹیسٹ کیریئر کا آخری ٹیسٹ تھا انہیں ویسٹ انڈین بولر نے صرف 3 رنز ہی بنانے دیئے۔ اس طرح کرکٹ کے میدانوں پر جابجا رنزوں کی بہاریں سجانے والے صادق محمد اپنے ٹیسٹ کیریئر کی آخری سیریز میں صرف 86 رنز بنا سکے۔

اعدادوشمار[ترمیم]

صادق محمد نے 41 ٹیسٹ میچ کھیلے جن کی 74 اننگز میں 2 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر انہوں نے 2579 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا۔ 35.81 کی اوسط سے بننے والے اس رنز میں 166 ان کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ 5 سنچریاں اور 10 نصف سنچریاں ان کے بلے سے سکور ہوئی تھیں جبکہ 28 کیچز بھی ان کے ریکارڈ کا حصہ تھے۔ صادق محمد نے 19 ایک روزہ میچز کی 19 اننگز میں ایک مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر 383 رنز سکور کئے جس میں 74 ان کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور تھا۔ 21.27 کی اوسط سے بنائے جانے والے اس مجموعہ میں 2 نصف سنچریاں اور 5 کیچ بھی شامل تھے جبکہ 387 فرسٹ کلاس میچوں کی 684 اننگز میں 40 مرتبہ بغیر آئوٹ ہوئے صادق محمد نے 24160 رنز 37.51 کی اوسط سے بنائے۔ 203 ان کا کسی ایک اننگ کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ 50 سنچریاں اور 121 نصف سنچریاں اور 326 کیچز بھی اس طرز کرکٹ میں اس کے ریکارڈ میں شامل ہیں[4]

کوچنگ کا کیرئیر[ترمیم]

صادق محمد نے 2010ء کے ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ بھی کی۔

ایمپائرنگ کیرئیر[ترمیم]

انہوں نے 2000ء میں ایک ون ڈے میچ میں امپائرنگ کی۔

صحت کے مسائل[ترمیم]

صادق محمد کا این آئی سی وی ڈی میں ہارٹ پروسیجر کامیاب ہو گیا، دوران علاج سابق کرکٹر کے دل کے وال بند ہونے کی تشخیص ہوئی تھی۔صادق محمد کا سینہ چاک کئے بغیر جدید طریقہ کار سے دل کا پروسیجر کیا گیا، ڈاکٹرز نے صادق محمد کو بغیر سینہ چاک کیے پروسیجر کا مشورہ دیا تھا۔پروفیسر ڈاکٹر طاہر صغیر اور ٹیم نے صادق محمد کا پروسیجر کامیابی سے سرانجام دیا، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ صادق محمد ہارٹ پروسیجر کے بعد تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر کو ضروری ٹیسٹ کرانے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کردیا جائے گا اس موقع پر صادق محمد کا کہنا تھا کہ بہترین اور مفت علاج کرنے پر حکومتِ سندھ اور این آئی سی وی ڈی کا شکر گزار ہوں۔

حوالہ جات[ترمیم]