صادق ہدایت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صادق ہدایت

Sadeq Hedayat

Hedayat113.jpeg
پیدائش 17 فروری 1903ء (1903ء-02-17)تہران، ایران
وفات 4 اپریل 1951ء (1951ء-04-04)پیرس، فرانس
قلمی نام صادق ہدایت
پیشہ مصنف
زبان فارسی، فرانسیسی
قومیت  ایران
نسل ایرانی
صنف ناول، افسانہ، ڈراما، تنقید
نمایاں کام بوف کور
سہ قطرہِ خون
زندہ بگور
حاجی آغا

صادق ہدایت اس آڈیو کے متعلق listen (17 فروری 1903ء - 4 اپریل 1951ء) ایرانی مصنف، مترجم اور دانشور ہیں جنہوں نے ایرانی ادب میں جدید تکنیک متعارف کرائی۔ انہیں بلاشبہ بیسویں صدی کے عظیم مصنفین میں شمار کیا جاتا ہے۔[1]

حالات زندگی[ترمیم]

صادق ہدایت 17 فروری 1903ء کو ایران کے دارالحکومت تہران میں اونچے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ہدایت نے ابتدائی تعلیم تہران میں حاصل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ چلے گئے جہاں بلجیم میں انجنیئرنگ اور فرانس میں دندان سازی کی تعلیم حاصل کی[1]۔ یہاں انہیں افسانہ نگاری سے لگاؤ پیدا ہوا۔ چنانچہ قیامِ یورپ کے دوران انہوں نے متعدد افسانے لکھے۔ جو بعد میں "زندہ بگور" اور "سہ قطرہِ خون" کے نام سے چھپے۔ 1930ء میں وہ تہران واپس آگئے۔ قدیم ایران سے بے پناہ محبت اور مقامی ماحول سے بے زاری کے نتیجے میں 1936ء میں وہ تہران چھوڑ کر بمبئی پہنچے۔ یہاں انہوں نے فرانسیسی زبان میں دو افسانے لکھے جو بقول ایک فرانسیسی ادیب "پاستوروالری" ان کی بہترین تخلیقات میں سے ہیں۔ بمبئی ہی میں انہوں نے اپنے شاہکار ناول "بوف کور" کی تکمیل کی جو رضا شاہ پہلوی کی تخت سے دستبردارے کے بعد تہران کے اخبار "روزنامہ ایران" میں قسط وار اور پھر کتابی صورت میں شائع ہوا۔[2]

مقبرۂ صادق ہدایت، پرلاشز قبرستان پیرس

ہدایت کو فرانس ایک تعلق خاطر تھا چنانچہ 1950ء میں وہ دوبارہ پیرس جا پہنچے۔ ان کے مزاج میں ایک مستقل خلش اور گہری قنوطیت شروع سے تھی۔ زندگی سے نفرت کا جذبہ روز بروز شدید سے شدید تر ہوتا چلا گیا اور غمِ روزگار سے نجات کا راستہ انہیں حقائق سے مردانہ وال مقابلے کے بجائے ہتھیار ڈالنے میں نظر آیا اور اور یہ جاں گسل احساس ان کے افسانوں کا مستقل موضوع بن گیا۔ جبکہ پیرس پہنچنے کے بعد یہ جنون آمیز فلسفہ اس حد تک غالب آگیا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ اپنے ہاتھوں سے کر لیا۔[2]

ہدایت نے اپنی تیس سے زیادہ تصانیف چھوڑی ہیں جو ایران کے جدید ادب میں ایک منفرد اور ممتاز مقام رکھتی ہیں۔ ہدایت نے فارسی افسانے کو ایک نیا شعور اور مزاج دیا۔ انہوں نے عوامی معاشرے کی ترجمانی کی اور ان کے لیے انہی کی زبان کو اپنایا۔ یہ اقدام فارسی نثر میں ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔ ہدایت نے عوامی زبان کو وقار بخشا اور قاری کو عمومی کرداروں کی اہمیت کا احساس دلایا۔ آج فارسی افسانے پر ہدایت کا نقش پوری طرح مسلط ہے۔ ہدایت کی زبان اب فارسی افسانے اور ناول کی زبان بن چکی ہے۔[2]

تخلیقات[ترمیم]

ناول[ترمیم]

افسانہ[ترمیم]

تراجم[ترمیم]

  • پیامِ کافکا
  • میٹافارسس

ڈراما[ترمیم]

  • پروین، دخترِ ساسان
  • افسانۂ افرینش

تنقید[ترمیم]

  • 1923ء - رباعیاتِ حکیم عمر خیام
  • 1924ء - انسان و حیوان
  • 1927ء - مرگ
  • 1941ء - ترانۂ خیام
  • 1941ء داستانِ ناز

سفر نامہ[ترمیم]

  • اصفہان نصفِ جہاں
  • روئے جادۂ نمناک

وفات[ترمیم]

صادق ہدایت نے اپنی زندگی سے تنگ آ کر 4 اپریل 1951ء کو پیرس، فرانس میں خودکشی کرلی۔[1][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 صادق ہدایت، دائرۃالمعارف برطانیکا آن لائن
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 صادق ہدایت، مصنف کا تعارف، اردو ڈائجسٹ-عالمی ادب نمبر، فروری 2011ء، لاہور
  3. صادق ہدایت، ایران چیمبر سوسائٹی