صارف:Abdulrehman jalal puri/ریتخانہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ایک غازی اور جمہور مسلم کی پسپائی تحریر: محمد عبدالرحمٰن جلالپوری

4جنوری2011ء گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اس کی حفاظت پر مامور ممتاز حسین قادری ؒنے قتل کیا کیونکہ سلمان تاثیر نے آسیہ مسیحہ نامی گستاخ رسول کی حمایت کی ،قانون ناموس رسالتﷺ 295-Cکو کالا قانون کہا اور بہت سی ایسی باتیں کہیں جنہیں یقیناً ایک مسلمان برداشت نہیں کرسکتا۔ ممتاز قادریؒ نے قتل کے بعدگرفتاری دے دی ۔ملک میں 295-C کو بدلنے کے بارے میں رائے دینے والے بڑے بڑے دانشور، سیاستدان اور NGO’Sسب خاموش ہوگئے۔ سلمان تاثیر کا جنازہ پڑھنے ،پڑھانے کے لیے کوئی بھی تیار نہ تھا۔ ایک گمنام کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے جنازہ پڑھایا لیکن جنازہ پڑھانے کے بعد سے اب تک کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے؟

	قوم دونظریات میں تقسیم ہو گئی۔ کچھ نے کھل کر سلمان تاثیر کی حمایت کی اور ممتاز قادری کو قاتل کہا اور یہ سیکولر اذہان تھے۔ دوسرے وہ  جنہوں نے کھل کر ممتاز قادری کی حمایت کی اسے عاشق رسولﷺ، فنا فی الرسولﷺ، جانشین غازی علم الدین شہید علیہ الرحمہ اور ایسے بیشمار القابات سے نوازا اور یہ اہلنست کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی رکھنے والے افراد تھے۔ 

پہلے گروہ نے سلمان تاثیر کو شہید انسانیت کا لقب دیا اورممتاز قادری کی پھانسی کا مطالبہ کیا۔ جب کہ دوسرے گروہ میں سے اکثریت نے ممتاز قادری کی رہائی کا مطالبہ کیا جبکہ کچھ افراد کی رائے تھی کہ ممتاز قادری کو پھانسی تو ہرگز نہیں ہونی چاہیے البتہ اس کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردینا چاہیے کیونکہ اگر اسے پھانسی دی گئی تو لوگ کھلم کھلا گستاخی رسول کے مرتکب ہوں گے اور ان کو روکنے والا کوئی بھی نہیں ہوگا۔ پہلے گروہ کے مطالبے پس پردہ چلتے رہے کسی کو معلوم نہ تھا کہ ان کی حکمت عملی کیا ہے اور اپنی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کیا کوششیں کی جارہی ہیں۔ لیکن دوسرے گروہ میں سے اہلسنت کے چند علماء نے ’’ تحریک رہائی غازی ممتاز قادری ‘‘کا آغاز کیا۔ ’’ظالمو !حیاء کرو غازی کو رہا کرو‘‘ اور ’’جیل کا تالا ٹوٹے گا غازی ہمارا چھوٹے گا‘‘ سمیت کئی نعرے بھی اس تحریک کا حصہ بنے اور کارکنان کے جوش کو گرماتے رہے۔یہ تحریک کبھی عروج پر چلی جاتی تو کبھی مصلحتوں کا شکار ہوجاتی۔ اس تحریک سے لوگوں کے دلوں میں جہاں ممتاز قادری کے ساتھ محبت پیدا ہوئی وہیں سلمان تاثیر کے ساتھ نفر ت میں بھی اضافہ ہوا۔ ساتھ ہی بے شمار ان افراد کو بھی اپنے تنزیہ جملوں سے نوازا گیا جو بظاہر اس تحریک کا حصہ نہ تھے اور ان کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ شاید یہ سلمان تاثیر کے حمایتی اور ممتاز قادری کے مخالف ہیں۔ لیکن دلوں کے بھید تو خدا ہی جانتا ہے۔۔۔۔ یہ تحریک ممتاز قادری کو رہا کروانے میں ناکام رہی کیونکہ29فروری 2016ء کو حکومت پاکستان نے بغیر نوٹس جاری کئے ممتاز قادری کو اڈیالہ جیل میں پھانسی دے کر شہید کر دیا ۔اس پھانسی کی خبر شرق وغرب میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ عوام کی طرف سے حکومت کو برا بھلا کہا گیا اور حکومت کے ساتھ منسلک علماء ومشائخ کو بھی اپنی لعن طعن کا شکار بنایا گیا ساتھ ہی ان علماء ومشائخ سے استعفوں کا مطالبہ کیا گیا۔ یکم مارچ کو لیاقت باغ راولپنڈی میں نماز جنازہ پڑھایا جانا تھا ۔ جنازہ میں پاکستان کے باسیوں کے علاوہ دیار غیر میں مقیم عشاقان مصطفیٰ ﷺکی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ بغیر کسی دوسری رائے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ لاکھوں کے اجتماع میں ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس جنازہ میں اہلسنت کے علاوہ مسلک دیوبند،جماعت اسلامی اور اہل تشیع کے احباب کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی اور سب کی متفقہ رائے تھی کہ غازی ممتاز قادری شہیدعلیہ الرحمہ عاشق صادق ہے۔ اور حکومت کی جانب سے پھانسی دینا غیر اسلامی فعل ہے۔ لیاقت باغ اور اس کے گرد نواح میں موجود لاکھوں افراد سمیت سوشل میڈیا سے منسلک بیشمار عشاقان مصطفیٰ ﷺیہ سمجھ رہے تھے کہ قائدین اہلسنت حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کریں گے۔ حکمرانوں کو احساس دلائیں گے کہ انہوں نے ایک عاشق رسول کو پھانسی دے کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے لیکن ’’ایں خیال محال است ومحال است جنون‘‘ پھانسی کے تقریباً 36 گھنٹے بعد جب نماز جنازہ کا وقت قریب سے قریب آرہا تھا سب کی نظریں قائدین پر جمی ہوئیں تھی شرکاء قائدین کے اشاروں کے منتظر تھے اور ان اشاروں سے بچاؤ کے لیے حکومت یقیناً تدابیر میں مصروف ہوگی لیکن قائدین اسٹیج پر الجھ رہے تھے۔ انہوں نے ان 36 گھنٹوں میں بھی کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا تھا۔ کسی کی رائے تھی کہ اس اجتماع کو ایوان صدر وپارلیمنٹ کی جانب لے جانا چاہیے تو کسی کی رائے پرامن منتشر ہونے کی تھی۔ پاکستانی میڈیا نے پیمرا کے دباؤ کی وجہ سے جنازہ کو لائیو کوریج تو نہ دی لیکن باغ میں موجود شرکاء تو براہ راست قائدین کو الجھتا دیکھ رہے تھے۔ 2بجے جنازہ کی ادائیگی ہونا طے پائی تھی لیکن چار بجے تک کوئی لائحہ عمل نہ طے ہوا اور نہ ہی جنازہ ادا کیا گیا۔ بالآخر غازی ممتاز قادری شہید کے والد کے کہنے پر نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نماز جنازہ کے بعد شرکاء کو پرامن منتشر ہونے کی تلقین کے ساتھ اس باب کو یہاں ہی بند کردیا گیا۔ عوام کے سامنے نہ کوئی لائحہ عمل رکھا گیا نہ ہی حکومت کو کوئی ٹف ٹائم دیا گیا۔ عوام کا پرامن منتشر ہونا یقیناً اہلسنت کے پرامن ہونے کی عکاسی تو کررہاتھا ساتھ ہی ان کی بے بسی کو بھی عیاں کررہا تھا کہ تحریک رہائی کے دوران افرادی قوت نہ ہونے کے باوجود منبر ومحراب پر حکومت وقت کو یہ باور کروایا جاتا رہا کہ جس نےغازی ممتاز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اس کی آنکھ نکال دی جائے گی۔ اگر حکومت نے پھانسی دینے کی غلطی کی تو وہ حکومت کا آخری دن ہوگا۔ حکومت نے ان سب باتوں کے باوجود پھانسی دے دی۔ کسی کی آنکھ نکالی گئی اور نہ ہی حکومت کا آخری دن ہوا۔ان پانچ سالوں کی تحریکوں اور جنازے کی لاجواب شرکت کے بعد بھی ناکامی حاصل ہوئی۔ بزبان شاعراہلنست کا ہر فرد اکابر ین سے سوال کرتا ہے کہ اِدھر اُدھر کی بات نہ کر، یہ بتا قافلہ کیوں لٹا مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں، تیری رہبری کا سوال ہے اتنی بڑی ناکامی کے بعدبھی اکابرین کچھ سمجھے ہوں یا نہ سمجھے ہوں دنیا یہ سمجھ گئی ہے کہ اہلسنت کے پاس درجنوں جماعتیں ہیں۔ ان کے درجنوں امیر، ناظم اور صدر ہیں۔ بڑے بڑے القابات کے حامل علماء ہیں، ہزاروں مریدوں سے دست بوسی کروانے والے مشائخ ہیں ۔ اہلسنت کو اللہ نے افرادی قوت بھی دی، امیر اور ناظم بھی دیئے سب کچھ ہونے کے باوجود ان کے پاس ایک کمی تھی اور وہ کمی ایک مخلص قائد کی تھی۔

اگر ان کے پاس کوئی قائد ہوتا تو وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور تدابیروں کے ساتھ حکومت کو ایسا انتہائی قدم ہی نہ اٹھانے دیتا اور اگر حکومت ایسا کر ہی بیٹھتی تو یقیناً اس کے لیے پچھتاوہ بن جاتا۔ لیکن قائد نہ ہونے کی وجہ سے جہاں ایک بڑی تحریک ناکام ہوئی ، غازی ممتاز حسین کو پھانسی دے دی گئی اور حکومت کا بال بھی بیکا  نہ ہوا وہاں ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ اس تحریک کو چلانے والے علماء آپس میں ہی  الجھ پڑے۔ اہلسنت میں پہلے ہی اتحاد کا فقدان تھا۔ اس تحریک کے بعد وہ علماء جو آپس میں ہم خیال تھے ان میں بھی اختلافات نے جنم لیا ۔ 

ان حالات میں اہلسنت کی دو شخصیات کا تذکرہ نہ کیا جائے تو یقیناً خیانت ہوگی۔ امام اہلسنت امام الشاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے حاکم وقت کے لیے ایسے حالات پیدا کردیئے تھے کہ وہ قادیانیوں اور اس کے جملہ گروپوں کو آئین پاکستان میں کافر تحریر کرے۔ اور 2006ء میں جب پرویز مشرف نے ناموس رسالت کے قانون کو بدلنے کی کوشش کی تو شہید پاکستان ڈاکٹر سرفراز نعیمی علیہ الرحمہ نے ’’تحفظ ناموس رسالتﷺمحاذ‘‘ نام سے نہ صرف ایک محاذ قائم کیا بلکہ ایک ایسی تحریک چلائی کہ پرویز مشرف نے باوجود فوجی آمر ہونے کے اپنی اس کوشش کو ختم کیا اور ناموس رسالت ﷺ کے قانون کو بدلنے کی ساری پالیسیاں ختم کردیں۔ آج اگر ان دونوں قائدین میں سے کوئی ایک یا ان جیسی صلاحیتوں کا مالک ہوتا تو اولاً یہ تحریک کامیاب ہوجاتی اور اگر بالفرض کامیاب نہ بھی ہوتی تو حکومت کو اپنے کیے پر پچھتاوا ضرور ہوتا اور اس کے ازالے کے لیے اس نے اب تک آسیہ مسیحہ اور اس کی طرح پابند سلاسل گستاخان رسول کو کیفرکردار تک پہنچا دیا ہوتا۔کیونکہ یہ دونوں شخصیات اقبال کے اس شعر کا مصداق تھے کہ بتان رنگ وبو کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا نہ تو رانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی سوشل میڈیا کے ذریعے یہ بات پتا چلی کہ لاہور کے کچھ علماء نے راولپنڈی کے علماء کے بارے میں کہا کہ وہ بک چکے ہیں اور ایسا ہی حال سمت مخالف سے ہے۔ وہ عوام جو پہلے ہی اسلام سے دور جارہی تھی۔ غازی ممتاز حسین قادری کے جنازے نے انہیں ایک جگہ جمع کیا۔ ان کے خیالات کو ملایا۔ سب نے سوشل میڈیا پر بھی اپنی پروفائل تصویر پر غازی ممتاز کی تصویر کو لگا لیا۔ لیکن علماء کے باہمی اختلافات نے ان کو پھر سے بیزار کردیا اور اس کا واضح ثبوت سوشل میڈیا پر موجود ایسی پوسٹوں سے لگایا جاسکتا ہے جس میں علماء کو گالم گلوچ کیا جارہا ہے۔ علماء پران گنت الزامات علماء پر لگائے جارہے ہیں جبکہ الزامات لگانے والے چند دن پہلے انہی علماء کی دست بوسی کرتے تھے اور ان کو امیر کارواں اور ناجانے کیا کیا سمجھتے تھے۔ میں اس ساری صورتحال کا ذمہ دار ان لیڈران کو سمجھتا ہوں جنہوں نے ایک بڑی تحریک کے لیے ناقص اور وقتی پالیسیاں بنائیں جس سے اسلام اور بالخصوص اہلسنت کا نقصان ہوا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ رہائی کی تحریک چلانے سے پہلے تمام علماء ومشائخ کو مختلف شہروں میں جمع کیا جاتا ان سے میٹنگز کی جاتیں ان کو اعتماد میں لے کر اپنی تحریک کا حصہ بنایا جاتا۔ رہائی کا سہرا اپنے سر سجانے کی بجائے پوری اہلسنت کے سر سجایا جاتا تو یقیناً یہ سہرا اہلسنت کے سر سج بھی جاتا اور کسی کی ہمت نہ ہوتی کہ قانون ناموس رسالت کے بارے میں زبان درازی کرے۔ خیر غلطی درغلطی سے ہم نے کافی نقصان اٹھا لیا اور ابھی تک کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا اور اگر غازی صاحب کے چہلم تک ایسا ہی چلتا رہا تو پھر وہ وقت دور نہیں جب پیران عظام کو دست بوسی کے لیے مریدنہیں ملیں گے اور نہ ہی لیڈران کو جماعت چلانے کے لیے کوئی کارکن۔ چاہیے کہ گزشتہ غلطیوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آپس کے اختلافات کو بھول کر ایک حکمت عملی اپنائی جائے کہ آسیہ مسیحہ (جس کے بارے میں سنا جا رہاہے اسے چند روز میں فرانس یا یورپ کے کسی ملک میں باعزت بھیجا جارہا ہے ) سمیت فیصلہ یافتہ گستاخان رسول جو صرف رحم کی اپیلوں کے منتظر ہیں کو کیسے تختہ دار تک پہنچایا جائے۔ اور اگر ابھی بھی آپس کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر تحفظ ناموس رسالتﷺ کے لیے ایک جگہ پر جمع نہ ہوئے تو یقیناً آسیہ مسیحہ سمیت تمام گستاخان رسول کو بیرون ملک بھیج دیا جائے گا اور ہم پہلے کی طرح ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ غازی ممتاز حسین قادری نے اپنی زندگی میں اس بات کو ثابت کیا اور بعد مرنے کےدنیا پر عیاں بھی کیا کہ کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم بھی تیرے ہیں